(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان سچ سے دور اس لیے نہیں ہوتا کہ سچ بہت پیچیدہ ہے؛ اکثر وہ اس لیے دور ہوتا ہے کہ اس نے اپنے ذہن میں ایک چھوٹا سا محل تعمیر کر رکھا ہوتا ہے اور پھر اسی کو پوری کائنات سمجھ بیٹھتا ہے۔
ہم حقیقت کو تلاش کرنے نکلتے ہیں، مگر راستے میں اپنی پسندیدہ رائے اٹھا لیتے ہیں۔ پھر ہر منظر کو اسی عینک سے دیکھتے ہیں، ہر دلیل کو اسی ترازو میں تولتے ہیں اور ہر اختلاف کو اپنی ذات پر حملہ سمجھنے لگتے ہیں۔
یہیں سے حقیقت کی تلاش، اپنی ذات کے دفاع میں بدل جاتی ہے۔
انسان کے لیے اپنی رائے بدلنا اتنا مشکل نہیں جتنا یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ وہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔
کیونکہ رائے صرف ایک خیال نہیں رہتی؛ آہستہ آہستہ وہ انا کا لباس پہن لیتی ہے۔ پھر کوئی ہماری بات سے اختلاف کرے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے ہمارے وجود کو رد کر دیا ہو۔ ہم دلیل نہیں سنتے، اپنے دفاع کے لیے دلیل ڈھونڈتے ہیں۔
یہ ذہنی قید کی وہ شکل ہے جس میں زنجیر دکھائی نہیں دیتی۔
ایک شخص مذہب کے بارے میں اپنی رائے کا اسیر ہو سکتا ہے، دوسرا بے دینی کے بارے میں اپنی رائے کا؛ ایک شخص اپنی سیاسی سوچ کو حق کا آخری معیار بنا سکتا ہے، دوسرا اپنی علمی قابلیت کو۔ کوئی اپنی نیکی کے تصور میں گرفتار ہے، کوئی اپنی مظلومیت میں، کوئی اپنی کامیابی میں، کوئی اپنی ناکامی میں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ قید خانے الگ الگ ہیں۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ متعصب وہ ہے جو ہم سے مختلف سوچتا ہے، حالانکہ تعصب کی اصل پہچان یہ نہیں کہ انسان کیا مانتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے مانے ہوئے کو دوبارہ پرکھنے کی ہمت رکھتا ہے؟
جو ذہن سوال سے خوفزدہ ہو جائے، وہ علم کا گھر نہیں رہتا، عقیدے کا قلعہ بن جاتا ہے۔
اور قلعے میں رہنے والا شخص باہر کی دنیا کو غلط سمجھتا رہتا ہے، کیونکہ اسے اپنی کھڑکی سے دکھائی دینے والا منظر ہی پوری حقیقت معلوم ہوتا ہے۔
حقیقت کے قریب جانے کے لیے کبھی کبھی مزید معلومات سے زیادہ اپنی یقین کی شدت کم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اپنے ذہن سے یہ کہنا پڑتا ہے:
ممکن ہے میں غلط سمجھ رہا ہوں۔
ممکن ہے میری نظر مکمل نہ ہو۔
ممکن ہے جس شخص کو میں غلط سمجھ رہا ہوں، اس کے پاس وہ زاویہ ہو جو میری نگاہ سے چھپا ہوا ہے۔
یہ جملے انسان کو چھوٹا نہیں کرتے؛ یہ اس کے اندر وسعت پیدا کرتے ہیں۔
سمندر اس لیے بڑا نہیں کہ وہ ہر قطرے کو غلط ثابت کرتا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ بے شمار قطروں کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔
اسی طرح بالغ ذہن وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو؛ بالغ ذہن وہ ہے جو جواب مل جانے کے بعد بھی سوال کرنے کی آزادی نہیں کھوتا۔
سچ کو اپنی ملکیت سمجھنے والا انسان سچ کا محافظ بننے کے بجائے اکثر اپنی انا کا محافظ بن جاتا ہے۔
سچ کو پانے کے لیے شاید سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر سے وہ شخص ہٹانا پڑتا ہے جو ہر وقت یہ ثابت کرنے میں مصروف رہتا ہے کہ:
“میں درست ہوں۔”
جس دن یہ اصرار کم ہونے لگتا ہے، ذہن میں ایک عجیب سی خاموشی اترتی ہے۔
پھر اختلاف دشمنی نہیں رہتا، آئینہ بن جاتا ہے۔
تنقید توہین نہیں رہتی، امکان بن جاتی ہے۔
غلطی شکست نہیں رہتی، استاد بن جاتی ہے۔
اور لاعلمی شرمندگی نہیں رہتی، سیکھنے کا دروازہ بن جاتی ہے۔
تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت ہمیشہ کسی نئے جواب کے پیچھے نہیں چھپی ہوتی؛ کبھی وہ ان شور مچاتے ہوئے جوابات کے درمیان موجود خاموش جگہ میں ہوتی ہے جنہیں ہم نے اپنی انا کی وجہ سے حتمی سمجھ لیا تھا۔
شاید دانائی کا آغاز یہ جاننے سے نہیں ہوتا کہ سچ کیا ہے۔
شاید دانائی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنی ذات، اپنی رائے اور اپنے یقین کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کر لیتا ہے کہ حقیقت کو دیکھ سکے۔
کیونکہ جب ذہن ہر بات کو اپنی ملکیت بنانا چھوڑ دیتا ہے تو پہلی مرتبہ وہ حقیقت کو دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔
اور شاید سچ کہیں دور کھڑا ہمارا انتظار نہیں کر رہا۔
شاید وہ وہیں موجود ہے۔۔
بس ہمارے اپنے بنائے ہوئے یقینوں کا شور کچھ دیر کے لیے خاموش ہونا باقی ہے۔
