(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کچھ لوگ دوسروں کی زندگی میں روشنی کی طرح داخل ہوتے ہیں۔
کسی کی الجھن سن کر راستہ دکھاتے ہیں، کسی کے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو سہارا دیتے ہیں، کسی کے مشکل فیصلے کو آسان بنا دیتے ہیں۔ لوگ ان کے پاس اپنے سوال لے کر آتے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ یہ شخص اندھیرے میں بھی کوئی سمت ضرور دکھا دے گا۔
عجیب بات یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں کے لیے راستے تلاش کر لیتے ہیں، ضروری نہیں کہ اپنی راہ بھی آسان پاتے ہوں۔
وہ دوسروں کے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں۔
دوسروں کو کہتے ہیں: “فکر نہ کرو، یہ وقت بھی گزر جائے گا۔”
اور کبھی رات کے کسی پہر خود سے یہی جملہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔
وہ دوسروں کے لیے حوصلے کے الفاظ ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر اپنے دل کے لیے اکثر خاموشی کے سوا کچھ نہیں پاتے۔
وہ کسی کو ٹوٹنے نہیں دیتے، مگر خود ٹوٹنے لگیں تو کسی کو خبر نہیں ہونے دیتے۔
شاید اس لیے کہ انہیں سب مضبوط سمجھتے ہیں۔
لوگ بھول جاتے ہیں کہ مضبوط نظر آنے والا انسان بھی تھک سکتا ہے۔
جو شخص سب کے مسائل سن لیتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کے پاس اپنے مسائل کے لیے بھی کوئی سننے والا ہو۔
جو دوسروں کو سہارا دیتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کا اپنا کندھا ہمیشہ بے بوجھ ہو۔
اور جو ہر ایک کو راستہ دکھاتا ہے، ممکن ہے وہ اپنی زندگی کے کسی موڑ پر خود بھی کسی چراغ کا منتظر ہو۔
اس لیے ایسے لوگوں کو صرف ان کی دانائی کے لیے یاد نہ کریں؛ کبھی ان کی خاموشی بھی سنیں۔
کبھی ان سے یہ نہ پوچھیں: “تم سب کو کیا مشورہ دیتے ہو؟”
بس اتنا پوچھ لیں:
“تم خود کیسے ہو؟”
ممکن ہے یہ معمولی سا سوال کسی ایسے دل کا دروازہ کھول دے جو مدت سے صرف دوسروں کے لیے کھلتا رہا ہے۔
اور اگر کبھی ایسا شخص آپ کی زندگی میں موجود ہو تو اسے صرف ضرورت کے وقت یاد نہ کریں۔
کبھی بے غرض فون کریں۔
کبھی اس کے پاس بیٹھیں۔
کبھی اسے اپنی بات کہنے دیں۔
کیونکہ بعض لوگ زندگی میں چراغ بن کر آتے ہیں، مگر چراغ بھی تیل کے بغیر ہمیشہ روشن نہیں رہتا۔
جو لوگ دوسروں کے اندھیرے کم کرتے ہیں، انہیں بھی کبھی کبھی کسی کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کی خاموشی کو طاقت سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔
ممکن ہے وہ خاموش اس لیے ہوں کہ اپنی جنگ کے شور سے دوسروں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہوں۔
