(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسانی فطرت کا یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ وہ ہمیشہ عقل، فہم اور شعور کی آرزو کرتا ہے مگر بہت کم نفوس اس کی اس اصل قیمت سے واقف ہوتے ہیں جو آگاہی کے بازار میں وصول کی جاتی ہے۔ شعور کوئی سہل تحفہ نہیں جو مسکراہٹوں کے ساتھ بانٹا جائے بلکہ یہ وہ بارِ امانت ہے جس کے بوجھ سے آسمان، زمین اور پہاڑ بھی لرز گئے تھے۔ جب یہ بوجھ انسان کے کندھوں پر رکھ دیا جاتا ہے تو کائنات کا توازن ہی نہیں بدلتا بلکہ انسان کی اپنی ذات کا جغرافیہ بھی تغیر پذیر ہو جاتا ہے۔ اس دن کے بعد نہ سوچ کا زاویہ پہلے جیسا رہتا ہے، نہ نیند ویسی پرسکون، نہ تعلقات اتنے سادہ اور نہ ہی دنیا ویسی رنگین دکھائی دیتی ہے جیسی کہ وہ جہالت کے پردوں میں نظر آتی تھی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ لاعلمی کے اندھیرے میں انسان زیادہ پُرسکون ہوتا ہے۔ وہ جو بتایا جاتا ہے اسے ایمانِ کامل سمجھ لیتا ہے جو دکھایا جاتا ہے اسے حقیقتِ مطلق مان لیتا ہے اور جو سنایا جاتا ہے اسے صداقتِ عامہ سمجھ کر دہراتا رہتا ہے۔ اس کیفیتِ نادانی میں سوال مفقود اور اندھی قبولیت کا غلبہ ہوتا ہے۔ مگر شعور کا بیدار ہونا دراصل اس خاموش اطاعت کا بگل ہے؛ جیسے ہی انسان کے بطن سے سوال جنم لیتا ہے اس کی اندرونی نیند ٹوٹ جاتی ہے اور اس بیداری کے بعد سکونِ قلب کی وہ پہلی والی معصومیت کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔
باشعور انسان پر جب ادراک کے در کھلتے ہیں تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ دنیا محض اصولوں کی تسبیح پر نہیں بلکہ مفادات کی شطرنج پر چلتی ہے؛ یہاں اخلاق اکثر مصلحت کا لباس ہوتے ہیں اور نظریات اکثر انا کے نقاب۔ یہ فہم اسے بدگمان نہیں بلکہ محتاط بنا دیتا ہے مگر اس احتیاط کا خراج اسے تنہائی کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اب لفظوں کے سحر میں نہیں آتا بلکہ رویّوں کی منطق سمجھتا ہے؛ وہ ارادوں کی تہوں کو دیکھتا ہے اور یہی بصیرت اسے ہجوم سے جدا کر کے تنہائی کے مصلے پر کھڑا کر دیتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے کہ: شعور انسان کو صرف بہتر نہیں بناتا بلکہ اسے ذمہ دار بنا دیتا ہے۔
اب آپ لاعلمی کی اوٹ میں چھپ کر ظلم سے چشم پوشی نہیں کر سکتے، منافقت کو مصلحت کا نام نہیں دے سکتے اور خاموشی کو لاچاری کی چادر نہیں پہنا سکتے۔ سچ جان لینے کے بعد خاموش رہنا بھی ایک ارادی فیصلہ بن جاتا ہے اور ہر فیصلے کا وزن روح کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اکثر باشعور انسان اپنی اس باطنی بے چینی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں حالانکہ یہ اضطراب اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ان کا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ جو ناحق آپ کو بے چین نہ کرے تو سمجھ لیں کہ مسئلہ دنیا کے بگاڑ میں نہیں آپ کے مردہ احساس میں ہے۔ شعور درد ضرور دیتا ہے مگر یہ وہ درد ہے جو انسان کو کھوکھلا نہیں بلکہ بیدار رکھتا ہے۔
نصیحت یہی ہے کہ شعور کو بوجھ سمجھ کر اسے ترک کرنے کی تمنا نہ کریں۔ بہت سے مسافر سچ کی تپش دیکھ کر دوبارہ وہم کے سایوں کی پناہ ڈھونڈتے ہیں مگر آگاہی کے سفر میں واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ آنکھ اگر ایک بار کھل جائے تو اندھیرے میں سکون تلاش کرنا محض خود فریبی ہے۔ دانائی اسی میں ہے کہ انسان اس بے چینی کو قبول کرے اس تنہائی کو اپنی قوت بنائے اور اس آگاہی کو اپنے کردار کے سانچے میں ڈھالے۔
یاد رکھیں اگر زندگی کا مقصد صرف سکونِ ظاہری ہے تو لاعلمی سے بہتر کوئی جائے پناہ نہیں لیکن اگر مقصد معنی، دیانت اور خود سے سچائی ہے تو شعور کے کٹھن راستے کے سوا کوئی متبادل نہیں۔ آخر میں یہ جان لینا لازم ہے کہ باشعور انسان کا اصل امتحان اس کی معلومات نہیں بلکہ اس کا ردِ عمل ہے۔ وہ جان لینے کے بعد کیا بنتا ہے؟ ایک تلخ اور مایوس وجود یا ایک خاموش، مضبوط اور باوقار شخصیت؟
شعور اگر آپ کو تنہا کر دے تو گھبرائیں نہیں؛ اکثر سچ کی راہیں ہجوم میں نہیں، تنہائی میں کھلتی ہیں۔ اور جب انسان اس تنہائی میں سچائی کے اس منبع تک پہنچ جاتا ہے جہاں تلاش ختم اور یقین شروع ہوتا ہے تو پھر ایک ایسی کیفیت وارد ہوتی ہے جو الفاظ کی گرفت میں نہیں آتی۔ یاد رکھیں، جستجو کا سفر سوال سے شروع ہوتا ہے لیکن اس کا اختتام ایک ایسی حقیقت پر ہوتا ہے جو انسان کو ہستی کے تمام اضطراب سے آزاد کر دیتی ہے۔
کیونکہ سچی معرفت وہی ہے جو انسان کو بے سوال کر دے اور وہ چیز جو بے سوال کر دے، وہی حقیقت میں لاجواب ہوتی ہے۔
