وہ سرمایہ جو موت بھی نہیں چھین سکتی

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کا ایک عجیب اصول ہے کہ کچھ حقیقتیں صرف خاموشی میں ظاہر ہوتی ہیں۔ دن کی روشنی میں بہت سی چیزیں نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں، لیکن جب ہر طرف تاریکی پھیلتی ہے تو چھپی ہوئی روشنیاں اپنی پہچان کرواتی ہیں۔ ستاروں کی کہانی بھی یہی ہے؛ وہ اندھیرے کے محتاج نہیں ہوتے، مگر اندھیرا انہیں دیکھنے کا موقع ضرور دیتا ہے۔
انسان کی زندگی بھی ایک آسمان کی مانند ہے۔ کبھی اس پر خوشیوں کا اجالا چھایا رہتا ہے، کبھی آزمائشوں کے بادل گہرے ہو جاتے ہیں۔ آسانیوں کے موسم میں انسان اپنی بہت سی صلاحیتوں سے بے خبر رہتا ہے، کیونکہ اسے اپنی طاقت آزمانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ مگر جب حالات ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، راستے دشوار ہو جاتے ہیں اور امیدیں کمزور پڑنے لگتی ہیں، تب انسان کے اندر چھپی ہوئی قوت بیدار ہونا شروع ہوتی ہے۔
مشکلات دراصل زندگی کی وہ خاموش درسگاہ ہیں جہاں انسان اپنے آپ سے ملاقات کرتا ہے۔ وہاں اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف حالات کا نام نہیں، بلکہ ارادے، صبر، حوصلے اور یقین کا مجموعہ ہے۔ جو شخص خوشحالی میں صرف اپنی کامیابی دیکھتا ہے، آزمائش میں اپنی اصل حقیقت پہچانتا ہے۔
اندھیرا ہمیشہ اختتام کی علامت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہی اندھیرا ایک نئے آغاز کا راستہ بناتا ہے۔ بیج بھی مٹی کی تاریکی میں دفن ہو کر ہی درخت بننے کا سفر شروع کرتا ہے۔ موتی بھی گہرے سمندر کی تہوں میں چھپا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی بہترین صلاحیتیں بھی اکثر زندگی کی گہرائیوں میں اتر کر سامنے آتی ہیں۔
بڑی شخصیات کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ان کی چمک کے پیچھے کسی نہ کسی رات کی داستان ضرور ملتی ہے۔ کسی نے تنہائی برداشت کی، کسی نے ناکامیوں کا سامنا کیا، کسی نے لوگوں کی بے اعتنائی سہی، مگر انہی تجربات نے ان کے اندر وہ پختگی پیدا کی جو آرام کی زندگی کبھی عطا نہیں کر سکتی تھی۔
اصل کمال یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی اندھیرا نہ آئے؛ اصل کمال یہ ہے کہ اندھیرے کے باوجود انسان اپنے اندر کا چراغ بجھنے نہ دے۔ کیونکہ باہر کی روشنی ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتی، مگر اندر کی روشنی کو زندہ رکھنا ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔
یاد رکھیے، رات جتنی خاموش اور گہری ہو، صبح کی آمد اتنی ہی قریب ہوتی ہے۔ آزمائشیں اگرچہ انسان کو تھکا دیتی ہیں، مگر یہی تھکن اسے پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ سمجھدار اور زیادہ باوقار بنا سکتی ہے۔
اس لیے زندگی کے تاریک لمحوں سے خوف زدہ نہ ہوں۔ ممکن ہے یہی وہ وقت ہو جب آپ کے اندر چھپی ہوئی کوئی ایسی صلاحیت، کوئی ایسا حوصلہ اور کوئی ایسی روشنی دنیا کے سامنے آنے والی ہو جس کا آپ کو خود بھی ابھی علم نہیں۔
کیونکہ بعض لوگ روشنی میں نہیں پہچانے جاتے، وہ اندھیروں سے گزر کر اپنی پہچان خود بناتے ہیں

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top