(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
دنیا میں سب سے مشکل شخص جس کے ساتھ سچ بولنا پڑتا ہے، وہ اکثر کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔۔وہ خود ہم ہوتے ہیں۔
دوسروں سے جھوٹ بولنا آسان ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک مناسب جملہ، ایک خوبصورت لباس، ایک کامیاب کردار؛ انسان بہت آسانی سے دنیا کے سامنے اپنی ایک ایسی تصویر بنا لیتا ہے جو حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔
مگر رات کے آخری پہر، جب دنیا خاموش ہو جاتی ہے اور انسان اپنے ہی سامنے بیٹھتا ہے، وہاں کوئی اداکاری کام نہیں آتی۔
وہاں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے:
“میں حقیقت میں کون ہوں؟”
ہم ساری زندگی لوگوں کی توقعات کے مطابق خود کو ڈھالتے رہتے ہیں۔
کبھی خاندان کے لیے اپنی خواہش دفن کرتے ہیں، کبھی معاشرے کے خوف سے اپنی آواز دبا دیتے ہیں، کبھی قبول کیے جانے کے لیے اپنی رائے بدلتے ہیں، کبھی کسی تعلق کو بچانے کے لیے اپنے اصولوں سے سمجھوتا کر لیتے ہیں۔
اور پھر ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے بہت سے لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش میں اپنے ہی اندر موجود اس شخص کو خاموش کر دیا ہے جو کبھی ہمیں بتاتا تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔
یہی انسان کی سب سے خاموش شکست ہے۔
اپنے آپ سے بے وفائی ہمیشہ کسی بڑے گناہ کی صورت میں نہیں آتی۔
کبھی یہ ایک ایسی ہاں ہوتی ہے جو دل سے نہیں نکلی۔
کبھی ایک ایسی خاموشی ہوتی ہے جہاں سچ بولنا چاہیے تھا۔
کبھی کسی غلط تعلق کو صرف تنہائی کے خوف سے نبھاتے رہنا۔
کبھی اپنے ضمیر کے خلاف صرف اس لیے کھڑا ہونا کہ لوگ کیا کہیں گے۔
اور کبھی اپنی خواہش کو اصول کا نام دے دینا۔
انسان دوسروں کو دھوکا دیتے دیتے ایک دن خود کو بھی قائل کر لیتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے۔
یہ خود فریبی کی سب سے خطرناک منزل ہے۔
اپنے آپ سے سچا رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی ہر خواہش کو درست مان لے۔
خواہش اور سچ ایک چیز نہیں۔
انا اور خودی بھی ایک چیز نہیں۔
اپنے آپ سے سچائی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اندر اٹھنے والی ہر آواز کو پرکھے، اپنے مفاد کو اپنے ضمیر سے الگ کرے، اپنی کمزوری کو بہادری کا نام نہ دے اور اپنی غلطی کو دلیلوں کے پردے میں چھپانے سے انکار کرے۔
خود سے سچ بولنے والا انسان اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر سکتا ہے۔
وہ کہہ سکتا ہے:
“یہاں میں غلط تھا۔”
“یہ فیصلہ میری انا نے کیا تھا۔”
“میں نے اسے محبت نہیں، اپنی ضرورت سمجھا تھا۔”
“میں نے سچ جانتے ہوئے خاموشی اختیار کی۔”
یہ اعتراف انسان کو توڑتا نہیں۔
یہ اسے اندر سے دوبارہ تعمیر کرتا ہے۔
دنیا آپ کو بہت سے کردار دے گی۔
کوئی آپ کو کامیاب دیکھنا چاہے گا، کوئی فرمانبردار، کوئی مقبول، کوئی طاقتور، کوئی ایسا جس سے اسے کبھی اختلاف نہ ہو۔
مگر اگر ہر شخص کی خواہش پوری کرتے کرتے آپ اپنے ضمیر سے دور ہو گئے تو آخر میں آپ کے پاس سب کی منظوری ہوگی اور اپنی نظر میں اپنی جگہ نہیں ہوگی۔
اس سے بڑی تنہائی کیا ہوگی؟
اس لیے کبھی کبھی تنہا کھڑا ہونا بہتر ہے بہ نسبت اس ہجوم کا حصہ بننے کے جس میں آپ کو اپنے ہی وجود کی آواز سنائی نہ دے۔
اپنی حقیقت کو قبول کرنا بھی ایک طرح کی آزادی ہے۔
اپنی کمزوری تسلیم کرنا۔
اپنی غلطی مان لینا۔
اپنی خواہشوں کو پہچاننا۔
اپنی حدود کو سمجھنا۔
اور جہاں ضروری ہو، دنیا کو “نہیں” کہہ دینا۔
یہ سب خود غرضی نہیں؛ یہ اندرونی دیانت کے تقاضے ہیں۔
جو شخص اپنے اندر دو انسان پال لے—ایک وہ جو دنیا کو دکھاتا ہے اور دوسرا وہ جو تنہائی میں خود کو جانتا ہے۔۔ وہ آخرکار اپنے ہی وجود کے درمیان فاصلے میں تھک جاتا ہے۔
سکون تب آتا ہے جب یہ دونوں چہرے ایک ہو جائیں۔
جب انسان وہی ہو جو وہ دکھائی دیتا ہے۔
جب اس کا قول اس کے عمل سے لڑتا نہ ہو۔
جب اس کی مسکراہٹ اس کے ضمیر کے آنسو نہ چھپا رہی ہو۔
جب اسے ہر لمحہ یہ نہ سوچنا پڑے کہ لوگ اسے کیا سمجھ رہے ہیں۔
اور شاید زندگی کی سب سے بڑی کامیابی بھی یہی ہے:
دنیا آپ کے بارے میں کچھ بھی سوچتی رہے، مگر جب آپ آئینے میں خود کو دیکھیں تو آپ کو اپنے ہی وجود سے نظریں نہ چرانا پڑیں۔
کیونکہ انسان دوسروں کی نظروں میں کامیاب ہو کر بھی اپنے اندر شکست کھا سکتا ہے۔
اور کبھی کبھی دنیا کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں ہوتی کہ لوگ آپ کو مان لیں؛
بلکہ یہ ہوتی ہے کہ آپ اپنے ضمیر کے سامنے کھڑے ہوں اور وہ آپ سے نظریں نہ چرائے۔
