(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی زندگی میں کچھ واقعات صرف واقعات نہیں ہوتے، وہ اس کے باطن میں نشان چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک لغزش کبھی حادثہ ہوتی ہے، مگر ہر بار کی لغزش حادثہ نہیں رہتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان اپنے اعمال کو دہراتا نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تشکیل دیتا ہے۔
پہلی بار انسان غلطی کرتا ہے تو شاید اسے حالات کا دھوکا، کم تجربگی یا لمحے کی کمزوری کہا جا سکتا ہے۔ انسان خطا سے پاک نہیں؛ اصل انسانیت یہ نہیں کہ آدمی کبھی نہ گرے، بلکہ یہ ہے کہ گرنے کے بعد اپنی سمت پہچان لے۔
مگر جب وہی قدم دوبارہ اسی گڑھے کی طرف اٹھے تو معاملہ بدل جاتا ہے۔ اب زندگی اسے پہلے ہی خبردار کر چکی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آگ جلاتی ہے، پھر بھی ہاتھ بڑھاتا ہے۔ یہیں غلطی اور انتخاب کے درمیان ایک باریک لکیر کھنچ جاتی ہے۔ پہلی لغزش شاید بے خبری تھی، دوسری میں علم شامل ہو جاتا ہے۔
اور پھر تیسری بار…
تیسری بار وہی عمل محض ایک واقعہ نہیں رہتا؛ وہ انسان کے مزاج پر دستک دینے لگتا ہے۔ جو چیز بار بار دہرائی جائے، وہ آہستہ آہستہ ارادے سے عادت، عادت سے مزاج، اور مزاج سے کردار بن جاتی ہے۔ پھر لوگ آپ کو آپ کی باتوں سے نہیں، آپ کے مسلسل رویّوں سے پہچاننے لگتے ہیں۔
اسی لیے انسان کی اصل پہچان اس کے بڑے بڑے دعوے نہیں، اس کے بار بار کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے انتخاب ہیں۔ زبان کچھ بھی کہتی رہے، کردار آخرکار وہی بیان کرتا ہے جو انسان مسلسل کرتا ہے۔
لیکن اس اصول میں ایک امید بھی چھپی ہوئی ہے۔
اگر تکرار برائی کو عادت بنا سکتی ہے تو نیکی کو بھی کردار بنا سکتی ہے۔ ایک بار صبر، ایک بار معافی، ایک بار سچ، ایک بار کسی کا ہاتھ تھام لینا شاید محض ایک اچھا عمل ہو؛ مگر جب یہی روش بار بار زندگی کا حصہ بن جائے تو انسان کی شخصیت میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جسے پھر الگ سے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس لیے زندگی کا سوال یہ نہیں کہ “مجھ سے کتنی غلطیاں ہوئیں؟”
اصل سوال یہ ہے کہ “میں اپنی غلطیوں کے بعد کیا بنتا گیا؟”
کیونکہ انسان کی تقدیر صرف ان حادثات سے نہیں بنتی جو اس کے ساتھ پیش آتے ہیں؛ اس کی شخصیت ان فیصلوں سے بنتی ہے جو وہ ان حادثات کے بعد کرتا ہے۔
پہلی بار پھسل جانا انسان ہونے کی علامت ہے، دوسری بار رک کر سوچنا شعور کی علامت ہے، اور تیسری بار بھی وہیں قدم رکھ دینا اس بات کا اعلان ہے کہ اب مسئلہ راستے کا نہیں، انتخاب کا ہے۔
غلطی انسان سے ہوتی ہے؛ مگر اسے بار بار دہرانا انسان کو بتاتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں کیا فیصلہ کر چکا ہے۔
