(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ سوچتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کتنا سوچتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی جیتے بھی ہیں؟
ہم شعور کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں حالانکہ شعور کوئی الہامی تحفہ نہیں یہ ایک سماجی ضرورت ہے، ایک ارتقائی مجبوری۔ ہم اس لیے سوچتے ہیں کہ بول سکیں، سمجھا سکیں، دوسروں کے ساتھ جڑ سکیں۔ اگر انسان بالکل تنہا ہوتا تو شاید شعور کی یہ شکل کبھی جنم ہی نہ لیتی۔ ہماری بیشتر سوچ وہی ہے جو الفاظ میں ڈھل سکے جو دوسروں تک پہنچائی جا سکے۔
اصل زندگی خاموشی میں بہتی ہے، لاشعور میں دل سوچ کر نہیں دھڑکتا، خون اجازت لے کر نہیں بہتا خلیے کسی فیصلے کے منتظر نہیں ہوتے دماغ فیصلے پہلے کر چکا ہوتا ہے۔ خواہشیں، خوف، محبت، نفرت، خوشی اور دکھ سب اسی لاشعوری نظام کے تابع ہیں پھر بھی ہم شعور کو مرکز بنا لیتے ہیں اسے اتنا مقدس بنا دیتے ہیں کہ اس کے بغیر زندگی ہمیں ادھوری لگنے لگتی ہے۔
ہم سچ کے پیچھے دوڑتے ہیں جیسے سچ کوئی نجات دہندہ ہو حالانکہ ہر سچ شفا نہیں دیتا بعض اوقات سچ زخم بن جاتا ہے۔ انسان نے خود کو زندہ رکھنے کے لیے کئی فریب ایجاد کیے امید، معنی، کہانیاں، خواب یہ سب جھوٹ نہیں یہ زندگی کے محافظ ہیں۔ کبھی کبھی حقیقت میں ہلکی سی ترمیم ہمیں ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے۔ جو لوگ ہر وقت ننگے سچ کے پیچھے بھاگتے ہیں وہ اکثر زندگی کی حرارت محسوس نہیں کر پاتے یہی وجہ ہے کہ فن انسان کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہے۔ موسیقی، رقص، کہانی، رنگ، لفظ یہ سب ہمیں محفوظ طریقے سے محسوس کرنا سکھاتے ہیں۔ فن ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ ہم درد کو چھو سکیں اور بکھر نہ جائیں، خوف کو دیکھ سکیں اور مفلوج نہ ہوں، خوشی کو تھام سکیں اور شرمندہ نہ ہوں۔ فن محض دل لگی نہیں یہ زندگی کو قابلِ برداشت بنانے کا ہنر ہے۔
زندگی کو مسئلہ نہ بنائیں یہ کوئی مساوات نہیں جسے حل کرنا ہو زندگی ایک فن پارہ ہے، ہر لمحہ ایک رنگ ہے،ہر غلطی تصویر کا حصہ ہے، ہر ٹوٹ پھوٹ ایک نیا زاویہ پیدا کرتی ہے۔ جو انسان اپنی زندگی کو فن کی طرح دیکھتا ہے وہ ناکامی میں بھی تخلیق تلاش کر لیتا ہے ، وہ دکھ میں بھی معنی ڈھونڈ لیتا ہے۔
اخلاقیات، اصول، رسم و رواج، یہ سب بھی انسانی تخلیقات ہیں یہ آسمان سے نہیں اتریں یہ زمین پر بنیں ہر معاشرے نے اپنی بقا کے لیے اپنے اصول گھڑے۔ کہیں سختی طاقت سمجھی گئی، کہیں نرمی دانش کہلائی۔ اقدارجنم لیتی ہیں، بدلتی ہیں انسان کی طرح۔
اصل طاقت اس میں نہیں کہ ہم ہر چیز کو سمجھ لیں اصل طاقت اس میں ہے کہ ہم ہر چیز کو محسوس کر سکیں، زندگی کو پوری شدت سے جئیں، ہر تعلق کو، ہر تجربے کو، ہر لمحے کو، یہی سب مل کر ہمارے وجود کی تصویر بناتے ہیں۔
زندگی کا راز یہ نہیں کہ ہر سوال کا جواب مل جائے۔ زندگی کا حسن یہ ہے کہ ہم اسے جینا سیکھ لیں، محسوس کرنا سیکھ لیں، تخلیق کرنا سیکھ لیں۔
یہی زندگی کا فن ہے اور یہی اس کا سب سے خوبصورت تحفہ
