(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کائنات میں شاید کوئی طاقت بے لگام پیدا نہیں ہوتی۔ ہر قوت کے سامنے کوئی نہ کوئی حد کھڑی ہوتی ہے—دریا کے سامنے کنارا، سمندر کے سامنے ساحل، آگ کے سامنے ظرف، ہوا کے سامنے دیوار، اور انسان کے اندر خواہش کے سامنے ضمیر۔
ہم اکثر حد کو رکاوٹ سمجھتے ہیں، حالانکہ بہت سی حدیں دراصل حفاظت ہوتی ہیں۔ اگر سمندر کو ساحل نہ ملے تو وہ اپنی وسعت کے باوجود زندگی کا محافظ نہیں رہتا؛ تباہی بن جاتا ہے۔ اگر آگ کو ظرف نہ ملے تو وہ حرارت نہیں دیتی، سب کچھ بھسم کر دیتی ہے۔ اگر زبان کے سامنے ضمیر نہ ہو تو لفظ اظہار نہیں رہتے، زخم بن جاتے ہیں۔
یہی راز انسان کے باطن میں بھی چھپا ہوا ہے۔
ایک خاموش شخص کو دیکھ کر ہم فوراً فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ کمزور ہے۔ ہمیں کیا معلوم کہ اس نے اپنے اندر کتنے طوفان باندھ رکھے ہیں۔ ایک ماں برسوں اولاد کی تلخیاں سہتی ہے، ایک باپ اپنی خواہشوں کو خاندان کی ضرورتوں کے نیچے دفن کرتا رہتا ہے، ایک مظلوم بار بار معاف کرتا ہے، ایک سچا انسان کئی مرتبہ جھوٹ کے ہجوم میں تنہا کھڑا رہتا ہے۔ دنیا اسے خاموش دیکھتی ہے اور اس خاموشی کو شکست سمجھ لیتی ہے۔
حالانکہ خاموشی کبھی کبھی طاقت کی آخری تہذیب ہوتی ہے۔
دریا بھی ہر لمحہ کنارے کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ بہتا ہے، مڑتا ہے، پتھروں سے ٹکراتا ہے، راستہ بدلتا ہے، مگر اپنی روانی کو ضبط میں رکھتا ہے۔ لیکن جب بارشیں حد سے بڑھ جائیں اور پانی کو روکنے والی لکیر کمزور پڑ جائے تو وہی دریا اپنے راستے سے نکل کر بستیوں کو بتاتا ہے کہ جسے تم سکون سمجھ رہے تھے، وہ دراصل ایک عظیم قوت کا ضبط تھا۔
انسان بھی جب اپنی آخری حد تک پہنچتا ہے تو ہمیشہ شور نہیں کرتا۔
کبھی وہ صرف ایک جملہ کہتا ہے: اب کافی ہے۔
اور اس مختصر جملے کے پیچھے برسوں کی خاموشی، برداشت، آنسو، دعائیں اور ٹوٹتے ہوئے حوصلے کھڑے ہوتے ہیں۔
تاریخ میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ تلواروں کے شور سے نہیں آئیں۔ کبھی ایک انسان کا انکار کافی ہوا، کبھی ایک سچ نے پورے جھوٹے نظام کو بے نقاب کر دیا، کبھی ایک غلام نے اپنے اندر آزادی کا تصور پیدا کر لیا اور پھر زنجیریں صرف لوہے کی رہ گئیں۔
بیج کو دیکھیے۔ وہ مٹی کے نیچے دفن ہوتا ہے۔ بظاہر اسے زمین نے قید کر رکھا ہے، مگر اسی تاریکی میں وہ اپنی اصل قوت جمع کرتا ہے۔ ایک دن وہ مٹی کو چیر کر باہر آتا ہے۔ مٹی اس کی دشمن نہیں تھی؛ وہ اس کے ظہور کا مرحلہ تھی۔
اسی طرح زندگی کی ہر رکاوٹ تمہاری دشمن نہیں ہوتی۔ کچھ رکاوٹیں تمہیں توڑنے نہیں، تمہیں بنانے آتی ہیں۔ کچھ بند دروازے تمہیں محروم کرنے نہیں، تمہارے اندر وہ طاقت پیدا کرنے آتے ہیں جس کے ساتھ تم کسی دن اپنا دروازہ خود کھول سکو۔
مگر یہاں ایک اور راز بھی ہے۔
طاقت کا کمال حد توڑ دینا نہیں؛ اپنی طاقت کے باوجود حد کا احترام کرنا ہے۔
جو شخص ہر بات پر پھٹ پڑے، وہ طاقتور نہیں، بے اختیار ہے۔ جو ہر ظلم پر خاموش رہے، وہ بھی ہمیشہ صابر نہیں؛ کبھی وہ اپنے خوف کا قیدی ہوتا ہے۔ اصل قوت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں انسان جانتا ہو کہ کب برداشت کرنا ہے اور کب کھڑا ہونا ہے، کب خاموش رہنا ہے اور کب ایک لفظ پوری خاموشی سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
چراغ کبھی سورج بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ صرف اپنے حصے کا اندھیرا کم کرتا ہے۔ مگر یہی چھوٹی سی روشنی اندھیرے کی مکمل بادشاہت کو جھٹلا دیتی ہے۔
شاید انسان کا کام بھی یہی ہے۔
دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر کی آگ کو روشنی بنانا، اپنے غصے کو شعور دینا، اپنی طاقت کو رحم دینا، اپنی خاموشی کو معنی دینا اور اپنی آواز کو سچ کے تابع کرنا۔
کیونکہ جس دن انسان اپنی قوت کا مالک ہو جائے، اس دن اسے کسی کو جلانے کی ضرورت نہیں رہتی؛ اس کی روشنی ہی کافی ہوتی ہے۔
اور شاید زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ طاقتور کمزور کو دبا دیتا ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ کمزور اپنی اندر چھپی ہوئی قوت کو پہچان ہی نہیں پاتا۔
یاد رکھو:
ہر بندش قید نہیں، ہر خاموشی شکست نہیں، ہر برداشت بزدلی نہیں، اور ہر حد کمزوری نہیں۔
کبھی ایک حد پوری کائنات کو متوازن رکھتی ہے۔
اور کبھی وہی حد جب انصاف کے لیے اٹھتی ہے تو رکاوٹ نہیں رہتی۔۔۔
تاریخ کی نئی لکیر بن جاتی ہے۔
