جب ضمیر سو جائے تو نظام جاگتا ہوا بھی مفلوج رہتا ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ہم نظام کو اکثر ایک عمارت سمجھتے ہیں: آئین کی دیواریں، اداروں کی چھت، قوانین کے دروازے، عدالتوں کی کھڑکیاں اور ریاستی اختیار کے ستون۔ پھر جب اس عمارت میں دراڑیں پڑتی ہیں تو ہم معمار تلاش کرنے لگتے ہیں، حکمرانوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، قوانین بدلنے کی بات کرتے ہیں اور نئے اداروں کے خواب دیکھتے ہیں۔
مگر اصل سوال اس عمارت سے پہلے کا ہے:
اسے چلانے والا انسان اندر سے کس مٹی کا بنا ہوا ہے؟
کیونکہ قانون ہاتھ کو روک سکتا ہے، مگر نیت کو نہیں۔
نگرانی عمل کو دیکھ سکتی ہے، مگر ارادے کو نہیں۔
عدالت جرم پر فیصلہ دے سکتی ہے، مگر اس لمحے کو نہیں پکڑ سکتی جب انسان کے اندر جرم پیدا ہوتا ہے۔
اسی لیے کسی معاشرے کا اصل آئین اس کی کتابوں میں نہیں، اس کے لوگوں کے باطن میں لکھا ہوتا ہے۔
جس معاشرے میں آدمی غلط کام صرف اس خوف سے نہ کرے کہ کوئی دیکھ رہا ہے، وہاں اخلاق ابھی زندہ ہے۔ اور جس معاشرے میں آدمی اس وقت تک درست رہے جب تک کیمرہ اس کی طرف ہو، مگر تنہائی میں موقع ملتے ہی دیانت کو اتار کر رکھ دے، وہاں مسئلہ قانون کی کمی نہیں؛ انسان کے اندر نگہبان کی موت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نظام اور کردار ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
ہم اکثر پوچھتے ہیں:
ملک میں قانون کیوں نہیں چلتا؟
شاید زیادہ بنیادی سوال یہ ہے:
قانون چلانے والے اور قانون ماننے والے، دونوں کے اندر قانون کی روح کتنی زندہ ہے؟
کیونکہ قانون کا سب سے بڑا دشمن غیر قانونی آدمی نہیں؛ وہ مہذب چہرہ ہے جو قانون کو دوسروں کے لیے ضروری اور اپنے لیے قابلِ گریز سمجھتا ہے۔
یہی دوہرا معیار معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سڑک پر سب لوگ قانون کی پابندی کریں، مگر خود جلدی میں سرخ بتی عبور کر جاتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری دفتر میں رشوت ختم ہو، مگر اپنا کام جلدی کرانے کے لیے کسی واسطے کی تلاش کرتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ بازار میں ملاوٹ نہ ہو، مگر سستی چیز ملنے پر یہ سوال نہیں کرتے کہ اتنی سستی کیوں ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ عدالتیں انصاف دیں، مگر جب فیصلہ ہمارے حق میں ہو تو قانون کی تعریف اور خلاف ہو تو نظام کی مذمت شروع کر دیتے ہیں۔
یہ تضاد محض رویوں کا فرق نہیں؛ یہ اجتماعی اخلاق کی شکست ہے۔
قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب ان کے خزانے خالی ہوتے ہیں۔
وہ اس وقت ٹوٹنا شروع ہوتی ہیں جب ان کے افراد کے اندر یہ جملہ پیدا ہو جائے:
„بس میرا کام ہو جائے۔“
یہ چھوٹا سا جملہ بظاہر بے ضرر ہے، مگر اس کے اندر اجتماعی تباہی کا پورا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
میرا کام ہو جائے، چاہے دوسرے کی باری چلی جائے۔
میرا فائدہ ہو جائے، چاہے کسی اور کا نقصان ہو۔
میرا بیٹا آگے نکل جائے، چاہے کسی زیادہ اہل بچے کا حق مارا جائے۔
مجھے سہولت مل جائے، چاہے اصول ٹوٹ جائے۔
یہیں سے فرد اپنے آپ کو معاشرے سے الگ سمجھنے لگتا ہے۔
پھر وہی شخص شام کو بیٹھ کر کہتا ہے:
„یہ ملک ٹھیک کیوں نہیں ہوتا؟“
ملک کہیں باہر موجود نہیں ہوتا۔
ملک ہمارے فیصلوں کا اجتماعی نام ہے۔
ہم جس چیز کو روزمرہ زندگی میں معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے ہیں، وہی چیز جب لاکھوں لوگوں کے ہاتھوں دہرائی جاتی ہے تو ایک قومی مزاج بن جاتی ہے۔
ایک جھوٹ اکیلا شاید تاریخ نہیں بدلتا، مگر جھوٹ کا معمول بن جانا تاریخ کا رخ بدل دیتا ہے۔
ایک چھوٹی خیانت شاید خزانہ نہیں لوٹتی، مگر خیانت کو ذہانت سمجھنے والی نسل پورے نظام کی امانت کھا جاتی ہے۔
ایک نااہل شخص کا منصب پر پہنچ جانا شاید ایک فرد کا مسئلہ ہو، مگر جب اہلیت کے بجائے تعلق معیار بن جائے تو ادارے اپنی روح کھو دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ معاشرتی زوال ہمیشہ بڑے واقعات سے شروع نہیں ہوتا۔
بسا اوقات تہذیب کا انہدام ایک معمولی سی بے ایمانی سے شروع ہوتا ہے جس پر سب کہتے ہیں:
„اس میں کیا بڑی بات ہے؟“
اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بڑی تباہیاں اکثر انہی چھوٹی باتوں کے مجموعے سے بنتی ہیں جنہیں اپنے وقت میں کوئی بڑی بات نہیں سمجھتا۔
ہم نے ترقی کو عمارتوں کی بلندی سے ناپنا سیکھ لیا، مگر انسان کے قد کو ناپنے کا پیمانہ کھو دیا۔
ہم نے سڑکیں چوڑی کر لیں، مگر برداشت کے راستے تنگ کر دیے۔
ہم نے مواصلات تیز کر دیے، مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی رفتار سست ہو گئی۔
ہم نے معلومات کے سمندر کھول دیے، مگر بصیرت کے چشمے خشک ہوتے گئے۔
ہم نے ادارے بڑھا لیے، مگر ذمہ داری کا شعور کم کر دیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ایک نہایت بنیادی فرق سمجھنا ہوگا:
نظم و ضبط اور اخلاق ایک چیز نہیں۔
نظم و ضبط باہر سے قائم کیا جا سکتا ہے؛ اخلاق اندر سے پیدا ہوتا ہے۔
آپ ہزار کیمرے لگا سکتے ہیں، مگر اگر انسان کی نگاہ اپنے اوپر نہیں تو وہ گیارہ سو راستے تلاش کر لے گا جہاں کیمرہ نہیں۔
آپ قانون سخت کر سکتے ہیں، مگر اگر قانون بنانے والا، نافذ کرنے والا اور توڑنے والا تینوں اپنے اپنے مفاد کے لیے اس کی روح بدلنے لگیں تو سخت ترین قانون بھی کاغذ کا ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔
اسی لیے پائیدار معاشرہ صرف قانون سے نہیں، قانون کے پیچھے کھڑے کردار سے بنتا ہے۔
اور کردار کی تعمیر عدالت میں نہیں، بہت پہلے شروع ہو چکی ہوتی ہے۔
وہ اس وقت شروع ہوتی ہے جب بچہ پہلی مرتبہ گھر میں جھوٹ بولتا ہے اور اسے یہ سننے کو ملتا ہے:
„کوئی بات نہیں، بچہ ہے۔“
وہ اس وقت مضبوط یا کمزور ہوتی ہے جب وہ امتحان میں نقل کرتا ہے اور گھر والے نمبر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
وہ اس وقت فیصلہ پاتی ہے جب وہ کسی کمزور کو دھکا دے کر آگے نکلتا ہے اور بڑے اسے „سمارٹ“ کہتے ہیں۔
اور وہ اس وقت مکمل ہوتی ہے جب یہی بچہ بڑا ہو کر طاقت کو حق سمجھنے لگتا ہے۔
ہم بچوں کو کامیاب انسان بنانے کی فکر میں اکثر قابلِ اعتماد انسان بنانا بھول جاتے ہیں۔
ہم پوچھتے ہیں:
کتنے نمبر آئے؟
کم پوچھتے ہیں:
کس طرح آئے؟
ہم پوچھتے ہیں:
کتنا کمایا؟
کم پوچھتے ہیں:
کس طرح کمایا؟
ہم پوچھتے ہیں:
کتنی ترقی کی؟
کم پوچھتے ہیں:
اس ترقی کی قیمت کس نے ادا کی؟
یہ سوال بدل جائیں تو معاشرہ بدلنے لگتا ہے۔
کیونکہ اصل اصلاح کا آغاز وہاں ہوتا ہے جہاں انسان اپنے فائدے کے سامنے کسی دوسرے کے حق کو بھی دیکھنے لگتا ہے۔
اخلاق دراصل وہ لمحہ ہے جب آدمی اپنے اختیار کے باوجود زیادتی نہ کرے۔
غریب کا ایماندار ہونا قابلِ احترام ہے، مگر طاقتور کا ایماندار ہونا معاشرے کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
کیونکہ جس کے پاس اختیار نہیں، اس کی بددیانتی محدود نقصان پہنچاتی ہے؛ لیکن جس کے پاس اختیار ہے اور اس کے باوجود وہ اپنے نفس کو لگام دیتا ہے، وہ ایک ادارے کے اندر اخلاقی امکان پیدا کرتا ہے۔
ایک استاد اگر صرف نصاب نہیں بلکہ انصاف پڑھا دے تو ایک نسل بدل سکتی ہے۔
ایک ڈاکٹر اگر مریض کو صرف جسم نہیں، انسان سمجھ کر دیکھے تو طب کی حرمت بحال ہو سکتی ہے۔
ایک افسر اگر اپنے منصب کو ذاتی اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھ لے تو دفتر کی فضا بدل سکتی ہے۔
ایک تاجر اگر منافع سے پہلے اعتبار کو رکھ دے تو بازار محض خرید و فروخت کی جگہ نہیں رہتا، معاشرتی اعتماد کی جگہ بن جاتا ہے۔
ایک صحافی اگر خبر کو فروخت ہونے والی چیز نہیں بلکہ عوام کی امانت سمجھ لے تو لفظ دوبارہ معتبر ہو سکتے ہیں۔
اور ایک عام شہری اگر اپنی چھوٹی سی ذمہ داری بھی اس احساس کے ساتھ ادا کرے کہ میں اکیلا نہیں، میرے عمل سے ایک اجتماعی مزاج تشکیل پا رہا ہے تو یہی چھوٹی دیانتیں کسی قوم کی بڑی بنیاد بن سکتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک اور خطرناک مغالطہ بھی ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ ہر خرابی فرد کی ہے اور ریاست کا کوئی قصور نہیں۔
ریاست کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔
ایک ایسا نظام جو بدعنوانی کو انعام دے، دیانت کو سزا دے، نااہلی کو تحفظ دے اور طاقتور کو قانون سے بالاتر کر دے، وہ صرف افراد کا مجموعہ نہیں رہتا؛ وہ خود برائی کی تربیت گاہ بن جاتا ہے۔
انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے۔
اس لیے عادلانہ ادارے ضروری ہیں، شفاف قوانین ضروری ہیں، احتساب ضروری ہے، آزاد عدلیہ ضروری ہے، ذمہ دار صحافت ضروری ہے، معیاری تعلیم ضروری ہے، اور حکمرانوں کا جواب دہ ہونا بھی ضروری ہے۔
مگر ادارے انسانوں سے بنتے ہیں۔
بدکردار انسانوں سے بنے ہوئے بہترین ادارے بھی آخرکار اپنے بنانے والوں کا عکس بن جاتے ہیں۔
اسی لیے اصلاح کے دو راستے ایک ساتھ چلنے چاہییں:
اوپر سے نظام کی تطہیر، اور نیچے سے کردار کی تعمیر۔
صرف اوپر دیکھنے والا شخص اپنی ذمہ داری بھول جاتا ہے۔
اور صرف نیچے دیکھنے والا شخص طاقت کے احتساب سے غافل ہو جاتا ہے۔
قوم کو دونوں نگاہیں درکار ہیں۔
ایک اپنے اوپر،
ایک اپنے حکمرانوں پر۔
ایک ضمیر کے لیے،
ایک احتساب کے لیے۔
شاید ہم نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ ہم اصلاح کو ایک واقعہ سمجھتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ایک نیا حکمران آئے گا، ایک نیا قانون بنے گا، ایک نیا ادارہ قائم ہوگا اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔
نہیں۔
قومیں ایک دن میں خراب نہیں ہوتیں، اس لیے ایک دن میں ٹھیک بھی نہیں ہوتیں۔
اصلاح دراصل روزانہ کے معمولات کی خاموش تبدیلی کا نام ہے۔
جھوٹ کی جگہ سچ۔
حق تلفی کی جگہ انصاف۔
مفاد کی جگہ امانت۔
بہانے کی جگہ ذمہ داری۔
نمائش کی جگہ کردار۔
اور خوف کی جگہ ضمیر۔
جب انسان وہاں بھی درست کام کرے جہاں اسے غلط کام کی پوری آزادی حاصل ہو، تب معاشرہ تہذیب کی طرف بڑھتا ہے۔
کیونکہ تہذیب وہ نہیں جہاں ہر طرف پولیس کھڑی ہو۔
تہذیب وہ ہے جہاں پولیس کے بغیر بھی انسان اپنے ہاتھ کو روک لے۔
اصل آزادی یہ نہیں کہ آدمی جو چاہے کر سکے۔
اصل آزادی یہ ہے کہ آدمی جو چاہے کر سکنے کے باوجود جو درست ہے، وہی کرے۔
اور شاید کسی قوم کی اصل عظمت کا آخری پیمانہ بھی یہی ہے:
وہاں کتنے قانون ہیں، یہ نہیں؛
بلکہ کتنے لوگ ایسے ہیں جو قانون کی ضرورت پڑنے سے پہلے اپنے ضمیر سے فیصلہ کر لیتے ہیں۔
جس دن ایک معاشرہ اپنے اندر ایسے انسان پیدا کرنے لگے گا، اس دن نظام کو ہر قدم پر ڈنڈے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کیونکہ پھر قانون کتاب میں نہیں ہوگا؛
انسان کے اندر ہوگا۔
اور جب قانون انسان کے اندر اتر جائے تو ریاست کو ہر شہری کے پیچھے کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں رہتی۔
پھر شہری خود اپنے آپ کے نگہبان بن جاتے ہیں۔
وہیں سے ایک بہتر معاشرہ جنم لیتا ہے۔
اور شاید نظام کی سب سے سچی تعریف یہی ہے:
نظام وہ نہیں جو حکومت انسانوں پر نافذ کرتی ہے؛
نظام وہ ہے جو انسان اپنے کردار سے ایک دوسرے پر نافذ کر دیتے ہیں۔
اگر کردار بیدار ہو تو کمزور نظام بھی سنبھلنے لگتا ہے؛
اگر کردار سو جائے تو مضبوط ترین نظام بھی اندر سے گلنے لگتا ہے۔
آخرکار قومیں قوانین سے نہیں بچتیں۔
قومیں اپنے اندر کے انسان سے بچتی ہیں اور اپنے اندر کے انسان ہی سے بنتی بھی ہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top