(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
موت ہمیشہ اہلِ علم کو بھی چونکا دیتی ہے اور اہلِ دل کو بھی۔ اس لیے نہیں کہ وہ اچانک آتی ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ سچ بولتی ہے۔ جو موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے، اسے زندگی کا ذائقہ بھی چکھنا چاہیے، ورنہ دونوں ادھورے رہ جاتے ہیں۔ زندگی صرف سانسوں کا چلتے رہنا نہیں، زندگی شعور کا جاگتے رہنا ہے۔
یونان کے مفکر نے زہر کا پیالہ پی کر زندگی کو پہچانا۔ وہ موت سے بھاگا نہیں، اس نے زندگی سے ملاقات کی۔ اصل بڑائی یہی ہے۔ آدمی قد سے نہیں، ظرف سے بڑا ہوتا ہے۔ جو اندر سے بڑا نہ ہو، وہ ساری عمر سامری بننے کے خواب دیکھتا ہے، رسیوں کو سانپ دکھانے کے لیے۔ کرتب وقتی ہوتے ہیں، سچائی دائمی۔
زندگی سوالوں کا ایک طویل سفر ہے۔ جواب منزل نہیں ہوتے، سایہ دار درخت ہوتے ہیں۔ مسافر کچھ دیر بیٹھتا ہے، سانس بحال کرتا ہے، پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ جو جواب کو منزل سمجھ لے، وہ وہیں رک جاتا ہے۔ جمود زندہ لاشوں کی پہچان ہے۔
میں نے زندگی کو جینا ماں جی سے سیکھا۔ وہ کہا کرتی تھیں، بیٹا! صرف موت کا نہ آنا زندگی نہیں ہوتا۔ زندگی تو تب شروع ہوتی ہے جب آدمی خود کو جلانے پر آمادہ ہو جائے۔ زندہ وہ نہیں جس کے سینے میں سانس چل رہی ہو، زندہ وہ ہے جو چراغ بن جائے۔ ایسا چراغ جس سے ہر کوئی اپنا دیا جلا لے اور روشنی کم نہ ہو۔
ماں جی کے لہجے میں عجیب سا سکون ہوتا تھا، جیسے الفاظ نہیں، ظرف بول رہا ہو۔ وہ کم کہتیں تھیں مگر جو کہتیں، دل میں اتر جاتا تھا۔ کہتی تھیں، انسان کا اصل پتا اس کی آواز سے نہیں، اس کے رویّے سے چلتا ہے۔ جو دلوں میں جگہ بنا لے، وہی حقیقت میں زندہ ہوتا ہے، باقی سب محض موجود ہوتے ہیں۔
وہ کہتی تھیں، کچھ لوگ یاد بن کر بھی مرہم ہوتے ہیں۔ ان کی کمی رلاتی نہیں، سنبھال لیتی ہے۔ ایسے لوگوں کی موجودگی سایہ دار درخت کی طرح ہوتی ہے، دھوپ میں بھی ٹھنڈک دے جاتی ہے۔ ماں جی کہتی تھیں، سہارا ہاتھ سے نہیں، احساس سے دیا جاتا ہے، اور جس کے اندر احساس مر جائے وہ زندہ ہو کر بھی بوجھ بن جاتا ہے۔
میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا تھا کہ زندگی کیسے جی جاتی ہے۔ بغیر شور کے، بغیر شکوے کے، بغیر خودنمائی کے۔ وہ کہتی تھیں، جلنا اگر مقدر ہو تو روشنی کے لیے جلنا، راکھ بننے کے لیے نہیں۔ کیونکہ راکھ اڑ جاتی ہے، مگر روشنی راستہ دکھا جاتی ہے۔
آج بھی جب اندھیرا گہرا ہو جاتا ہے تو ماں جی کی باتیں چراغ بن کر جل اٹھتی ہیں۔ تب سمجھ آتا ہے کہ زندگی دراصل سانسوں کا نہیں، معنی کا نام ہے۔ اور معنی وہی ہیں جو دوسروں کے لیے آسانی، شفا اور سہارا بن جائیں۔
ماں جی کہتی تھیں، جہاں دکھ سکھ میں سانجھ نہ رہے، وہاں قبریں بچھ جاتی ہیں، چاہے شہر کا نام کچھ بھی ہو دراصل وہ شہرخموشاں ہوتا ہے ۔ وہ کہتی تھیں، شہر اسی لیے بے جان ہو گئے ہیں کہ یہاں انسان گنے جاتے ہیں، سمجھے نہیں جاتے۔ چہرے بہت ہیں مگر رشتوں کی پہچان کھو گئی ہے۔ آوازیں ہر طرف ہیں مگر سننے والے ناپید۔ روشنی کے مینار کھڑے ہیں، مگر حرارت کہیں نہیں۔ چراغ ہیں، مگر تپش مر چکی ہے۔
ماں جی کا کہنا تھا، جس دن یوسفؑ کو بازار میں بیچا گیا، اسی دن انسان تول میں آ گیا۔ تب سے شہر سود کے گودام بنتے گئے۔ یہاں ضمیر نرخنامے دیکھ کر بولتا ہے، اور وقار بغیر دام کے رہ جاتا ہے۔ انسان قیمت میں بٹ گیا، قدر میں نہیں۔ شاید اسی لیے مجھے شہروں سے اجنبیت سی ہو گئی، کیونکہ جہاں انسان خریدا جائے وہاں محبت کرائے پر بھی نہیں ملتی۔
ماں جی سمجھاتی تھیں، اپنا احترام کرنا خود پسندی نہیں، انسانیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ جو خود کو روند دے، وہ دوسروں کی عزت کیا کرے گا۔ اور جو خود کو خدا سمجھنے لگے، وہ انسان کو مٹی سے زیادہ نہیں سمجھتا۔ احترامِ انسانیت کا پہلا انکار ابلیس نے کیا تھا۔ وہ سجدے سے نہیں گھبرایا تھا، وہ انسان کی قدر سے ڈرا تھا۔
وہ کہتی تھیں، غرور ہمیشہ دلیل مانگتا ہے تاکہ خود کو درست ثابت کر سکے، مگر سچائی خاموش رہتی ہے، اسے ثابت ہونے کی حاجت نہیں۔ غرور آواز بلند کرتا ہے، سچائی اثر چھوڑ جاتی ہے۔ اور اثر وہی چھوڑتا ہے جو جھک کر چلنا جانتا ہو، اکڑ کر نہیں۔
ماں جی ایک بات اور کہتی تھیں، بیٹا! خود سے ملاقات کیا کرو۔ مگر جب خود کے سامنے آؤ تو جوتے باہر اتار دیا کرو۔ میں بہت دیر بعد سمجھا کہ یہ محض محاورہ نہیں، پوری عبادت ہے۔ اپنے ہی اندر داخل ہونے کے لیے بھی عاجزی درکار ہوتی ہے۔ جو شخص خود کے سامنے اکڑ کر کھڑا رہے، وہ سچ کا سامنا نہیں کر پاتا، اور جو اپنے نفس سے نظریں چرا لے وہ کسی اور کے سامنے کب جھکے گا۔
ماں جی کہتی تھیں، خود سے ملتے وقت عہدوں، انا اور کامیابیوں کو دروازے پر چھوڑ آیا کرو۔ یہ بوجھ ساتھ ہوں تو انسان اپنے دل کی آواز نہیں سن پاتا۔ عاجزی کے بغیر کوئی ملاقات مکمل نہیں ہوتی، نہ خدا سے، نہ انسان سے، نہ خود سے۔
وہ یہ بھی سمجھاتی تھیں کہ انکساری کوئی کمزوری نہیں، یہ بلندی کا پہلا زینہ ہے۔ جب سورج پورے جلال میں نکلتا ہے تو برف پوش چوٹیوں کا غرور پگھل کر پانی بن جاتا ہے۔ وقت کسی کی بلندی کا لحاظ نہیں کرتا، وہ صرف ظرف کو پہچانتا ہے۔ جو ظرف میں بڑا نہ ہو، وہ مقام پر بھی چھوٹا ہی رہتا ہے۔
ماں جی کہا کرتی تھیں، بلندی مانگنے سے پہلے گہرائی مانگو۔ کیونکہ اونچا وہی اٹھ سکتا ہے جس کی جڑیں زمین میں اتری ہوں۔ جو گہرائی سے خالی ہو، وہ ذرا سی ہوا میں بکھر جاتا ہے۔ اور جو جھکنا سیکھ لے، وہی اصل میں سربلند ہوتا ہے۔
زندگی کا ذائقہ تب آتا ہے جب انسان بانٹنا سیکھ لے؛ اپنا دکھ، اپنی خوشی، اپنی روشنی، حتیٰ کہ خود کو بھی۔ جو صرف خود کو بچا لے وہ زندہ نہیں رہتا، اور جو سب کے لیے جلتا ہے وہ مر کر بھی بجھتا نہیں۔ ایسے لوگ وقت کی مٹی میں دب جاتے ہیں مگر یادوں کی ہوا میں چراغ بن کر پھیل جاتے ہیں۔
ماں جی کہتی تھیں، انسان کا اصل امتحان طاقت نہیں، اختیار ہے۔ اختیار ملے تو اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی شکر گزار بنتا ہے یا سنگدل۔ بند مٹھی تنہائی لکھتی ہے، کھلا ہاتھ رفاقت۔ سچ کے لیے شور نہیں چاہیے، نیت کی صفائی کافی ہے؛ چیخ کمزوری کی آواز ہے، قوت دلیل میں بولتی ہے۔
وہ سمجھاتی تھیں، ہر زخم لفظ نہیں مانگتا، بعض زخم ہمسفری چاہتے ہیں۔ دکھ کے لمحے میں نصیحت ظلم بن جاتی ہے اگر دل ساتھ نہ ہو۔ معافی کمزوری نہیں، ماضی سے آزادی ہے؛ اور جو خود کو بے خطا سمجھے وہ سیکھنے سے محروم رہتا ہے۔
ماں جی کہتی تھیں، وقت سے شکوہ مت کرو، وہ آئینہ ہے۔ اگر عکس اچھا نہیں تو چہرہ بدلو۔ آخر میں بس اتنا سکھایا کہ زندہ رہنے کی ضد نہ کرنا، انسان بن کر رہنا۔ قبریں سب کی ہوتی ہیں، یادیں صرف انہی کی جنہوں نے جل کر روشنی دی، جھک کر بلندی پائی، اور خاموشی میں معنی چھوڑ گئے۔
