(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی تاریخ دراصل فیصلوں کی تاریخ ہے، اور ہر فیصلہ اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کس کے لیے تھا؟ بظاہر انسان اصولوں، ضابطوں اور اقدار کے سہارے جیتا دکھائی دیتا ہے، مگر جب وقت پردہ اٹھاتا ہے تو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ ان اصولوں کے پیچھے اصل قوت مفاد تھا۔ یہی وہ خاموش حقیقت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ انسانیت سے جدا کرتی ہے، اور یہی وہ المیہ ہے جو ہر دور میں دہرایا گیا مگر کم ہی تسلیم کیا گیا۔
درخت لگانا ہو یا کاٹنا، جنگ ہو یا امن، قانون بنانا ہو یا توڑنا فیصلہ اکثر پہلے ہو چکا ہوتا ہے، دلیل بعد میں جنم لیتی ہے۔ انسان اپنے فائدے کے لیے اخلاقیات کو کبھی ڈھال بناتا ہے اور کبھی قربانی کا بکرا۔ فائدہ ساتھ ہو تو عمل نیکی کہلاتا ہے، فائدہ چھن جائے تو وہی عمل بوجھ بن جاتا ہے۔ اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ زخمی ضمیر ہوتا ہے، کیونکہ وہ جانتا سب کچھ ہے، مگر اسے بولنے کا حق نہیں دیا جاتا۔
انسانیت یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ انسان مفاد ترک کر دے، وہ صرف یہ چاہتی ہے کہ مفاد کو ایک حد میں رکھا جائے۔ مگر حد کا تعین ہمیشہ طاقت کرتی ہے۔ طاقت ور کے لیے حدیں کشادہ ہوتی ہیں، کمزور کے لیے تنگ۔ یوں اصول سب کے لیے برابر نہیں رہتے بلکہ طاقت کے قالب میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس لمحے عدل، مساوات اور اخلاق محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں، اور حقیقت ان سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔
دنیا کی سب سے خطرناک بات غلطی کرنا نہیں، بلکہ غلطی کو درست ثابت کرنے کی مہارت حاصل کر لینا ہے۔ جب نیت میں کھوٹ آ جائے تو عقل منصف نہیں رہتی، وکیل بن جاتی ہے۔ دلیل جرم کو فلسفہ بنا دیتی ہے، اور انسان یہ سوچنا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے، وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ اسے کیسے جائز ٹھہرایا جائے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں حساسیت دم توڑتی ہے اور بے حسی ایک عادت بن جاتی ہے۔
انسانیت کا راستہ ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس میں صرف اپنی ذات شامل نہیں ہوتی، دوسرے کا درد بھی شریک ہوتا ہے۔ یہ راستہ قربانی مانگتا ہے، تاویل نہیں۔ اس کے برعکس مفاد کا راستہ آسان ہے، ہموار ہے، فوری فائدہ دیتا ہے اور ضمیر کو خاموش رکھنے کے لیے معقول جواز بھی فراہم کر دیتا ہے۔ شاید اسی لیے اکثریت آسان راستہ چن لیتی ہے، اور پھر حیران ہوتی ہے کہ اندھیرا کیوں بڑھتا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم درخت لگاتے ہیں یا اس کی جڑ پر کلہاڑا چلاتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کرتے وقت ہمارے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے۔ صرف ہماری ذات، ہماری سہولت، ہمارا فائدہ، یا وہ انسان بھی جو ہم سے مختلف سہی مگر ہماری ہی طرح سانس لیتا ہے، درد محسوس کرتا ہے اور امید باندھتا ہے۔ عمل وقت کے ساتھ مٹ جاتا ہے، مگر نیت کا نقش باقی رہتا ہے، اور تاریخ ہمیشہ نیتوں کا حساب رکھتی ہے، نعروں کا نہیں۔
جس دن فیصلے انسانیت کے بجائے صرف مفاد کے تابع ہو جائیں، اس دن معاشرے بظاہر ترقی کر لیتے ہیں مگر اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ عمارتیں اونچی ہو جاتی ہیں، کردار جھک جاتے ہیں۔ نظام مضبوط دکھائی دیتے ہیں، انصاف کمزور پڑ جاتا ہے۔ قانون زندہ رہتا ہے، ضمیر مر جاتا ہے۔ انسان ہجوم میں موجود ہوتا ہے، مگر انسانیت سے خالی۔ وہاں سب کچھ ہوتا ہے طاقت، دولت، عقل، منصوبہ بندی مگر وہ جو انسان کو انسان بناتی ہے، ناپید ہو جاتی ہے۔
انسانیت کا زوال شور کے ساتھ نہیں آتا، وہ دلیلوں کے سہارے، مجبوریوں کے پردے میں آتا ہے۔ پہلے ایک چھوٹا سمجھوتہ، پھر ایک بڑا جواز، اور پھر سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر اتنی مدھم ہو جاتی ہے کہ پہچان ممکن نہیں رہتی۔ انسان خود کو قائل کرتے کرتے ایک دن خود کو کھو بیٹھتا ہے، اور آئینے میں جھانکنے پر چہرہ تو نظر آتا ہے، انسان نہیں۔
اسی لیے عظمت درخت لگانے یا ناؤ بنانے میں نہیں، بلکہ اس سوال کو زندہ رکھنے میں ہے کہ ہمارا فیصلہ کس کی قیمت پر ہو رہا ہے۔ اگر کسی کا حق کچل کر ہماری راہ ہموار ہو رہی ہے، اگر کسی کی خاموش چیخ ہمارے فائدے کی بنیاد بن رہی ہے، تو وہ فیصلہ کتنا ہی دانش مند کیوں نہ ہو، انسانیت کے میزان میں خسارے کا سودا ہی رہے گا۔ کیونکہ انسان ہونے کی پہچان یہی ہے کہ وہ فائدے سے پہلے انصاف، سہولت سے پہلے سچ اور جیت سے پہلے ضمیر کو دیکھے۔
آخرکار وقت سب پردے ہٹا دیتا ہے۔ مفادات ختم ہو جاتے ہیں، طاقت زوال پذیر ہو جاتی ہے، مگر سوال باقی رہتا ہے۔ ہم نے انسان کو کہاں رکھا تھا؟ اگر جواب صرف یہ ہو کہ اپنے بعد، یا راستے کی رکاوٹ کے طور پر، تو سمجھ لیجیے کہ ایسی دنیا میں واقعی سب کچھ تھا، مگر انسان نہیں
