(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی زندگی کا سب سے طویل سفر زمین پر نہیں، اپنے اندر جاری رہتا ہے۔ وہ راستے جن پر قدم دکھائی دیتے ہیں، دراصل ان راستوں کا عکس ہوتے ہیں جو اس نے پہلے اپنے باطن میں طے کیے ہوتے ہیں۔ انسان دوسروں سے جتنا کم اور خود سے جتنا زیادہ گفتگو کرتا ہے، شاید اسے خود بھی اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ بیداری کی پہلی ساعت سے نیند کی آخری دہلیز تک، اس کے اندر کوئی خاموش قلم مسلسل لکھتا رہتا ہے۔
یہ قلم کسی کاغذ پر نہیں چلتا؛ یہ کردار پر چلتا ہے۔
ہم اپنے بارے میں جو کچھ بار بار سوچتے، مانتے اور خود سے کہتے ہیں، رفتہ رفتہ وہی ہماری داخلی حقیقت کا حصہ بننے لگتا ہے۔ ایک شخص اگر ہر صبح اپنے وجود سے یہ کہتا رہے کہ “میں ناکام ہوں” تو دنیا کے دروازے بند ہونے سے پہلے ہی اس کے اندر کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی شخص شکست کے ملبے میں بیٹھ کر بھی اپنے آپ سے کہتا رہے کہ “میں ابھی ختم نہیں ہوا” تو ممکن ہے وہیں سے اس کی نئی زندگی کا آغاز ہو جائے۔
انسان کی بڑی شکست اکثر میدان میں نہیں ہوتی؛ وہ اس لمحے ہوتی ہے جب وہ اپنے دل میں ہار مان لیتا ہے۔
باطن ایک عجیب آئینہ ہے۔ اس میں دنیا ہمیشہ ویسی دکھائی نہیں دیتی جیسی وہ ہے، بلکہ اکثر ویسی دکھائی دیتی ہے جیسے دیکھنے والا اندر سے ہے۔ خوف زدہ دل کو امکانات میں بھی خطرات نظر آتے ہیں، جبکہ پُرامید روح اندھیری رات میں بھی صبح کی ایک لکیر تلاش کر لیتی ہے۔ ایک ہی طوفان کسی کے لیے اختتام بن جاتا ہے اور کسی دوسرے کے لیے بادبان کھولنے کا موقع۔
فرق حالات میں نہیں، اندر کے مکالمے میں ہوتا ہے۔
ہم اکثر تقدیر کو ایک ایسی تحریر سمجھ لیتے ہیں جسے کسی نامعلوم قوت نے لکھ کر ہمارے ہاتھ میں تھما دیا ہے۔ مگر شاید تقدیر کا ایک حصہ وہ بھی ہے جو ہمارے اختیار، ارادے، فیصلوں اور اعمال کے ذریعے ہر روز ہمارے سامنے وجود میں آتا ہے۔ جو کچھ ہمارے اختیار سے باہر ہے، وہ تقدیر ہے؛ لیکن جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے، وہاں ہمارا انتخاب بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان محض حالات کا تماشائی نہیں رہتا، بلکہ اپنی زندگی کا شریکِ مصنف بن جاتا ہے۔
زندگی کبھی ہمیں مکمل کتاب نہیں دیتی؛ صرف چند خالی صفحات ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ کچھ صفحات پر موسم خود لکھتا ہے، کچھ پر حادثات، کچھ پر لوگ، لیکن چند صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر قلم ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہاں ہم چاہیں تو شکایت لکھ دیں، چاہیں تو شکر؛ چاہیں تو خوف، چاہیں تو امید؛ چاہیں تو شکست کا نوحہ، چاہیں تو دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی داستان۔
اصل آزادی شاید یہی ہے کہ انسان اپنے اندر کے قلم کو پہچان لے۔
لیکن مثبت سوچ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حقیقت سے آنکھیں بند کر لے۔ زخم کو پھول کہنا حوصلہ نہیں، زخم کے باوجود چلنے کا ہنر حوصلہ ہے۔ اندھیرے سے انکار روشنی نہیں، اندھیرے میں چراغ جلانا روشنی ہے۔ زندگی کی دشواریوں کو جھٹلانا دانائی نہیں؛ ان کے درمیان اپنے قدم کا رخ درست رکھنا دانائی ہے۔
بعض اوقات انسان کے پاس حالات بدلنے کی طاقت نہیں ہوتی، مگر حالات کے جواب میں اپنا رویہ بدلنے کی آزادی ضرور ہوتی ہے۔ یہی معمولی سی آزادی کبھی کبھی پوری زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔
اندر کی آواز اسی مقام پر اہم ہو جاتی ہے۔
وہ آواز جو کہتی ہے: “ایک قدم اور۔”
وہ سرگوشی جو شکست کے بعد کہتی ہے: “دوبارہ کوشش کرو۔”
وہ خاموش یقین جو تنہائی میں یاد دلاتا ہے: “تمہاری کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔”
یہ آواز شور نہیں کرتی؛ یہ صرف موجود رہتی ہے۔ کبھی ماں کی دعا کی طرح، کبھی باپ کی نصیحت کی طرح، کبھی کسی استاد کے ایک جملے کی طرح اور کبھی انسان کے اپنے ضمیر کی تہہ میں چھپی ہوئی ایک مدھم روشنی کی طرح۔
اور شاید انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ دنیا اسے یقین دلائے کہ وہ کامیاب ہو سکتا ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے وجود سے یہ عہد کرے کہ وہ کوشش ترک نہیں کرے گا۔
کیونکہ جو شخص اپنے اندر امید کا چراغ بجھنے نہیں دیتا، وہ مکمل تاریکی میں بھی راستہ تلاش کر لیتا ہے۔
ہم اپنی زندگی میں ہر چیز منتخب نہیں کرتے۔ ہمیں اپنی پیدائش کا زمانہ نہیں ملتا، حالات کا انتخاب نہیں دیا جاتا، بہت سے رشتے ہماری مرضی سے نہیں آتے، کئی جدائیاں ہمارے اختیار میں نہیں ہوتیں اور بعض امتحان ہماری اجازت کے بغیر زندگی میں اتر آتے ہیں۔ مگر ان سب کے درمیان ہم یہ ضرور منتخب کر سکتے ہیں کہ ان کے جواب میں ہمارے اندر کیا پیدا ہوگا۔
زہر یا بصیرت۔
شکایت یا شعور۔
مایوسی یا دعا۔
ٹھہراؤ یا سفر۔
یہ انتخاب بظاہر چھوٹا ہے، مگر انسان کی پوری شخصیت اسی سے تشکیل پاتی ہے۔
اس لیے اپنے اندر ہونے والی گفتگو کو معمولی نہ سمجھو۔ ہر روز اپنے دل کے دروازے پر دستک دو اور پوچھو: “آج میں اپنے آپ سے کیا کہہ رہا ہوں؟” اگر جواب میں خوف ہو تو اسے امید سے روشن کرو۔ اگر شکست ہو تو اسے تجربہ سمجھو۔ اگر تنہائی ہو تو اسے اپنے وجود سے ملاقات بنا دو۔ اگر راستہ بند ہو تو یہ بھی دیکھو کہ شاید زندگی کسی اور سمت کا دروازہ کھول رہی ہو۔
اپنے آپ کو مسلسل سزا دینے والا انسان ایک دن اپنے ہی اندر قید ہو جاتا ہے، اور اپنے آپ کو سمجھنے والا انسان آہستہ آہستہ اپنے اندر ایک وسیع آسمان دریافت کر لیتا ہے۔
آخرکار تقدیر صرف وہ نہیں جو ہمارے ساتھ ہوتی ہے؛ تقدیر کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہوتا ہے، ہم اس سے کیا بناتے ہیں۔
ممکن ہے زندگی نے ہمیں قلم دیا ہو اور حالات نے کاغذ۔ ممکن ہے بہت کچھ پہلے سے لکھا ہو، مگر ہر سطر ہمارے اختیار میں نہ سہی، ہر سطر کا جواب ہمارے کردار میں ضرور لکھا جا سکتا ہے۔
سو اپنے اندر کے کاتب کو جگاؤ۔
ایسا جملہ مت لکھو جو تمہاری روح کو توڑ دے۔ ایسی سوچ کو گھر مت دو جو تمہیں اپنے ہی وجود سے بیگانہ کر دے۔ اپنے باطن میں ایک ایسا چراغ رکھو جو کامیابی میں غرور نہ بنے اور شکست میں بجھے نہیں۔
کیونکہ انسان کی اصل فتح اس دن شروع نہیں ہوتی جب دنیا اسے کامیاب کہتی ہے؛
وہ اس دن شروع ہوتی ہے جب انسان تنہائی میں، اپنے ہی دل کے سامنے، پہلی مرتبہ یہ کہتا ہے:
“میں ابھی باقی ہوں۔۔۔ اور جب تک میں باقی ہوں، امکان بھی باقی ہے۔”
