دورِ جدید کے مسائل

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کبھی کسی بزرگ نے کہا تھا کہ انسان جب راستہ بھولتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی منزل پر شک نہیں ہوتا، اپنے قدموں پر بھی نہیں ہوتا، وہ صرف اپنی رفتار بڑھا دیتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ شاید تیزی ہی منزل کا دوسرا نام ہے۔ پھر ایک دن وہ بہت دور جا کر جانتا ہے کہ وہ سفر تو کرتا رہا، مگر راستہ کہیں اور مڑ گیا تھا۔
آج کا انسان بھی اسی موڑ پر کھڑا ہے۔
اس نے زمین کی دوریاں ختم کر دیں، لیکن دلوں کے درمیان ایسی مسافتیں پیدا کر دیں جنہیں کوئی پل عبور نہیں کر سکتا۔ اس نے آسمانوں کو چھو لیا، مگر اپنے اندر اترنے کا ہنر کھو دیا۔ اسے ستاروں کی گردش کا علم ہے، مگر اپنے نفس کی گردش سے بے خبر ہے۔
یہ زمانہ عجیب ہے۔ یہاں ہر شے بول رہی ہے، صرف انسان خاموش ہو گیا ہے۔ بازار بولتے ہیں، اشتہار بولتے ہیں، موبائل کی اسکرین بولتی ہے، خبروں کا شور بولتا ہے، مگر وہ آواز دب گئی ہے جو رات کی تنہائی میں انسان کو اس کے اپنے تعارف سے ملاتی تھی۔
پہلے لوگ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھتے تھے، اب دوسروں کی آنکھوں میں اپنی قیمت تلاش کرتے ہیں۔ تعریف مل جائے تو خوشی، نظرانداز کر دیا جائے تو وجود ہلنے لگتا ہے۔ گویا انسان نے اپنی شناخت اپنے اندر نہیں، دوسروں کی زبان پر رکھ دی ہے۔
عجیب بات ہے کہ سہولتیں بڑھتی گئیں اور برداشت کم ہوتی گئی۔ چیزیں آسان ہوئیں، مگر زندگی مشکل لگنے لگی۔ پہلے سفر لمبے تھے اور دل مطمئن تھے، اب فاصلے مختصر ہیں مگر بے چینی کا کوئی کنارہ نہیں ملتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ تھکن جسم پر نہیں، روح پر اتر آئی ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مشینیں زیادہ ہو گئی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انسان نے اپنے دل کو بھی مشین سمجھ لیا ہے۔ وہ اسے مسلسل چلاتا ہے، مگر کبھی خاموشی میں بٹھا کر یہ نہیں پوچھتا کہ اندر کون رہتا ہے، کون روتا ہے، کون پکار رہا ہے۔
درویش کہا کرتے تھے کہ دنیا کو جیتنے سے پہلے اپنے آپ کو پا لو، کیونکہ جو شخص اپنے اندر ہار جائے، وہ باہر کی ہر فتح کے باوجود شکست خوردہ رہتا ہے۔ آج شاید یہی سبق سب سے زیادہ بھلا دیا گیا ہے۔ ہم نے علم کو معلومات سمجھ لیا، ترقی کو آسائش، اور کامیابی کو دوسروں سے آگے نکل جانے کا نام دے دیا، حالانکہ اصل کامیابی اپنے نفس سے آگے نکل جانے میں تھی۔
دورِ جدید کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں، تنہائی نہیں، یا مصروفیت بھی نہیں۔ اس کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہے، سوائے اس سوال کے کہ “میں کون ہوں، اور مجھے کس طرف جانا ہے؟”
جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا، ہر نئی ایجاد ایک نئی مصروفیت تو دے سکتی ہے، مگر نئی زندگی نہیں۔ دل کا اندھیرا بجلی کی روشنی سے نہیں جاتا۔ روح کی پیاس معلومات کے سمندر سے نہیں بجھتی۔ اندر کی ویرانی کو صرف وہی آباد کرتا ہے جو انسان کو اس کے خالق سے، اس کی حقیقت سے، اور اس کے اپنے وجود سے دوبارہ ملا دے۔
شاید یہی اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ انسان کچھ دیر کے لیے دنیا کی آوازیں بند کرے اور اپنے دل کے دروازے پر دستک دے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس حقیقت کو ہم ساری عمر دنیا میں تلاش کرتے رہتے ہیں، وہ خاموشی سے ہمارے اپنے اندر بیٹھی ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top