(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
کوئی چیز جب حد درجہ باعثِ اذیت ہو جائے تو مسئلہ صرف تکلیف کا نہیں رہتا بلکہ انسان کے اندر ہونے والی خاموش تبدیلی کا بن جاتا ہے، ابتدا میں اذیت بیرونی محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی بوجھ جو ہم اٹھا رہے ہوں مگر وقت کے ساتھ وہ بوجھ اندر اترنے لگتا ہے، سوچ میں، لہجے میں اور ردِعمل میں، انسان خود کو صابر سمجھتا رہتا ہے مگر دراصل وہ آہستہ آہستہ سخت ہو رہا ہوتا ہے۔
سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب اذیت معمول بن جائے، جب دل چونکنا چھوڑ دے اور درد پر حیرت باقی نہ رہے، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اذیت کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، اور جو چیز سیکھ لی جائے وہ فطرت کا حصہ بننے لگتی ہے، پھر اذیت صرف برداشت نہیں کی جاتی بلکہ لاشعوری طور پر قبول کر لی جاتی ہے۔
انسان فطری طور پر تکلیف سے بھاگتا ہے، مگر جب بھاگنے کی گنجائش نہ رہے تو وہ سمجھوتا کر لیتا ہے، یہی سمجھوتا رفتہ رفتہ عادت میں بدل جاتا ہے، انسان خود کو یہ کہہ کر تسلی دیتا ہے کہ وہ مضبوط ہو گیا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ درد سے بے حس ہو چکا ہوتا ہے۔
اسی مرحلے پر کنارہ کرنے کی بات اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ اذیت کے ساتھ زیادہ دیر رہنے والا انسان اس سے رنگ پکڑ لیتا ہے، پھر تکلیف صرف باہر نہیں رہتی بلکہ لہجے میں آ جاتی ہے، رویے میں اتر جاتی ہے اور سوچ کا حصہ بن جاتی ہے، اور جو چیز سوچ کا حصہ بن جائے وہ شناخت بنانے لگتی ہے۔
کنارہ کشی کمزوری نہیں بلکہ بروقت بیداری کی علامت ہے، یہ اس لمحے کا فیصلہ ہوتا ہے جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ہر برداشت فضیلت نہیں اور ہر ٹھہراؤ حکمت نہیں، بعض اوقات رک جانا ہی آگے بڑھنے کی اصل صورت ہوتی ہے۔
جب اذیت کو وقت پر نہ روکا جائے تو وہ صرف سہنے کی چیز نہیں رہتی بلکہ منتقل ہونے لگتی ہے، انسان کے اندر جمع ہونے والا درد کسی نہ کسی صورت باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے، کبھی غصے میں، کبھی بے رخی میں اور کبھی ایسی خاموشی میں جو دوسروں کو زخمی کر دیتی ہے۔
یہیں سے وہ نازک حد شروع ہوتی ہے جہاں مظلوم اگر ہوشیار نہ رہے تو وہ خود اسی دائرے میں داخل ہو جاتا ہے جس نے اسے زخمی کیا تھا، نیت بدلی نہیں ہوتی مگر اثر وہی ہونے لگتا ہے، اور انسان کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کب دفاع کرتے کرتے حملہ آور کے مشابہ ہو گیا ہے۔
اسی لیے کنارہ کشی فرار نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری ہے، یہ فیصلہ اس وقت لیا جاتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی بقا صرف اس کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ضروری ہے، اور یہ کہ ہر جنگ لڑنا لازم نہیں ہوتا۔
کنارہ کش ہونا خود غرضی نہیں بلکہ اپنے باطن کی حفاظت کا عمل ہے، یہ اس انسان کی پہچان ہے جو جانتا ہے کہ وہ اپنے زخموں کو دوسروں کی زندگی میں دہرانا نہیں چاہتا، اور جو یہ سمجھتا ہے کہ اپنی انسانیت کو بچانا بھی ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
اصل نجات اس میں نہیں کہ انسان ہر درد سہہ لے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ پہچان لے کہ کہاں رک جانا ضروری ہے، کیونکہ جو شخص بروقت ہٹ جانا جانتا ہے وہی ظلم کے سلسلے کو توڑ دیتا ہے، اور یہی فیصلہ انسان کو انسان رہنے دیتا ہے۔
