کیا ہم ہار چکے ہیں

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کا بوجھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ “کیا ہم ہار چکے ہیں؟” بھی ایسا ہی سوال ہے۔ یہ کسی میدانِ جنگ کی شکست کا اعلان نہیں، بلکہ ایک زندہ معاشرے کے ضمیر کی آہٹ ہے۔ یہ سوال اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان اپنے گرد پھیلی ہوئی بے سمتی کو دیکھ کر رک جاتا ہے اور خود سے پوچھتا ہے کہ یہ جو تھکن ہے، یہ جو بے یقینی ہے، یہ جو دل میں خاموش سا خوف پل رہا ہے یہ سب شکست کی علامتیں ہیں یا محض ایک کٹھن مرحلے کی نشانیاں؟
ہار اور جیت کا پیمانہ محض ظاہری حالات نہیں ہوتے۔ آزمائش کبھی کمزوری کی سزا نہیں ہوتی بلکہ شعور کی بیداری کا موقع ہوتی ہے۔ اصل شکست وہ نہیں جس میں وسائل کم ہوں یا حالات سخت ہوں، اصل شکست وہ ہے جہاں سوچ نے سوال اٹھانا چھوڑ دیا ہو اور دل نے حق کی تلاش سے منہ موڑ لیا ہو۔ جب انسان حالات کو تقدیر کہہ کر قبول کر لے مگر اپنی ذمہ داری سے نظریں چرا لے، تب زوال خاموشی سے جڑ پکڑتا ہے۔
ہم آج اسی نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہر طرف شور ہے، بیانیے ہیں، فتوے ہیں مگر ٹھہر کر سوچنے کی کمی ہے۔ ہم جلدی میں فیصلے کرتے ہیں، لیبل لگاتے ہیں، اور پھر انہی لیبلز کو سچ مان کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ سوال پوچھنا کمزوری نہیں، بلکہ وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ ہم ہار چکے ہیں، شاید حقیقت سے زیادہ آسان راستہ ہے۔ ہار مان لینا انسان کو سوچنے کی ذمہ داری سے آزاد کر دیتا ہے۔ مگر ہونا یہ چاہیے کہ انسان مشکل لمحے میں بھی خود احتسابی سے منہ نہ موڑے۔ اگر معاشرہ بیمار ہو تو سوال یہ نہیں کہ مریض مر چکا ہے یا نہیں، سوال یہ ہوتا ہے کہ علاج کی نیت باقی ہے یا نہیں۔
یہی نیت، یہی شعوری سوال، ہمیں اگلے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے جہاں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سوال خود کیسے جرم بنا، اور مکالمہ کب کمزوری سمجھ لیا گیا۔
جب سوال نیت کے ساتھ اٹھایا جائے تو وہ چراغ بن جاتا ہے، مگر جب سوال سے خوف پیدا ہو جائے تو وہی چراغ آنکھوں میں چبھنے لگتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ سوال بہت زیادہ ہو گئے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ سوال برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ ہم نے رفتہ رفتہ ایک ایسا ماحول تشکیل دے لیا ہے جہاں پوچھنا بدتہذیبی، اختلاف گستاخی اور سوچنا مشکوک عمل سمجھا جانے لگا ہے۔ یوں سوال خود ایک جرم بن گیا، اور جرم بننے کے بعد اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو ہر جرم کا ہوتا ہے، یا تو اسے دبایا جاتا ہے یا مجرم کو۔
انصاف کی روح اس رویّے سے کوسوں دور ہے۔ وہ بار بار انسان کو سوچنے، غور کرنے، عقل استعمال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ کمزوری نہیں، بلکہ گہرائی کی علامت ہے۔ جو دل سوال سے خالی ہو، وہ یقین سے بھی خالی ہو جاتا ہے۔ مگر جب سوال کو خطرہ سمجھ لیا جائے تو جواب دینے والے خود کو حق کا واحد امین سمجھنے لگتے ہیں، اور یوں مکالمہ ختم ہو کر محض خطبہ رہ جاتا ہے ایسا خطبہ جس میں سننے والا موجود تو ہوتا ہے، شریک نہیں ہوتا۔
ہم نے گفتگو کو مقابلہ بنا دیا ہے۔ ہر شخص بولنا چاہتا ہے، مگر سننے کو تیار کوئی نہیں۔ ایک بولتا ہے تو دوسرا جواب دینے کے لیے نہیں، بلکہ رد کرنے کے لیے سنتا ہے۔ اس طرزِ فکر میں سچ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیونکہ سچ شور میں نہیں پنپتا، وہ تو خاموشی میں نکھرتا ہے۔ جب معاشرے میں خاموشی کو کمزوری اور چیخ کو طاقت سمجھ لیا جائے تو پھر دانائی گوشوں میں سمٹ جاتی ہے اور سطحیت منبر سنبھال لیتی ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سوچ کی شکست شروع ہوتی ہے۔ جب ہم سوال کرنے والے کو دشمن اور اختلاف کرنے والے کو غدار سمجھنے لگیں، تو ہم دراصل اپنی ہی فکری بنیادوں پر وار کر رہے ہوتے ہیں۔ دین ہمیں عدل سکھاتا ہے، اور عدل کا پہلا زینہ یہ ہے کہ بات کہنے والے کو سنے بغیر فیصلہ نہ دیا جائے۔ مگر ہم نے فیصلہ پہلے اور سننا بعد میں، یا کبھی نہ سننا اپنا معمول بنا لیا ہے۔
اسی فضا میں ایک نسل سانس لے رہی ہے جو سوالات کے ساتھ پیدا ہوئی ہے، جس نے دنیا کو جامد نہیں بلکہ متحرک دیکھا ہے، اور جو ہر بات کو مان لینے کے بجائے پرکھنا چاہتی ہے۔ اس نسل کی بے چینی اسی دبے ہوئے سوال کی بازگشت ہے، جسے ہم نے سننے کے بجائے دبانے کی کوشش کی۔ اور جب سوال دبائے جائیں تو وہ ختم نہیں ہوتے، وہ صرف شکل بدل لیتے ہیں۔
یہی بے چینی ہمیں اگلے مرحلے تک لے جاتی ہے، جہاں سوال یہ نہیں رہتا کہ نوجوان کیوں ناراض ہے، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ ہم نے اسے سنا کیوں نہیں۔
نوجوان کی ناراضی دراصل شور نہیں، ایک خاموش چیخ ہے۔ یہ وہ چیخ ہے جو زبان سے کم اور آنکھوں سے زیادہ سنائی دیتی ہے۔ اسے اکثر بغاوت، نافرمانی یا بدتہذیبی کا نام دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ احساسِ محرومی کا اظہار ہے۔ نوجوان اس لیے سوال نہیں کرتا کہ وہ سب کچھ گرا دینا چاہتا ہے، وہ اس لیے سوال کرتا ہے کہ اسے وہ عمارت دکھائی نہیں دیتی جس میں اس کا اپنا کوئی کمرہ ہو۔
دین انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ہر فرد کی عزت اس کے وجود سے ہے، اس کے تابع ہونے سے نہیں۔ جب کسی نسل کو مسلسل یہ باور کرایا جائے کہ تم ابھی نااہل ہو، تمہیں بعد میں سنا جائے گا، تم بس مان لو تو ماننا عبادت نہیں رہتا، مجبوری بن جاتا ہے۔ اور مجبوری سے پیدا ہونے والی اطاعت دل میں جگہ نہیں بناتی۔ ایمان جبر سے نہیں، اختیار سے پروان چڑھتا ہے، اور اختیار اسی وقت معنی رکھتا ہے جب انسان کو یہ یقین ہو کہ اس کی بات سنی جائے گی۔
نوجوان کو جو دنیا ملی ہے، وہ تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ محنت کرو، مگر محنت کے ثمر کی مثال سامنے نہیں آتی۔ اسے امید کا درس دیا جاتا ہے، مگر راستے پر نشان واضح نہیں ہوتے۔ ایسے میں بے یقینی کوئی اخلاقی کمزوری نہیں رہتی، وہ ایک فطری ردِعمل بن جاتی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم اس ردِعمل کو نیت کی خرابی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ زیادہ تر حالات کی پیداوار ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ نوجوان کی زبان کبھی کبھی سخت ہوتی ہے، اس کے الفاظ میں تلخی آ جاتی ہے۔ مگر دین ہمیں سکھاتا ہے کہ الفاظ کے پیچھے نیت کو دیکھا جائے۔ اگر نیت اصلاح کی ہو تو لہجے کی سختی کو سمجھا جا سکتا ہے، اور اگر نیت فساد کی ہو تو نرم الفاظ بھی دھوکا بن جاتے ہیں۔ ہم نے مگر آسان راستہ چن لیا ہے: ہم لہجے پر فیصلہ کرتے ہیں، درد پر نہیں۔
جب نوجوان کو مسلسل یہ احساس دیا جائے کہ وہ مسئلہ ہے، حصہ نہیں، تو وہ یا تو خود کو الگ کر لیتا ہے یا پھر سب کچھ مسترد کر دیتا ہے۔ دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں۔ معاشرہ تب کمزور ہوتا ہے جب اس کا سب سے متحرک ذہن یا تو خاموش ہو جائے یا ملک چھوڑنے کو ہی نجات سمجھ لے۔ یہ ہجرت صرف جغرافیہ کی نہیں ہوتی، یہ وابستگی کی ہجرت ہوتی ہے اور یہ زخم سب سے گہرا ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال نسل کا نہیں رہتا، سمت کا بن جاتا ہے۔ اور یہاں سے بات خود بخود اس طرف مڑتی ہے کہ کیا قصور صرف نوجوان کا ہے، یا تجربہ بھی کہیں خود کو بے سوال سمجھ بیٹھا ہے۔
تجربہ اپنی ذات میں نعمت ہے، مگر جب یہی تجربہ خود کو حرفِ آخر سمجھنے لگے تو نعمت آہستہ آہستہ بوجھ بن جاتی ہے۔ عمر کا بڑھ جانا دانائی کی ضمانت نہیں، جیسے جوان ہونا خود بخود نادانی نہیں ہوتا۔ دین ہمیں یہ توازن سکھاتا ہے کہ بڑائی علم اور تقویٰ سے ہے، نہ کہ صرف عمر یا منصب سے۔ مگر ہمارے سماجی رویّوں میں یہ توازن کہیں گم ہو چکا ہے۔
پرانی نسل نے بہت کچھ دیکھا، بہت کچھ سہا، اور اسی بنا پر اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کہا ہوا حرف سوال سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ جب ماضی کو تنقید سے پاک اور تجربے کو مقدس بنا دیا جائے تو حال کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایسی فضا میں نوجوان سوال کرے تو اسے گستاخ کہا جاتا ہے، اور اگر خاموش رہے تو اسے نالائق۔ یہ دو طرفہ بند گلی ہے جس میں مکالمہ دم توڑ دیتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ طاقت جب زیادہ دیر تک ایک ہی ہاتھ میں رہے تو وہ احتساب سے بے نیاز ہو جاتی ہے۔ نیت چاہے کتنی ہی درست کیوں نہ ہو، خود کو ہر سوال سے بلند سمجھنا ایک خطرناک کیفیت ہے۔ دین ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ جواب دہی سب کے لیے ہے، اور سب سے پہلے اپنے نفس کے سامنے۔ مگر جب احتساب کو کمزوری سمجھ لیا جائے تو اصلاح کا دروازہ خود ہی بند ہو جاتا ہے۔
اس کے باوجود یہ ماننا انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر عمر رسیدہ فرد اقتدار کا اسیر نہیں، نہ ہی ہر تجربہ ضد میں بدلا ہوا ہے۔ بہت سے دل آج بھی سیکھنے کو تیار ہیں، بہت سی آنکھیں آج بھی اپنی کوتاہی دیکھ سکتی ہیں۔ مگر یہ آوازیں شور میں دب جاتی ہیں، کیونکہ اعتدال ہمیشہ چیخ کے مقابلے میں کم سنائی دیتا ہے۔ ہم نے یا تو مکمل تردید سیکھ لی ہے یا مکمل اطاعت درمیانی راستہ اختیار کرنا بھول گئے ہیں۔
دین کا مزاج اسی درمیانی راستے کا نام ہے۔ وہ نہ اندھی پیروی سکھاتا ہے، نہ بے لگام انکار۔ وہ تو سوال کے ساتھ ادب، اور اختلاف کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا کرتا ہے۔ جب یہ روح معاشرے سے نکل جائے تو نسلیں آمنے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں انہیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا چاہیے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں بات عمر کی نہیں رہتی، زاویۂ نظر کی ہو جاتی ہے اور جہاں ہمیں یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ اصل تقسیم نسلوں کی نہیں، سوچ کی ہے۔
جب زاویۂ نظر بدل جائے تو منظر نامہ بھی بدل جاتا ہے۔ ہم نے مگر منظر کو دیکھنے کے بجائے ایک دوسرے کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ نسلوں کے درمیان جو خلیج دکھائی دیتی ہے، وہ دراصل عمر کی نہیں بلکہ فہم کی ہے۔ ہم نے سوچ کو خانوں میں بانٹ دیا ہے یہ نوجوانوں کی بات ہے، یہ بڑوں کی؛ یہ بغاوت ہے، یہ وفاداری، یہ پرانا ہے، یہ نیا۔ ان خانوں میں بند کرنے کے بعد ہم نے خود کو سمجھا لیا کہ ہم نے مسئلہ حل کر لیا ہے، حالانکہ ہم نے صرف اسے آسان لفظوں میں چھپا دیا ہے۔
دین انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حق کسی عمر، کسی طبقے یا کسی نسل کی جاگیر نہیں۔ حکمت جہاں ملے، وہیں سے لینے کا حکم ہے۔ مگر جب ہم اپنے خانے خود بنا لیں تو حکمت دروازہ کھٹکھٹاتی رہتی ہے اور ہم اندر سے خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ یوں اختلاف مکالمہ نہیں بنتا بلکہ محاذ آرائی میں بدل جاتا ہے، اور ہر فریق دوسرے کو مکمل طور پر رد کر کے خود کو مطمئن کر لیتا ہے۔
یہ ذہنی تقسیم ہمیں ایک خطرناک عادت سکھاتی ہے، ہم بات سننے سے پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اگر بولنے والا “دوسرے خانے” سے ہے تو اس کی بات خود بخود مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس رویّے میں سچ کی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیونکہ سچ کسی ایک خانے میں قید نہیں ہوتا۔ وہ کبھی نوجوان کی زبان میں بولتا ہے، کبھی تجربے کی خاموشی میں چھپا ہوتا ہے۔
جب معاشرہ اس طرح بٹ جائے تو گفتگو کا مقصد سمجھنا نہیں رہتا، جیتنا بن جاتا ہے۔ ہر دلیل ایک ہتھیار، اور ہر جملہ ایک وار بن جاتا ہے۔ ایسے میں نعرہ دلیل پر غالب آ جاتا ہے، اور سادگی دانش پر۔ دین مگر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کو بھی امانت سمجھا جائے، کیونکہ اختلاف ہی وہ راستہ ہے جس سے فہم کی گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
نسلوں کے درمیان لکیر کھینچ دینا آسان ہے، پل بنانا مشکل۔ مگر معاشرے پلوں سے جیتے ہیں، لکیرں انہیں کمزور کرتی ہیں۔ جب نوجوان کو یہ احساس ہو کہ اس کی بات صرف اس لیے رد ہو رہی ہے کہ وہ نوجوان ہے، اور بزرگ کو یہ گمان ہو کہ اس کی بات محض اس لیے غیر معتبر ٹھہری کہ وہ پرانی ہے، تو دونوں اپنے اپنے خول میں بند ہو جاتے ہیں۔ وہاں سے مکالمہ نہیں، صرف فاصلے جنم لیتے ہیں۔
یہی فاصلہ آگے چل کر آزادی اور نظم کے سوال کو جنم دیتا ہے ایک ایسا سوال جس میں توازن بگڑ جائے تو نیتیں بھی آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔
آزادی کا تصور جب دل میں جنم لیتا ہے تو وہ روشنی بن جاتا ہے، مگر جب وہ شعور سے کٹ جائے تو وہ آگ بھی بن سکتا ہے۔ ہم آزادی کو اکثر صرف قید کے خاتمے کے طور پر سمجھتے ہیں، حالانکہ دین آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اختیار وہ نعمت ہے جس کے ساتھ جواب دہی لازم ہے، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہماری اجتماعی سوچ لڑکھڑا جاتی ہے۔
نوجوان آزادی مانگتا ہے، اور اس کا مانگنا بجا ہے۔ وہ رفتار چاہتا ہے، مواقع چاہتا ہے، اپنی صلاحیتوں کے اظہار کی جگہ چاہتا ہے۔ مگر جب آزادی صرف رد کرنے کا نام بن جائے اور ہر حد کو جبر سمجھ لیا جائے تو پھر آزادی خود اپنے مقصد سے بھٹک جاتی ہے۔ اسی طرح نظم و ضبط اگر صرف حکم بن کر نازل ہو اور اس میں انسان کی کرامت شامل نہ ہو تو وہ اصلاح کے بجائے نفرت پیدا کرتا ہے۔
دین نے ہمیں اعتدال کا راستہ دکھایا ہے۔ نہ مکمل بے مہار آزادی، نہ اندھی اطاعت۔ یہ توازن ہی دراصل تہذیب کی بنیاد ہے۔ مگر ہم نے توازن کے بجائے انتہاؤں کو چن لیا ہے۔ ایک طرف سب کچھ توڑ دینے کا جوش، دوسری طرف ہر تبدیلی سے خوف۔ دونوں کی جڑ ایک ہی ہے:عدمِ اعتماد۔ ہم نہ اپنے حال پر اعتماد کرتے ہیں، نہ ایک دوسرے پر۔
جب ذمہ داری کا تصور کمزور پڑتا ہے تو آزادی مطالبہ بن جاتی ہے، کردار نہیں۔ انسان حقوق گنوانے پر حساس ہو جاتا ہے مگر فرائض پر خاموش۔ یہ خاموشی آہستہ آہستہ معاشرتی رشتوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ دین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر حق کے ساتھ ایک فرض بندھا ہے، اور جس دن یہ رشتہ ٹوٹ جائے، اسی دن انتشار جنم لیتا ہے۔
اسی طرح نظم و ضبط کا مسئلہ بھی نیت سے جڑا ہے۔ اگر پابندی خیر خواہی سے ہو تو وہ حفاظت بن جاتی ہے، اور اگر خوف سے ہو تو قید۔ ہم نے مگر پابندی اور جبر کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہر نصیحت مداخلت لگتی ہے اور ہر رہنمائی سازش۔
یہ بگڑا ہوا توازن ہمیں اس مقام پر لے آتا ہے جہاں شور بڑھتا ہے اور سچ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ جب آزادی اور نظم دونوں اپنی روح کھو دیں تو خلا پیدا ہوتا ہے اور یہی خلا بیانیوں، افواہوں اور چیخوں سے بھر دیا جاتا ہے۔
یہی وہ خلا ہے جہاں سچ سب سے زیادہ تنہا ہو جاتا ہے۔ جب بات کرنے والے زیادہ اور سمجھنے والے کم ہو جائیں تو حقیقت آواز کے حجم سے ناپی جانے لگتی ہے۔ جو زیادہ زور سے بولے، وہی زیادہ سچا مان لیا جاتا ہے، اور جو خاموش رہے، وہ گویا ہار گیا۔ حالانکہ دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچ ہمیشہ شور میں نہیں ہوتا، وہ اکثر خاموشی میں اپنی اصل پہچان رکھتا ہے۔
جب معاشرے میں اعتماد کمزور پڑ جائے تو بیانیے طاقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ میڈیا، منبر، اور ہر وہ جگہ جہاں الفاظ گردش کرتے ہیں، سچ کی تلاش کے بجائے اثر پیدا کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بات یہ نہیں رہتی کہ کیا کہا جا رہا ہے، بلکہ یہ ہو جاتا ہے کہ کون کہہ رہا ہے اور کتنی شدت سے کہہ رہا ہے۔ اس ماحول میں دلیل کی جگہ تاثر اور تحقیق کی جگہ تکرار لے لیتی ہے۔
سچائی اس شور میں اس لیے بھی دب جاتی ہے کہ بولنے والا اور سننے والا ایک ہی زبان میں بات نہیں کر رہے ہوتے۔ ایک خوف سے بول رہا ہوتا ہے، دوسرا غصے سے سن رہا ہوتا ہے۔ ایک اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے، دوسرا اپنی نفی سے بچنا چاہتا ہے۔ اس کشمکش میں الفاظ معنی کھو دیتے ہیں، اور مکالمہ محض آوازوں کا تصادم بن کر رہ جاتا ہے۔
دین نے مگر ہمیں یہ اصول دیا ہے کہ بات کو تول کر کہا جائے اور سننے میں انصاف کیا جائے۔ یہ انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، دلوں میں بھی لازم ہے۔ جب ہم سننے میں انصاف چھوڑ دیتے ہیں تو سچ کو بھی سزا دے دیتے ہیں۔ اور جب سچ بار بار سزا پائے تو لوگ یا تو اس سے منہ موڑ لیتے ہیں یا پھر اپنی اپنی حقیقتیں تراش لیتے ہیں۔
اسی لمحے معاشرہ ٹکڑوں میں بٹنے لگتا ہے۔ ہر گروہ کے پاس اپنا سچ، اپنی مظلومیت اور اپنی دلیل ہوتی ہے۔ یہ تقسیم صرف رائے کی نہیں ہوتی، شعور کی ہوتی ہے۔ اور جب شعور تقسیم ہو جائے تو اجتماعی سمت گم ہو جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال دوبارہ سر اٹھاتا ہے: کیا ہم ہار چکے ہیں؟ یا ہم ابھی اس امتحان میں ہیں جہاں سچ کو پہچاننے کے لیے ہمیں شور سے نکل کر گفتگو کی طرف لوٹنا ہوگا؟

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top