رشتوں کا آخری ادب

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہر تعلق کی ابتدا محبت سے نہیں ہوتی، اور نہ ہر تعلق کا اختتام نفرت پر ہونا چاہیے۔ بعض رشتے وقت کی دھوپ میں پروان چڑھتے ہیں، بعض حالات کی بارش میں بھیگتے ہیں، اور بعض تقدیر کے موسم بدلنے پر خاموشی سے اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں۔ مگر کسی تعلق کی اصل عظمت اس کے آغاز میں نہیں، اس کے انجام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ آغاز میں دل بولتا ہے، جبکہ اختتام پر کردار۔
انسان کی تہذیب کا معیار اس کے دوستوں کی تعداد سے نہیں ناپا جاتا، بلکہ اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ وہ اپنے سابقہ تعلقات کے بارے میں کس زبان، کس لہجے اور کس ظرف کا مظاہرہ کرتا ہے۔ محبت کے دنوں میں وفا کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر جدائی کے بعد بھی عزتِ نفس، احترام اور خاموشی کا دامن تھامے رکھنا وہ مقام ہے جہاں صرف بلند کردار لوگ پہنچتے ہیں۔
ہر رشتہ اپنے ساتھ صرف مسکراہٹیں نہیں لاتا، وہ انسان کے راز، اس کی کمزوریاں، اس کے آنسو، اس کی بے بسی اور اس کے اعتماد کے کئی بند صندوق بھی اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ یہ صندوق کسی قانونی معاہدے کے تحت نہیں کھلتے، بلکہ اعتماد کے ہاتھوں بند کیے جاتے ہیں۔ اس لیے جب راستے جدا ہو جائیں تو ان صندوقوں کی چابیاں بھی ضمیر کے حوالے کر دینی چاہییں، بازار کے حوالے نہیں۔
بدقسمتی سے کم ظرف لوگ تعلق ٹوٹنے کے بعد سچ بھی اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ جھوٹ سے زیادہ ظالمانہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ رازوں کو دلیل، کمزوریوں کو تماشا، اور قربتوں کو الزام بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ جو بات کبھی اعتماد کی چھت تلے کہی گئی ہو، وہ اختلاف کی دھوپ میں بھی امانت ہی رہتی ہے۔ امانت کا تعلق، تعلق کے باقی رہنے سے نہیں، کردار کے زندہ رہنے سے ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، محبت صرف ساتھ چلنے کا نام نہیں؛ محبت کا آخری امتحان یہ بھی ہے کہ اگر ساتھ نہ چل سکو تو ایک دوسرے کی عزت کے راستے میں بھی نہ کھڑے ہو۔ کیونکہ بعض اوقات خاموشی وہ دعا ہوتی ہے جو الفاظ کبھی نہیں بن سکتی، اور بعض اوقات خاموش رخصتی وہ آخری احسان ہوتی ہے جو ایک انسان دوسرے پر کر سکتا ہے۔
جو شخص جدائی کے بعد دوسروں کی عزت کا محافظ رہتا ہے، دراصل وہ اپنے کردار کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔ لوگوں کو شاید دوسرا انسان نظر آئے، مگر حقیقت میں ہر لفظ بولنے والے کا تعارف لکھ رہا ہوتا ہے۔ زبان ہمیشہ دوسروں کے بارے میں کم اور اپنے بارے میں زیادہ گواہی دیتی ہے۔
تہذیب کی معراج یہ نہیں کہ ہم تعلق نبھانا جانتے ہوں؛ تہذیب کی معراج یہ ہے کہ ہم تعلق ختم کرنا بھی جانتے ہوں۔ رخصتی کا بھی ایک ادب ہوتا ہے، اور خاموشی کی بھی ایک زبان ہوتی ہے۔ بعض لوگ ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں مگر احترام نہیں چھوڑتے، راستے بدل لیتے ہیں مگر دعائیں نہیں بدلتے، فاصلے اختیار کر لیتے ہیں مگر دوسرے کی آبرو کو اپنی امانت سمجھتے رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے کردار کی خوشبو وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ اور گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
شاید اسی لیے عظیم انسان اپنی زندگی میں صرف محبت کرنا نہیں سیکھتے، بلکہ محبت کو باوقار طریقے سے رخصت کرنا بھی سیکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر ملاقات ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی، مگر ہر جدائی ہمیشہ کے لیے ایک اخلاقی امتحان ضرور بن جاتی ہے۔
کسی تعلق کا سب سے خوبصورت اختتام یہ نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو بھول جائیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بھرم کے محافظ بن جائیں۔ نہ لبوں پر کوئی شکوہ ہو، نہ محفلوں میں کوئی داستان، نہ پیٹھ پیچھے کوئی فیصلہ، نہ اعتماد کی امانت میں کوئی خیانت۔ کیونکہ رشتے ختم ہو سکتے ہیں، مگر شرافت کا کوئی اختتامی باب نہیں ہوتا۔
آخرکار انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ اس نے کتنے تعلق بنائے، بلکہ یہ ہے کہ اس نے کتنے ٹوٹے ہوئے تعلقوں کی عزت بچائی۔ یہی ظرف کا نقطۂ عروج ہے، یہی انسانیت کا اعلیٰ ترین مقام، اور یہی وہ خاموش عظمت ہے جسے تاریخ نہیں لکھتی، مگر خدا ضرور محفوظ رکھتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top