تاریک وفاداری

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان صرف اندھیرے میں قبول کرتا ہے، لیکن روشنی کی پہلی کرن پھوٹتے ہی ان سے دامن چھڑا لیتا ہے۔ رات بھی ایک ایسا ہی آفاقی استعارہ ہے۔۔ایک ایسا کڑوا سچ، جو روزانہ وجود کی لامتناہی گہرائیوں سے نکل کر سامنے آتا ہے، مگر سماج اسے صرف تھکن اتارنے کا ایک عارضی بستر سمجھ کر برتتا ہے۔ دن کی چکا چوند میں ہم جس “تہذیب” اور “شائستگی” کا لبادہ اوڑھتے ہیں، وہ اصل میں رات کے اس تاریک سچ سے فرار کی ایک ناکام کوشش ہے۔
اسی عارضی مصلحت پسندی کے بطن سے ایک ایسے رویے کی بنیاد پڑتی ہے جہاں انسانی شعور اپنی ذات کے تاریک گوشوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو جاتا ہے، اور یہیں سے وجود کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جسے ہم سچائی سے فرار اور دن کی منافقت کا نام دیتے ہیں۔
انسانی شعور کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی تنہائی اور باطنی خوف کا علاج تو اندھیرے کے سکوت میں ڈھونڈتا ہے، مگر جیسے ہی صبح کا سورج بیدار ہوتا ہے، وہ اس پناہ گاہ کو اس طرح فراموش کر دیتا ہے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ یہ ایک وجودی منافقت ہے؛ ایک ایسی بیگانگی جس میں انسان اپنے ہی باطن کے تاریک حصے کو دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ رات جس نے اسے اپنے سینے سے لگا کر سکون دیا تھا، دن کے اجالے میں ایک رد کی ہوئی شے بن جاتی ہے، جس کا ذائقہ روح کے کسی نہاں خانے میں ایک کڑواہٹ بن کر رقص کرتا رہتا ہے۔
انسان کے اس رویے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ حقیقت جسے وجود کی تسکین ہونا چاہیے تھا، اب دن کے اجالے میں ایک آوارہ وجود بن کر کائنات کے سرد و گرم جھیلنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔
جب روشنی کا غلبہ ہوتا ہے، تو یہ کائناتی سچائی ایک ایسی مظلوم ہستی کی طرح گلی کوچوں میں بھٹکنے پر مجبور ہو جاتی ہے جسے ہر کوئی اپنے مصلحتی وجود سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ وہ دن بھر روشنی کے تھپیڑے کھاتی ہے، کبھی کسی پرانی دیوار کے سائے میں پناہ لیتی ہے اور کبھی بادلوں کے پردے میں اپنا چہرہ چھپا کر دنیا کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے۔ کائنات کا یہ تضاد کتنا گہرا ہے کہ جو رات پورے نظام کو اپنی آغوش میں لینے کی سکت رکھتی ہے، اسے دن کے وقت اپنے سر چھپانے کے لیے کسی جھوٹے سائے کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔
لیکن دھتکارے جانے اور سائے کی طرح بھٹکنے کا یہ عمل مستقل نہیں رہتا، کیونکہ فطرت کا اپنا ایک اٹل قانون ہے جو اس عارضی جدائی کو شام ہوتے ہی ایک گہرے وصل میں بدل دیتا ہے۔
تمام تر دھتکار اور بے رخی کے باوجود، کائنات کا یہ تاریک وجود شام ڈھلتے ہی دوبارہ اسی چوکھٹ پر آ کھڑا ہوتا ہے جہاں سے اسے بے آبرو کر کے نکالا گیا تھا۔ یہ اس کی مجبوری نہیں، بلکہ اس کی ازلی فطرت اور وفاداری ہے۔ جب دن بھر کی مادی دوڑ دھوپ سے تھک کر مرد و زن اپنی جھوٹی اناؤں کو تھکا بیٹھتے ہیں، تو یہی رد کی ہوئی حقیقت دوبارہ بیدار ہوتی ہے۔ وہ کائنات کے پہرے دار کی طرح جاگتی ہے اور ہر اس انسان کو اپنے پاس بلاتی ہے جو بھیڑ میں بھی اکیلا ہے۔
اس طرح جب یہ تاریک بستر اپنے دیرینہ شناسوں کو دوبارہ اپنی آغوش میں لیتا ہے، تو یہ محض وقت کا گزرنا نہیں ہوتا بلکہ روح کے ایک ایسے نہاں خانے کا کھلنا ہوتا ہے جہاں مادی دنیا کے سارے جھوٹ دم توڑ دیتے ہیں۔
جب انسان دنیا کی نظروں میں اکیلا اور بھٹکا ہوا ہوتا ہے، تب یہ تاریک رات اس کے ہونٹوں سے بیگانگی اور تنہائی کو چوس لیتی ہے۔ وہ اس کے وجود کے خالی پن کو اپنے مہیب مگر مخلص لمس سے بھر دیتی ہے۔ روشنی جہاں انسان کو مادہ پرستی کے سراب میں مبتلا رکھتی ہے، وہاں یہ اندھیرا انسان کو اس کے “ہونے” کا سچا احساس دلاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ تم چاہے دن کے اجالے میں کتنے ہی معتبر کیوں نہ بن جاؤ، تمہاری اصل حقیقت اسی خاموش، گہری اور ازلی کائنات سے جڑی ہے جسے تم روز صبح اٹھ کر فراموش کر دیتے ہو۔
الغرض، یہ فکری تحریر انسانی وجود کے اسی ازلی تضاد کی پردہ کشائی کرتی ہے جہاں بشر اپنی روح کی حقیقی آسودگی کے مآخذ کو محض اس لیے پسِ پردہ رکھتا ہے، تاکہ دنیا کی مصلحت پسند نگاہوں میں اس کے مصنوعی اجالے کا بھرم قائم رہ سکے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top