اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بغاوت

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے بڑی غلامی زنجیروں سے نہیں ہوتی؛
وہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب وہ دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنا سیکھ لیتا ہے۔
پھر اسے سچ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی، اسے صرف بتا دینا کافی ہوتا ہے کہ سچ کیا ہے۔ وہ سوال سے گھبرانے لگتا ہے، اختلاف کو بدتمیزی سمجھتا ہے اور اپنے یقین کی حفاظت کو حقیقت کی تلاش پر ترجیح دینے لگتا ہے۔
یہاں سے شعور آہستہ آہستہ مرنے لگتا ہے۔
مگر زندہ روح کا مزاج مختلف ہے۔ وہ کسی بات کو محض اس لیے مقدس نہیں سمجھتی کہ وہ پرانی ہے، اور کسی بات کو محض اس لیے غلط نہیں سمجھتی کہ وہ نئی ہے۔ وہ ہر خیال کو اپنے باطن کی کسوٹی پر رکھتی ہے اور پوچھتی ہے:
میں یہ جانتا ہوں، یا صرف مانتا ہوں؟
یہ میری دریافت ہے، یا میری وراثت؟
یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر انسان کی پوری داخلی دنیا ہلا دیتا ہے۔
کیونکہ جو کچھ ہم “اپنا” سمجھتے ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ ہمیں پیدائش کے ساتھ نہیں، ماحول کے ساتھ ملتا ہے۔ زبان، رسم، نظریات، تعصبات، پسند ناپسند، حتیٰ کہ بعض اوقات خدا کا تصور بھی ہمارے شعور تک پہنچنے سے پہلے ہمارے گرد تشکیل پا چکا ہوتا ہے۔
روحانی بیداری شاید اسی مقام سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے اندر کے وراثتی شور کو پہلی مرتبہ خاموش کرکے دیکھتا ہے کہ اس سب کے پیچھے میں خود کہاں ہوں؟
لیکن یہاں ایک لطیف خطرہ بھی ہے۔
ہجوم سے نکلنے والا شخص کبھی کبھی اپنی آزادی کو بھی ایک نیا ہجوم بنا لیتا ہے۔ وہ روایتی یقین چھوڑ کر اپنی ضد کو عقیدہ بنا لیتا ہے۔ وہ دوسروں کی تقلید سے نکل کر اپنی خواہشات کا مقلد بن جاتا ہے۔ وہ مذہبی تعصب سے آزاد ہو کر فکری تعصب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
اس لیے آزادی کا مطلب ہر چیز کو رد کرنا نہیں۔
آزادی یہ ہے کہ تمہیں نہ ماننے پر مجبور کیا جا سکے، نہ ماننے سے روکا جا سکے۔
تمہارا ذہن اتنا آزاد ہو کہ سوال پوچھ سکے،
اور تمہارا دل اتنا وسیع ہو کہ جواب ملنے پر اپنی رائے بدل سکے۔
اصل روحانی انسان وہ نہیں جو ہر روایت کا دشمن بن جائے؛
وہ ہے جو روایت کو شعور کے بغیر اپنا مالک نہ بننے دے۔
وہ یقین رکھتا ہے، مگر اپنے یقین کو انسانیت سے بڑا نہیں کرتا۔
وہ اختلاف کرتا ہے، مگر اختلاف کو اپنی برتری نہیں بناتا۔
وہ سوال اٹھاتا ہے، مگر سوال کو بھی اپنی انا کا زیور نہیں بناتا۔
اس کے اندر ایک ایسی خاموش جگہ پیدا ہو جاتی ہے جہاں یقین اور سوال ایک دوسرے کے دشمن نہیں رہتے۔
اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی داخلی آزادی ہے۔
کیونکہ کمزور آدمی ہمیشہ کسی سہارے کی تلاش میں رہتا ہے۔۔۔کسی گروہ کا، کسی شخصیت کا، کسی نعرے کا، کسی نظریے کا۔ وہ اپنی ذات کا بوجھ خود اٹھانے سے گھبراتا ہے، اس لیے اپنی ذمہ داری کسی اجتماعی یقین کے حوالے کر دیتا ہے۔
مضبوط انسان اس کے برعکس اپنی روح کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہے۔
اس کا مطلب تنہا ہونا نہیں؛
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہجوم کے بیچ بھی اس کا ضمیر کرائے پر نہیں ہوتا۔
وہ تالیاں سن کر حق نہیں بدلتا،
تنقید سے ڈر کر باطل کو حق نہیں کہتا،
اور اکثریت کو دیکھ کر اپنی بصیرت سے دستبردار نہیں ہوتا۔
اس کی خاموشی بزدلی نہیں ہوتی؛
اس کی تنہائی شکست نہیں ہوتی؛
اس کا سوال بے دینی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی ایک سچا سوال
سو جھوٹے اطمینان سے زیادہ زندہ ہوتا ہے۔
اور کبھی ایک ایسا انسان جو اپنے اندر جھانکنے کی جرأت کر لے، پوری عمر کے موروثی یقینوں سے زیادہ بیدار ہوتا ہے۔
مگر اس بیداری کا آخری ثمر غرور نہیں، تواضع ہے۔
جتنا انسان حقیقت کے قریب جاتا ہے، اتنا ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا علم کتنا محدود ہے۔ اسے اپنے یقین پر اطمینان رہتا ہے، مگر اپنے فہم پر تکبر نہیں رہتا۔
وہ جان لیتا ہے کہ حقیقت کسی جھنڈے، جماعت، نسل، کتاب، زبان یا شخصیت کی جاگیر نہیں۔
حقیقت اتنی وسیع ہے کہ کوئی انسان اسے مکمل طور پر اپنی مٹھی میں بند نہیں کر سکتا۔
شاید اسی لیے روحانی سفر کا سب سے خوبصورت مقام وہ ہے جہاں انسان دوسروں کو بدلنے کی خواہش سے پہلے اپنی نگاہ کو پاک کرنے لگتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے:
میں جسے حق کہہ رہا ہوں، کیا واقعی اسے دیکھ رہا ہوں؟
یا صرف اس لیے حق کہہ رہا ہوں کہ میرے اردگرد سب یہی کہتے ہیں؟
میں جسے غلط سمجھ رہا ہوں، کیا اسے سمجھا بھی ہے؟
یا صرف اس لیے رد کر رہا ہوں کہ وہ “دوسرا” ہے؟
اور سب سے گہرا سوال:
اگر میری تمام شناختیں مجھ سے ایک ایک کرکے لے لی جائیں،
تو ان سب کے پیچھے جو شخص باقی بچے گا۔۔
کیا میں اسے پہچانتا ہوں؟
شاید روحانیت کا سفر وہیں سے شروع ہوتا ہے۔
جب انسان دنیا سے پوچھنا چھوڑ کر
اپنے وجود سے سوال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اور اس لمحے کوئی شیر دھاڑتا نہیں؛
بلکہ انسان کے اندر پہلی بار ایک ایسی خاموشی پیدا ہوتی ہے
جس کے سامنے ہجوم کا پورا شور بے معنی ہو جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top