جہاں ادیب نہیں ہوتے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

تاریخِ انسانی کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قومیں محض زمین کے ٹکڑوں، عسکری قوت یا معاشی وسائل سے نہیں بنتیں، بلکہ ان کی اصل تشکیل اخلاقی اقدار، فکری شعور اور انسانی احترام سے ہوتی ہے۔ اس تعمیر میں اگر کوئی کردار سب سے زیادہ خاموش مگر سب سے زیادہ مؤثر ہے تو وہ ادیب کا ہے۔ ادیب وہ معمارِ فکر ہے جو لفظوں سے انسان کے باطن کی تعمیر کرتا ہے، جو سوچ کو جلا بخشتا ہے اور احساس کو تہذیب عطا کرتا ہے۔
ادیب معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے بلکہ آنے والے وقت کے خدوخال بھی محسوس کر لیتا ہے۔ اس کی تحریر انسان کو محض معلومات نہیں دیتی، بلکہ اسے انسان بننے کا شعور عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس معاشرے میں ادیب کی آواز کو سنا جاتا ہے، وہاں اختلاف رائے دشمنی نہیں بنتا بلکہ مکالمہ جنم لیتا ہے، اور مکالمہ ہی امن کی بنیاد ہے۔
کسی قوم کے اخلاقی معیار کو پرکھنا ہو تو اس کا سب سے سادہ اور سچا پیمانہ یہ ہے کہ وہ قوم عورت اور ادیب کو کتنی عزت دیتی ہے۔ عورت زندگی کی تخلیق کی علامت ہے اور ادیب فکر کی تخلیق کا استعارہ۔ جو قوم ان دونوں کو تحفظ، وقار اور احترام دیتی ہے، وہ دراصل زندگی اور شعور دونوں کی حفاظت کرتی ہے۔ اور جو قوم انہیں نظرانداز کرتی ہے، وہ اپنے مستقبل کو اندھیروں کے حوالے کر دیتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں ادیبوں کو خاموش کر دیا گیا، کتابوں کو جلایا گیا اور قلم کو جرم بنا دیا گیا، وہاں طاقتور تلوار نے جنم لیا۔ وہاں چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے کردار پیدا ہوئے، جن کے لیے انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی۔ کیونکہ جہاں فکر نہیں ہوتی، وہاں رحم نہیں ہوتا، اور جہاں رحم نہیں ہوتا وہاں وحشت حکمران بن جاتی ہے۔
امن کسی معاہدے کا نام نہیں، امن دراصل رائے کے احترام کا دوسرا نام ہے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو سننے، سمجھنے اور قبول کرنے کا حوصلہ ہی حقیقی امن ہے۔ جب یہ حوصلہ ختم ہو جاتا ہے تو مکالمہ بند ہو جاتا ہے، اور مکالمے کے ختم ہوتے ہی ہتھیار بولنے لگتے ہیں۔ جنگیں شروع ہوتی ہیں، شہر اجڑتے ہیں، بستیاں ویران ہوتی ہیں۔
اور جنگوں کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ وہ صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں، بلکہ گھروں کے اندر بھی تباہی چھوڑ جاتی ہیں۔ جنگیں یتیم پیدا کرتی ہیں، بے سہارا بچے جن کی آنکھوں میں خواب نہیں بلکہ خوف ہوتا ہے۔ پھر آتی ہے بھوک کی وہ ڈائن جو نہ نظریات دیکھتی ہے نہ جھنڈے، وہ صرف کمزور جسموں کو نگلتی ہے۔ یہ سب اسی وقت جنم لیتا ہے جب معاشرہ فکر، ادب اور اخلاق سے محروم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا اگر ہمیں ایک پُرامن، باوقار اور زندہ قوم بننا ہے تو ہمیں ادیب کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا، عورت کو عزت اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا، اور اختلاف کو برداشت کرنے کی تہذیب سیکھنی ہوگی۔ کیونکہ ادیب اخلاقی وجود کی تعمیر کرتا ہے، اور اخلاق کے بغیر کوئی قوم محض ہجوم تو ہو سکتی ہے، تہذیب نہیں۔
قوموں کی اصل طاقت بندوق نہیں، قلم، رحم اور احترام ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو حیوانیت سے نکال کر انسان بناتے ہیں، اور معاشروں کو جنگ سے امن کی طرف لے جاتے ہیں

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top