(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے حیران کن عادت یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے سامنے بہت نرم اور دوسروں کے سامنے بہت سخت ہو جاتا ہے۔
اپنی غلطی ہو تو پس منظر یاد آ جاتا ہے، دوسروں کی ہو تو صرف نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔
ہم اپنے لیے کہتے ہیں: “حالات ایسے تھے۔”
دوسرے کے لیے کہتے ہیں: “اس نے ایسا کیوں کیا؟”
ہم اپنی خاموشی کو مجبوری کا نام دیتے ہیں اور دوسرے کی خاموشی کو تکبر سمجھ لیتے ہیں۔
ہم اپنی سختی کو اصول کہتے ہیں اور دوسرے کی سختی کو بدتمیزی۔
اپنی جلد بازی کو اضطراب سمجھتے ہیں اور دوسرے کی جلد بازی کو غیر سنجیدگی۔
اپنی غلطی کے پیچھے ایک پوری کہانی ہوتی ہے؛ دوسروں کی غلطی ہمارے لیے صرف ایک واقعہ ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان انصاف سے پہلے اپنے تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہم اپنے اندر کے محرکات سے واقف ہوتے ہیں، مگر دوسرے کے اندر کا جہان ہمارے لیے پردے میں ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کیوں تھکے تھے، کیوں غصے میں تھے، کیوں خاموش ہوئے، کیوں غلط فیصلہ کیا۔ لیکن دوسرے کے بارے میں ہمیں صرف اس کا عمل دکھائی دیتا ہے، اس کی پوری داستان نہیں۔
اور پھر ہم فیصلہ سنا دیتے ہیں۔
شاید انسان کو اپنے فیصلوں میں سب سے زیادہ محتاط اسی مقام پر ہونا چاہیے۔
کیونکہ جس شخص کو ہم ایک لمحے کے رویے سے پرکھ رہے ہوتے ہیں، ممکن ہے وہ برسوں کی کسی ایسی جنگ سے گزر رہا ہو جس کا ہمیں کچھ علم ہی نہ ہو۔
ایک شخص تلخ لہجے میں بات کرتا ہے۔
ہم اسے بدتمیز کہہ دیتے ہیں۔
مگر ممکن ہے وہ کئی دنوں سے کسی دکھ کو اٹھائے پھر رہا ہو۔
کوئی شخص ہماری مدد نہ کر سکے۔
ہم اسے خود غرض سمجھ لیتے ہیں۔
مگر ممکن ہے وہ خود کسی ایسی مشکل میں ہو جس کا ذکر کرنا بھی اسے گوارا نہ ہو۔
کوئی ہمیں معاف نہ کر سکے۔
ہم اسے سنگ دل کہہ دیتے ہیں۔
حالانکہ ممکن ہے وہ ابھی اس زخم کے اندر کھڑا ہو جسے ہم باہر سے صرف ایک معمولی واقعہ سمجھ رہے ہیں۔
یہ بات دوسروں کی ہر غلطی کو درست قرار دینے کے لیے نہیں۔
درگزر کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم کو ظلم نہ کہا جائے، خیانت کو وفا سمجھا جائے یا ہر غلطی پر آنکھیں بند کر لی جائیں۔
دانائی کا مطلب یہ ہے کہ عمل کو غلط کہنے سے پہلے انسان کو مکمل طور پر غلط قرار دینے سے بچا جائے۔
یہ فرق بہت بڑا ہے۔
ایک بالغ انسان کہہ سکتا ہے: “تمہارا یہ عمل غلط تھا۔”
مگر وہ یہ کہنے میں جلدی نہیں کرتا: “تم ہی برے انسان ہو۔”
کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک واقعے سے بڑا ہوتا ہے۔
اور یہی اخلاقی بلوغت کی ابتدا ہے۔
ہمیں اپنے اندر ایک ایسا ترازو پیدا کرنا ہوگا جس کے دونوں پلڑے برابر ہوں۔
اگر اپنی غلطی کے لیے نیت، حالات اور مجبوری کو دلیل بنایا ہے تو دوسرے کے لیے بھی ان امکانات کو ذہن میں جگہ دیں۔
اگر اپنے لیے دوسری فرصت مانگی ہے تو دوسروں کو بھی پہلی لغزش پر ہمیشہ کے لیے مجرم نہ بنائیں۔
اگر چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری ایک غلطی کو ہماری پوری شخصیت نہ سمجھیں تو ہمیں بھی دوسروں کے ایک برے دن کو ان کی پوری زندگی کا تعارف نہیں بنانا چاہیے۔
ہم سب اپنی اپنی نامکمل کہانیوں کے ساتھ اس دنیا میں چل رہے ہیں۔
کسی کے چہرے پر مسکراہٹ ہے مگر اندر ماتم ہو سکتا ہے۔
کسی کے لہجے میں سختی ہے مگر دل میں خوف۔
کسی کے فیصلے میں کمزوری ہے مگر نیت میں برائی نہیں۔
اور کبھی کبھی جس شخص کو ہم معاف نہیں کر پا رہے ہوتے، وہ خود اپنے آپ کو اس سے کہیں زیادہ سزا دے رہا ہوتا ہے جتنی سزا ہم اسے دینا چاہتے ہیں۔
اس لیے اگلی مرتبہ کسی کی غلطی دیکھیں تو فوراً فیصلہ نہ کریں۔
ایک لمحے کے لیے اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھیں۔
اور پھر خود سے پوچھیں:
اگر یہی غلطی مجھ سے ہوئی ہوتی تو میں اپنے لیے کون سی کہانی لکھتا؟
ممکن ہے آپ کا فیصلہ بدل جائے۔
اور اگر فیصلہ نہ بھی بدلے تو لہجہ بدل جائے گا۔
کیونکہ انصاف کا مطلب صرف درست فیصلہ کرنا نہیں؛ درست فیصلہ کرتے ہوئے انسانیت کو زندہ رکھنا بھی ہے۔
دنیا کو سخت ججوں کی کمی نہیں۔
ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو غلط اور صحیح میں فرق کر سکیں، مگر اس فرق کے درمیان انسان کو مکمل طور پر کھو نہ دیں۔
شاید بڑا ظرف یہ نہیں کہ ہم کبھی کسی پر ناراض نہ ہوں۔
بڑا ظرف یہ ہے کہ ناراضی کے باوجود دوسرے کی انسانیت نہ بھولیں۔
اور شاید اخلاق کا سب سے بلند درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے لیے جو رحم کی روشنی مانگتا ہے، وہی روشنی دوسروں کے لیے بھی جلا سکے۔
کیونکہ ہم سب اپنے اپنے مقدمے میں وکیل ہیں۔
اصل امتحان تب شروع ہوتا ہے جب ہم دوسرے کے مقدمے میں بیٹھیں—
اور فیصلہ سنانے سے پہلے یاد رکھیں کہ کٹہرے میں کھڑا انسان بھی ہماری طرح ایک نامکمل انسان ہے
