(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
آج بہت عرصے بعد میں نے خود سے ایک سوال کیا:
آخر میں نے اسے اتنا اہم کیوں سمجھ لیا تھا؟
کاغذ پر سوال بہت چھوٹا ہے، مگر اس کے پیچھے میری زندگی کے کئی برس کھڑے ہیں۔
میں نے جس شخص کو محبت دی، شاید وہ میری محبت کا مستحق نہیں تھا۔ لیکن اب سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ اصل غلطی شاید اسے چاہنے میں بھی نہیں تھی۔ محبت کرنا تو دل کی فطرت ہے؛ غلطی وہاں ہوئی جہاں میں نے اپنی محبت کے معیار کو دوسرے انسان کے ظرف کا معیار سمجھ لیا۔
میں نے اسے ویسا دیکھنا چاہا جیسا وہ ہو سکتا تھا، نہ کہ جیسا وہ حقیقت میں تھا۔
اس کی چند اچھی باتوں سے میں نے ایک مکمل کردار بنا لیا۔ اس کی خاموشی میں گہرائی تلاش کی، اس کی بے رخی میں مصروفیت، اس کی خود غرضی میں مجبوری، اس کی دوری میں کوئی چھپی ہوئی اذیت۔
میں شاید اسے نہیں، اپنی بنائی ہوئی اس شخصیت کو چاہتا رہا جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھی۔
یہ احساس بہت دیر سے ہوا کہ انسان کبھی کبھی دوسرے کو دھوکا نہیں دیتا؛ ہم خود اپنے تصور سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔
ہم کسی کے ایک روشن پہلو کو پوری شخصیت سمجھ لیتے ہیں اور پھر اس کے اندھیروں کو محبت کے نام پر معاف کرتے رہتے ہیں۔
آج مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ محبت کسی انسان کو اس سے زیادہ خوبصورت نہیں بنا دیتی جتنا وہ حقیقت میں ہے۔ محبت صرف ہماری نگاہ کو نرم کر دیتی ہے۔
اور نرم نگاہ کبھی کبھی سچ کو دھندلا بھی دیتی ہے۔
میں نے بہت کچھ دیا۔
وقت، توجہ، اعتماد، اپنی خاموشیاں، اپنی دعائیں، اپنی ترجیحات، حتیٰ کہ اپنی ذات کا ایک حصہ۔
مگر بدلے میں جو ملا، اس کا دکھ اتنا نہیں جتنا یہ احساس تکلیف دیتا ہے کہ میں نے اپنی قیمتی چیز ایسی جگہ رکھ دی جہاں اس کی حفاظت کا شعور ہی نہیں تھا۔
تب مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ ہر شخص محبت کا بھوکا ہو سکتا ہے، مگر ہر شخص محبت کا امین نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ آپ کی محبت چاہتے ہیں، مگر آپ کی قدر نہیں کرتے۔
انہیں آپ کی موجودگی پسند ہوتی ہے، مگر آپ کی قربانی نہیں۔
انہیں آپ کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے، مگر آپ کے دل کی ذمہ داری نہیں۔
اور شاید یہی فرق محبت اور محبت کی اہلیت کے درمیان ہے۔
آج میں کسی سے شکوہ نہیں کرنا چاہتا۔
نہ اس سے، نہ اپنے آپ سے۔
کیونکہ اس تجربے نے مجھے ایک ایسی چیز دی ہے جو شاید کسی خوشگوار تعلق سے نہ ملتی: اپنی قدر کا شعور۔
اب میں جانتا ہوں کہ کسی کو چاہنا اور کسی کے سامنے خود کو کھو دینا ایک بات نہیں۔
وفا کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عزت بھی گروی رکھ دے۔
دروازہ کھلا رکھنا محبت ہو سکتی ہے، مگر اپنی دہلیز مٹا دینا محبت نہیں۔
کسی کو معاف کرنا بزرگی ہے، مگر بار بار اپنے آپ کو اسی زخم کے حوالے کرنا دانائی نہیں۔
آج اگر وہ شخص میرے سامنے آ جائے تو شاید میں اسے برا نہیں کہوں گا۔
میں صرف اتنا سوچوں گا:
“تم برے نہیں تھے، شاید تم صرف اس محبت کے لیے تیار نہیں تھے جو میں نے تمہیں دے دی۔”
اور شاید میں بھی اس وقت اتنا بالغ نہیں تھا کہ یہ سمجھ سکتا کہ ہر گہرا جذبہ درست انتخاب نہیں ہوتا۔
کچھ لوگ ہماری زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے؛ وہ ہمیں اپنے بارے میں کچھ سکھانے آتے ہیں۔
وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم کہاں حد سے زیادہ دے دیتے ہیں، کہاں اپنی ضرورتیں چھپا لیتے ہیں، کہاں محبت کے نام پر اپنی ذات کو نظرانداز کرتے ہیں، اور کہاں کسی دوسرے کے رویے کو بدلنے کی امید میں اپنے برس گزار دیتے ہیں۔
آج ڈائری کے اس صفحے پر میں ایک بات لکھ کر اپنے لیے چھوڑ رہا ہوں:
آئندہ کسی کو صرف اس لیے اپنے دل میں بلند مقام نہیں دوں گا کہ میں اسے بہت چاہتا ہوں۔
میں یہ بھی دیکھوں گا کہ وہ میرے اعتماد کو سنبھال سکتا ہے یا نہیں۔
میری خاموشی سمجھ سکتا ہے یا نہیں۔
میری موجودگی کی قدر کرتا ہے یا نہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس کے کردار میں اتنی وسعت ہے کہ میری محبت اس کے ہاتھوں میں محفوظ رہ سکے۔
کیونکہ دل ایک خوبصورت امانت ہے۔
اسے ہر خوبصورت چہرے کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
اور شاید محبت کا سب سے پختہ مرحلہ یہ نہیں کہ انسان کسی کو بے حد چاہنے لگے؛
بلکہ یہ ہے کہ وہ اتنا باشعور ہو جائے کہ جان سکے، اپنا بے حد پن کس کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔
آج دل عجیب طور پر پرسکون ہے۔
شاید اس لیے کہ میں نے پہلی بار اسے کھونے کا غم نہیں لکھا۔
میں نے آج اپنے آپ کو واپس پانے کی تاریخ لکھی ہے۔
