شہرت کا فریب

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی فطرت میں ایک عجیب طلب رکھی گئی ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ اسے دیکھا جائے، پہچانا جائے، سراہا جائے اور اس کا نام دوسروں کی زبانوں پر رہے۔ یہی خواہش اگر اعتدال میں ہو تو انسان کو محنت، تخلیق اور خدمت کی طرف لے جاتی ہے، لیکن جب یہی خواہش مقصدِ زندگی بن جائے تو ایک ایسا فریب جنم لیتا ہے جسے دنیا “شہرت” کے نام سے جانتی ہے۔
شہرت بظاہر روشنی معلوم ہوتی ہے، مگر ہر روشنی منزل کا راستہ نہیں دکھاتی۔ بعض چراغ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کر دیتے ہیں اور مسافر راستہ بھول جاتا ہے۔ شہرت بھی ایک ایسی ہی چمک ہے؛ جو انسان کو دوسروں کی نگاہوں میں بلند کر دیتی ہے، مگر کبھی کبھی انسان کو اپنی ہی نظر سے گرا دیتی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ لوگوں کے فیصلوں کو اپنی حقیقت کا پیمانہ بنا لیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ دنیا کی تعریفیں بھی موسموں کی طرح بدلتی رہتی ہیں۔ آج جس نام کے چرچے ہیں، کل شاید وہی نام خاموشی کے پردوں میں چھپ جائے۔ آج جس ہجوم کی واہ واہ انسان کو آسمان پر پہنچاتی ہے، کل وہی ہجوم کسی نئے چہرے کے گرد جمع ہو سکتا ہے۔
شہرت کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو حقیقت سے زیادہ اپنے تصورِ ذات کا قیدی بنا دیتی ہے۔ انسان وہ بننے کے بجائے جو وہ حقیقت میں ہے، وہ بننے لگتا ہے جو لوگ اسے سمجھتے ہیں۔ پھر اس کی زندگی کردار کی تعمیر نہیں رہتی بلکہ تاثر کی حفاظت بن جاتی ہے۔
بعض لوگ شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنے اندر کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ تعریف کے عادی ہو جاتے ہیں اور تنقید سے خوف کھانے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ شخص خوش نصیب ہے جسے آئینہ دکھانے والے لوگ میسر ہوں، کیونکہ خوشامد کا ہجوم اکثر انسان کو اُس مقام پر لے جاتا ہے جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بہت سے بڑے نام وقت کے ساتھ ماند پڑ گئے، مگر وہ لوگ جنہوں نے اخلاص، علم، محبت اور انسانیت کے چراغ جلائے، ان کی روشنی زمانوں تک قائم رہی۔ نام کا باقی رہ جانا اور اثر کا باقی رہ جانا دو مختلف حقیقتیں ہیں۔ ہر مشہور شخص یادگار نہیں ہوتا، اور ہر گمنام شخص بے اثر نہیں ہوتا۔
اصل عظمت یہ نہیں کہ کتنے لوگ ہمیں جانتے ہیں، اصل عظمت یہ ہے کہ جن دلوں سے ہمارا واسطہ پڑا، وہاں ہم نے کیا چھوڑا۔ ایک خاموش خدمت، ایک سچا لفظ، ایک خالص دعا کبھی کبھی ایسی شہرت پیدا کر دیتی ہے جو اعلانوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
شہرت کا فریب انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ دوسروں کی نگاہوں میں زندہ رہ کر ہمیشہ قائم رہے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل بقا اس کے نام میں نہیں، اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ آوازیں ختم ہو جاتی ہیں، تصویریں دھندلا جاتی ہیں، تعریفیں بھلا دی جاتی ہیں، مگر اخلاص کی خوشبو وقت کی دیواروں سے بھی گزر جاتی ہے۔
کاش انسان یہ راز سمجھ لے کہ آسمان پر چمکنے والے ستارے بھی اپنی روشنی کے مالک نہیں ہوتے؛ وہ کسی اور نور کے محتاج ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی عزت بھی اس کے نام سے نہیں، اس کے اندر کے نور سے پیدا ہوتی ہے۔
شہرت اگر خدمت کے پیچھے آئے تو نعمت ہے، لیکن اگر خدمت شہرت کے پیچھے چلنے لگے تو یہ ایک ایسا فریب ہے جو انسان کو دنیا میں نمایاں اور اپنے باطن میں ویران کر دیتا ہے۔
حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ دنیا ہمیں پہچانے، بلکہ یہ ہے کہ ہم خود کو پہچان لیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top