اخلاق کی زمین سے وحی کے آسمان تک

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان نے جب سے اپنے وجود کی آنکھ کھولی ہے، تب سے ایک سوال اس کے شعور کے افق پر روشن ہے: خیر کیا ہے اور شر کیا؟ کون سا راستہ اسے بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور کون سی راہ اسے اپنی ہی حقیقت سے دور کر دیتی ہے؟ یہی سوال انسانی فکر کے طویل سفر کا نقطۂ آغاز بنا، اور اسی تلاش نے دو بڑے راستے پیدا کیے؛ ایک وہ جو انسان کی عقل، تجربے اور اجتماعی شعور کی زمین سے پھوٹا، اور دوسرا وہ جو آسمان کی وسعتوں سے اتر کر انسان کو اس کے خالق سے جوڑتا ہے۔
پہلا راستہ اخلاقیات کا ہے؛ ایک ایسی روشنی جو انسانی عقل کے چراغ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ روشنی معاشروں کو نظم دیتی ہے، انسانوں کے درمیان عدل، ہمدردی، صداقت اور احترام کے اصول قائم کرتی ہے۔ اخلاقیات انسانی زندگی کے ظاہری سفر کو خوبصورت بناتی ہیں، نفرتوں کو کم کرتی ہیں اور تہذیب کے چراغ کو روشن رکھتی ہیں۔ لیکن یہ چراغ، اپنی تمام تر روشنی کے باوجود، انسانی شعور کی حدوں میں جلتا ہے۔
دوسرا راستہ دین کا ہے؛ وہ نور جو انسان کے بنائے ہوئے پیمانوں کا محتاج نہیں، بلکہ اس ذات سے وابستہ ہے جس نے انسان کو، اس کے شعور کو اور پوری کائنات کو وجود بخشا۔ دین صرف یہ نہیں بتاتا کہ انسان کو دوسروں کے ساتھ کیسے رہنا ہے، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان اپنے خالق کے ساتھ اپنے تعلق کو کیسے زندہ کرے۔ وہ صرف زمین پر چلنے کا سلیقہ نہیں دیتا، بلکہ آسمان کی طرف اٹھنے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔
اخلاق انسان کو بہتر انسان بنا سکتا ہے، مگر دین انسان کو اپنے رب کا بندہ بناتا ہے۔ اخلاق معاشرے کے امن کی حفاظت کرتا ہے، مگر دین انسان کے باطن کو ابدیت کے سفر کے لیے تیار کرتا ہے۔ اخلاق انسان کے رویّوں کو سنوارتا ہے، جبکہ دین انسان کے اندر کے اندھیروں کو بھی روشنی عطا کرتا ہے۔
گناہ کا تصور صرف کسی سماجی قانون کی خلاف ورزی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس تعلق میں دراڑ کا نام ہے جو بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہے۔ جب انسان اپنی خواہش کو حق کا معیار بنا لیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنے نفس کا غلام بننے لگتا ہے۔ بندگی کا کمال یہ نہیں کہ انسان اپنی پسند کے مطابق خدا کو مانے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی پسند کو خدا کی رضا کے تابع کر دے۔
انسانی عقل عظیم نعمت ہے، مگر اس کی اپنی ایک حد ہے۔ وہ کائنات کے بہت سے راز دریافت کر سکتی ہے، مگر ہر راز کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ وہ ستاروں تک پہنچ سکتی ہے، مگر روح کے سفر کی تمام منزلیں نہیں دیکھ سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وحی انسان کی رہنمائی کرتی ہے؛ جہاں عقل حیرت سے رک جاتی ہے، وہاں الٰہی ہدایت راستہ دکھاتی ہے۔
دین کی عظمت یہی ہے کہ وہ اخلاق کو رد نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے اندر جذب کر کے اسے ایک بلند تر مقصد عطا کرتا ہے۔ دین کا اخلاق صرف انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اسے اللہ کی رضا، جواب دہی، آخرت اور روحانی ارتقا سے جوڑ دیتا ہے۔ یوں ایک اچھا عمل صرف معاشرتی فائدہ نہیں رہتا، بلکہ عبادت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔
اسی حقیقت کا سب سے حسین مظہر “توبہ” ہے۔ توبہ صرف آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا نام نہیں، نہ صرف ماضی پر افسوس کرنے کا۔ توبہ تو اپنے نفس کے تخت سے اتر کر اللہ کی رضا کے سامنے جھک جانے کا نام ہے۔ یہ اپنے اندر چھپی ہوئی خود پسندی، ریا، غرور اور خواہشات کے بتوں کو توڑ کر اپنے اصل مرکز کی طرف لوٹ آنے کا سفر ہے۔
انسان کبھی کبھی ایسے اعمال کو نیکی سمجھ لیتا ہے جنہیں دنیا داد دیتی ہے، مگر جن میں اخلاص کی روح نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ کے ہاں عمل کی خوبصورتی صرف اس کے ظاہر میں نہیں، بلکہ اس نیت میں بھی ہوتی ہے جو اسے جنم دیتی ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل اگر خلوص سے بھر جائے تو آسمانوں تک پہنچ جاتا ہے، اور ایک بڑا عمل اگر انا کا لباس پہن لے تو اپنی روح کھو دیتا ہے۔
سچی توبہ دراصل انسان کا اپنے آپ سے فرار نہیں، بلکہ اپنے اصل کی طرف واپسی ہے۔ یہ مٹی کے وجود کو اس حقیقت کا احساس دلاتی ہے کہ وہ صرف مٹی نہیں، بلکہ اس امانت کا حامل ہے جسے خالق نے شعور، اختیار اور ہدایت کے ساتھ عطا کیا ہے۔
آخرکار انسان کی حقیقی عظمت اس میں نہیں کہ وہ صرف اچھا دکھائی دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن دونوں کو حق کے نور سے منور کرے۔ اخلاق اسے انسانوں کے درمیان محترم بناتے ہیں، اور دین اسے اپنے رب کے قریب لے جاتا ہے۔
خوش نصیب ہے وہ انسان جو اخلاق کی خوبصورتی کو دین کی روشنی میں پروان چڑھائے؛ جو دل میں نرمی، عمل میں اخلاص اور روح میں بندگی پیدا کرے۔ کیونکہ زمین کی تمام خوبصورتیاں ایک دن ختم ہو جائیں گی، مگر وہ تعلق باقی رہے گا جو انسان نے اپنے خالق کے ساتھ سچائی، عاجزی اور محبت سے قائم کیا ہوگا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top