(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کو عقل اس لیے نہیں دی گئی کہ وہ پوری کائنات کو اپنی مرضی کے مطابق تراشنے لگے؛ عقل کا اصل کمال تو یہ ہے کہ انسان کائنات کے تنوع کو سمجھ سکے، انسانوں کے اختلاف کو برداشت کر سکے اور ہر وجود کو اس کی اپنی حقیقت کے ساتھ دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرے۔
عقل کا صدقہ یہ ہے کہ جو جیسا ہے، اُسے ویسا تسلیم کر لیا جائے؛ اُسے ہر حال میں اپنے جیسا بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔
یہ تسلیم کرنا کسی کی غلطی، ظلم یا اخلاقی انحراف کو درست قرار دینا نہیں؛ بلکہ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہے کہ ہر انسان ایک الگ مزاج، الگ تجربے، الگ شعور، الگ تربیت اور الگ داخلی کائنات لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔ جس طرح ہر انگلی کا نشان دوسرے سے مختلف ہے، اسی طرح ہر انسان کی روح پر بھی زندگی نے اپنا ایک منفرد نقش ثبت کر رکھا ہے۔
ہماری ایک عجیب نفسیاتی کمزوری ہے کہ ہم محبت بھی اپنی شرائط پر کرتے ہیں اور تعلق بھی اپنی توقعات کے مطابق چاہتے ہیں۔ ہمیں ایسا دوست چاہیے جو ہماری طرح سوچے، ایسا شریکِ سفر چاہیے جو ہماری طرح محسوس کرے، ایسا عزیز چاہیے جو ہماری خواہش کے مطابق برتاؤ کرے۔ پھر جب دوسرا انسان اپنی فطرت کے مطابق سامنے آتا ہے تو ہم اسے “بدلنے” کا منصوبہ شروع کر دیتے ہیں۔
یہیں سے محبت، اصلاح کے نام پر مداخلت بن جاتی ہے؛ تعلق، ملکیت بن جاتا ہے؛ اور خیرخواہی، شخصیت پرستی کی ایک نرم شکل اختیار کر لیتی ہے۔
عقل مند انسان جانتا ہے کہ ہر اختلاف اصلاح طلب نہیں ہوتا۔
کسی کا خاموش ہونا ضروری نہیں کہ غرور ہو، کسی کا زیادہ بولنا ضروری نہیں کہ سطحیت ہو، کسی کا تنہائی پسند ہونا ضروری نہیں کہ بے مروتی ہو، اور کسی کا ہم سے مختلف سوچنا ضروری نہیں کہ وہ غلط سوچتا ہے۔ کبھی کبھی مسئلہ دوسرے انسان میں نہیں، ہماری اس خواہش میں ہوتا ہے کہ دنیا ہماری پسند کے مطابق کیوں نہیں چل رہی۔
دراصل انسان اکثر دوسروں کو نہیں، اپنے تصورِ انسان کو درست ثابت کرنا چاہتا ہے۔
وہ کہتا ہے: “میں تمہیں تمہاری بھلائی کے لیے بدلنا چاہتا ہوں۔”
مگر اس جملے کے اندر کبھی کبھی ایک خاموش تکبر چھپا ہوتا ہے:
“میں جانتا ہوں کہ تمہیں کیسا ہونا چاہیے۔”
اور شاید عقل کی پہلی آزمائش یہی ہے کہ انسان اس “میں جانتا ہوں” کے غرور سے باہر نکل آئے۔
ہر شخص کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش دراصل انسانی تنوع کے خلاف بغاوت ہے۔ باغ کی خوب صورتی اس لیے نہیں کہ اس میں ہر پھول گلاب ہے؛ اس لیے ہے کہ گلاب کے ساتھ چنبیلی بھی ہے، نرگس بھی، موتیا بھی اور کئی ایسے پھول بھی جن کے نام تک ہر شخص نہیں جانتا۔
اگر ہر پھول سے کہا جائے کہ “گلاب بنو”، تو باغ باقی نہیں رہے گا؛ صرف ایک ہی رنگ کا میدان رہ جائے گا۔
انسان بھی ایک باغ ہے۔
کسی میں فلسفہ ہے، کسی میں سادگی؛ کسی میں شور ہے، کسی میں سکوت؛ کوئی جذبات سے سوچتا ہے، کوئی منطق سے محسوس کرتا ہے۔ کسی کے لیے محبت اظہار ہے، کسی کے لیے خاموش وفا۔ کسی کو قربت چاہیے، کسی کو فاصلہ۔ کسی کی زبان تیز ہے مگر دل نرم، کسی کی زبان نرم ہے مگر دل تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔
عقل کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم سب کو ایک جیسا بنا دیں؛ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود انسان کو انسان سمجھ سکیں۔
البتہ یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے۔
تسلیم کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر چیز قبول کر لیں۔
اگر کوئی ظلم کرتا ہے تو اسے ظلم سے روکنا ضروری ہے۔ اگر کوئی فریب دیتا ہے تو اس سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ اگر کوئی تعلق کو زہر بنا دے تو فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی اخلاقی حدود پامال کرے تو خاموش رہنا دانش مندی نہیں۔
لیکن کسی کو روکنے اور اسے اپنے جیسا بنانے میں وہی فرق ہے جو اصلاح اور تسلط میں ہے۔
اصلاح کہتی ہے:
“تمہیں اپنے عمل پر غور کرنا چاہیے۔”
تسلط کہتا ہے:
“تمہیں میرے مطابق ہونا چاہیے۔”
اصلاح آزادی کو محفوظ رکھتی ہے؛ تسلط آزادی چھین لیتا ہے۔
اسی لیے دانائی کا بلند ترین مقام شاید یہ ہے کہ انسان دوسرے کو بدلنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ کہیں اسے اپنی توقعات بدلنے کی ضرورت تو نہیں۔
کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ سامنے والا ہمارے مطابق کیوں نہیں؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اسے کبھی اس کی حقیقت کے ساتھ دیکھا ہی نہیں۔
ہم نے ایک تصور بنایا، اس تصور سے محبت کی، پھر جب اصل انسان سامنے آیا تو ہمیں مایوسی ہوئی۔
محبت کا ایک بالغ درجہ یہ ہے کہ انسان کہہ سکے:
“میں تمہیں سمجھنے کی کوشش کروں گا، تمہیں اپنی مرضی کے مطابق بنانے کی نہیں۔”
یہ جملہ بظاہر معمولی ہے، مگر اس کے اندر انسانی وقار کی پوری فلسفیانہ عمارت کھڑی ہے۔
کیونکہ جو شخص دوسرے کو اس کی حقیقت کے ساتھ قبول کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ دراصل یہ اعلان کرتا ہے کہ:
“تم میری ملکیت نہیں، ایک مستقل وجود ہو۔ تمہاری اپنی روح ہے، اپنی پسند ہے، اپنی خامیاں ہیں، اپنی خوبیاں ہیں اور اپنی ایک الگ داخلی دنیا ہے۔”
اور شاید یہی عقل کا سب سے خوب صورت صدقہ ہے کہ انسان دوسروں پر اپنی شخصیت کا بوجھ نہ ڈالے۔
انہیں سانس لینے دے۔
انہیں اختلاف کرنے دے۔
انہیں اپنی طرح ہونے دے۔
اور اگر ان کی کوئی بات ناقابلِ قبول ہو تو محبت کے نام پر انہیں توڑنے کے بجائے اپنے لیے مناسب فاصلہ اختیار کر لے۔
کیونکہ ہر تعلق کو بچانے کے لیے دوسرے کو بدلنا ضروری نہیں ہوتا؛ بعض تعلقات کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی حقیقت کے ساتھ رہنے دیں۔
زندگی کا کمال یکسانیت میں نہیں، ہم آہنگی میں ہے۔
ساز الگ الگ ہوں تو موسیقی پیدا ہوتی ہے؛ اگر سب ایک ہی سُر بولنے لگیں تو نغمہ نہیں رہتا، صرف تکرار رہ جاتی ہے۔
اسی طرح انسانوں کا اختلاف زندگی کی خرابی نہیں، اس کی وسعت ہے۔
پس عقل مند وہ نہیں جو ہر شخص کو اپنے جیسا بنا لے؛ عقل مند وہ ہے جو اپنے سے مختلف انسان کو دیکھ کر بھی اپنے اندر کی انسانیت کو سلامت رکھ سکے۔
اور شاید عقل کے صدقے کی آخری منزل یہی ہے:
“جو جیسا ہے، اُسے ویسا دیکھو؛
جو غلط ہے، اُسے دلیل سے سمجھاؤ؛
جو ناقابلِ قبول ہے، اُس سے فاصلہ رکھو؛
مگر ہر انسان کو اپنی خواہش کے سانچے میں ڈھالنے کی خواہش سے خود کو آزاد کر لو۔”
کیونکہ دنیا کو ہمارے جیسے انسانوں کی نہیں،
اپنی اپنی حقیقت میں مکمل ہونے والے انسانوں کی ضرورت ہے۔
اور جو شخص یہ راز پا لیتا ہے، وہ دوسروں کو بدلنے کی جنگ سے نکل کر خود کو سمجھنے کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے۔
یہی عقل کی پختگی ہے، یہی ظرف کی بلندی، اور شاید یہی عقل کا سب سے خوب صورت صدقہ ہے۔
