(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کبھی فرصت ملے تو میرے پاس آنا—
مگر یوں نہیں کہ مجھے تسلی دینے آؤ،
بلکہ یوں کہ میرے اندر جو کچھ برسوں سے خاموش پڑا ہے، اسے سن سکو۔
میں تمہیں اپنے زخم دکھانا نہیں چاہتا؛
زخم دکھائے نہیں جاتے، ان کے گرد پھیلی ہوئی خاموشی پڑھی جاتی ہے۔
کچھ ضربیں جسم پر نہیں لگتیں، وہ انسان کے یقین پر پڑتی ہیں۔ پھر آدمی برسوں زندہ رہتا ہے مگر اس کے اندر کا ایک موسم اسی لمحے میں منجمد رہتا ہے جس لمحے اسے پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا۔
میرے اندر بھی کچھ ایسے موسم ہیں
جن پر وقت کی کوئی دھوپ اثر نہیں کرتی۔
تم کبھی میرے لہجے کو غور سے سننا،
تمہیں لفظوں کے درمیان کئی ایسی صدائیں ملیں گی جو کبھی زبان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
کچھ دکھ بولنے سے پہلے ہی بوڑھے ہو جاتے ہیں؛
وہ آنکھوں میں رہتے ہیں، سانسوں میں اترتے ہیں، عادتوں کا حصہ بن جاتے ہیں، اور ایک دن انسان کو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دکھ نہیں، خود اس کی شخصیت کا کوئی فراموش شدہ عضو ہوں۔
میرے وجود کو چھونے کی کوشش مت کرنا،
یہاں بہت کچھ ایسا ہے جو باہر سے سلامت دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے مدتوں پہلے ٹوٹ چکا ہے۔
ٹوٹنے کے بعد ہر چیز دوبارہ بن سکتی ہے،
صرف وہ یقین نہیں بنتا جو ایک بار کسی کے ہاتھوں مر جائے۔
اور شاید تم بھی ایسے ہی ہو۔
اسی لیے تو ہمارے درمیان قربت کے باوجود ایک فاصلہ ہمیشہ زندہ رہا۔
ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر شاید سمجھنے کے لیے صرف محبت کافی نہیں ہوتی؛
دو انسانوں کو ایک دوسرے کے موسم بھی ورثے میں ملنے چاہئیں۔
تمہارے دکھ کی زبان الگ تھی، میرے صبر کا لہجہ الگ۔
تم جسے خاموشی سمجھتے رہے، وہ میرے اندر شور تھا؛
اور میں جسے بے نیازی سمجھتا رہا، شاید وہ تمہاری اپنی شکست تھی۔
ہم نے ایک دوسرے سے بہت کچھ چاہا،
مگر شاید ایک دوسرے کو وہ چیز نہ دے سکے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی:
ایک ایسا مقام جہاں دونوں اپنی اپنی شکست کے ساتھ بے خوف بیٹھ سکیں۔
اب اگر کبھی میرے قریب آؤ تو روشنی ساتھ مت لانا۔
ہمیں ایک دوسرے کے چہرے نہیں، اندر کے اندھیرے دیکھنے ہیں۔
کیونکہ بعض حقیقتیں روشنی میں نہیں کھلتیں؛
وہ اس وقت سامنے آتی ہیں جب انسان اپنی آنکھوں سے دوسروں کو دیکھنا چھوڑ کر اپنے اندر اترتا ہے۔
وہاں تمہیں معلوم ہوگا کہ ہر تنہائی تنہا ہونے کا نام نہیں،
کچھ تنہائیاں تو ہجوم میں جنم لیتی ہیں۔
اور بعض لوگ ساری عمر کسی ایک شخص کے قریب رہ کر بھی اس تک نہیں پہنچ پاتے۔
شاید ہم بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔
ہم ایک دوسرے کے لیے ایک ایسا سوال تھے
جس کا جواب دونوں کے پاس تھا، مگر کسی کے پاس وہ زندگی نہیں تھی جس میں اس جواب کو جیا جا سکتا۔
اس لیے اب نہ کوئی شکایت باقی رکھو، نہ کوئی الزام۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر تعلق کو انجام تک پہنچایا جائے۔
کچھ رشتے منزل بننے کے لیے نہیں آتے؛
وہ صرف اتنا سکھانے آتے ہیں کہ دل کی سرزمین کہاں نرم ہے، کہاں بنجر، کہاں زرخیز اور کہاں ایسی کہ وہاں دوبارہ کبھی قدم نہیں رکھنا چاہیے۔
ہماری راہیں شاید واقعی نہیں ملیں گی۔
اور اس اعتراف میں شکست نہیں، ایک عجیب سی نجات ہے۔
کیونکہ محبت کا آخری کمال ہمیشہ وصل نہیں ہوتا؛
کبھی کبھی محبت اپنی سب سے پاک صورت میں یہ مان لینے کا نام بھی ہے کہ
جسے ہم دل سے چاہتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہماری زندگی کے لیے درست بھی ہو۔
کچھ لوگ ہماری روح میں چراغ جلا کر چلے جاتے ہیں،
مگر ان کے ساتھ رہنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ ہمیں توڑ کر یہ سکھاتے ہیں کہ خود کو دوبارہ کیسے بنایا جاتا ہے۔
اور کچھ لوگ صرف اس لیے ملتے ہیں کہ ہمیں یہ سمجھ آ جائے:
ہر گہری وابستگی منزل نہیں ہوتی،
کچھ وابستگیاں انسان کو اس کی اپنی طرف واپس بھیجنے کے لیے ہوتی ہیں۔
سو، اگر کبھی پھر سامنا ہو
تو مجھے اپنا بنانے کی کوشش مت کرنا۔
بس اتنا کرنا—
ایک لمحے کے لیے رکنا،
میری آنکھوں میں دیکھنا،
اور خاموشی سے یہ تسلیم کر لینا کہ
ہم ایک دوسرے کے زخموں کو چھو تو سکتے تھے،
مگر ان کا علاج نہیں تھے۔
ہم ایک دوسرے کو یاد تو رہ سکتے ہیں،
مگر ایک دوسرے کی زندگی نہیں۔
اور شاید یہی ہماری محبت کی آخری سچائی ہے:
ہم ایک دوسرے کے زخموں کا مقدر تھے،
منزل نہیں۔
