دشمنی بھی ایک تہذیب ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی اصل تہذیب اس کے الفاظ، لباس یا محفل کے آداب سے نہیں پہچانی جاتی؛ اس کا اصل چہرہ اس وقت سامنے آتا ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا شخص آ کھڑا ہو جس کے لیے اس کے دل میں محبت نہیں، اختلاف ہو، رنجش ہو یا شاید نفرت۔ محبت میں نرم رہنا آسان ہے، کیونکہ محبت خود انسان کے لہجے پر ہاتھ رکھ دیتی ہے؛ اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں دل میں آگ ہو، اختیار ہاتھ میں ہو اور پھر بھی زبان کو حد سے آگے جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ دشمنی آخرکار دوسرے انسان کا نہیں، اپنے نفس کا امتحان بن جاتی ہے۔
ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور ہر دشمنی بدتہذیبی نہیں ہوتی۔ اختلافِ رائے انسانوں کے درمیان فاصلہ پیدا کر سکتا ہے، مگر تہذیب اس فاصلے کو وحشت بننے سے روک سکتی ہے۔ آپ کسی کی بات سے اختلاف کر سکتے ہیں، اس کے فیصلے کو غلط سمجھ سکتے ہیں، اس کے راستے سے الگ ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ اس کے خلاف کھڑے بھی ہو سکتے ہیں، مگر اس کی انسانیت سے انکار کیے بغیر۔ فکر کو رد کرنا آسان ہے، انسان کو رد کیے بغیر اس کی فکر سے اختلاف کرنا ظرف مانگتا ہے۔
دشمنی دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنے مخالف سے زیادہ اپنا عکس دیکھتا ہے۔ کسی کو گرانے کی خواہش میں اپنی قامت کتنی چھوٹی ہو جاتی ہے، یہ اکثر وہی شخص نہیں دیکھ پاتا جو دوسروں کے قد ناپنے میں مصروف ہوتا ہے۔ بدلہ لینے کی طاقت یقیناً طاقت ہے، مگر بدلہ لینے کے باوجود اپنے ہاتھ کو روک لینا اس طاقت سے کہیں بلند مقام ہے۔ کیونکہ کمزور آدمی انتقام کو ضرورت سمجھتا ہے، طاقتور آدمی اسے اختیار سمجھتا ہے اور صاحبِ ظرف انسان جانتا ہے کہ ہر اختیار استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔
دشمنی میں انسان کے پاس دوسروں کو زخمی کرنے کے بہت سے راستے آ جاتے ہیں۔ کسی کا راز معلوم ہو تو اسے بازار بنا دینا، کسی کی لغزش ہاتھ آ جائے تو اسے اس کی پوری شخصیت کا تعارف بنا دینا، کسی کے کمزور لمحے کو اس کے خلاف دلیل بنا دینا؛ یہ سب ممکن ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں کردار اپنا فیصلہ سناتا ہے۔ راز جان لینا اختیار ہے، راز کو راز رہنے دینا امانت ہے۔ جو شخص اپنے مخالف کی پردہ داری اس وقت بھی کرتا ہے جب اسے پردہ چاک کرنے سے فائدہ ہو سکتا ہو، وہ دراصل اپنے دشمن کی نہیں، اپنے ضمیر کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔
کسی کی ایک غلطی کو اس کی پوری حقیقت سمجھ لینا بھی دشمنی کی ایک صورت ہے۔ انسان ایک واقعہ نہیں، ایک مکمل داستان ہوتا ہے۔ اس کی ایک لغزش اس کی ساری نیکیوں کو منسوخ نہیں کرتی، جیسے ہماری ایک خوبی ہمیں کامل نہیں بنا دیتی۔ اس لیے کسی کے خلاف سچ بولتے ہوئے بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑیے۔ ہر سچی بات کہنا ضروری نہیں، مگر جو بات کہیں اس کا سچا ہونا ضروری ہے۔ مبالغہ دشمنی کو دلیل نہیں دیتا، صرف بولنے والے کی کم مائیگی ظاہر کرتا ہے۔
پھر دشمنی ایک اور خطرناک مقام پر پہنچتی ہے جب ہم دوسرے کے ظلم کو اپنے ظلم کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اس نے زیادتی کی، لہٰذا ہمیں بھی زیادتی کا حق ہے؛ اس نے دل دکھایا، لہٰذا ہمیں بھی دل توڑنے کی اجازت ہے؛ اس نے ہماری عزت نہیں کی، لہٰذا ہم بھی اس کی عزت کیوں کریں؟ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے اخلاق کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ اب وہ خود نہیں رہتا، دوسرے کے عمل کا ردِعمل بن جاتا ہے۔ کسی کا برا ہونا آپ کو اچھا رہنے کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔
بدترین دشمنی وہ نہیں جو دو انسانوں کے درمیان ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کو اس کے اپنے اصولوں سے لڑا دے۔ جب کسی کے خلاف بولتے ہوئے زبان وہ لفظ استعمال کرنے لگے جنہیں تنہائی میں اپنا ضمیر بھی برداشت نہ کرے تو سمجھ لیجیے کہ مخالف کو شکست دینے سے پہلے آپ اپنے اندر کے کسی قیمتی حصے کو شکست دے چکے ہیں۔ دنیا کی بہت سی فتوحات ایسی ہیں جن کے بعد انسان کو آئینے کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے بھی حوصلہ جمع کرنا پڑتا ہے۔
اسی لیے خاموشی ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض خاموشیاں دراصل شعور کی بلند ترین آواز ہوتی ہیں۔ ہر الزام کا جواب دینا، ہر غلط فہمی دور کرنا اور ہر زبان کو اپنی سچائی کا گواہ بنانا ضروری نہیں۔ کچھ لوگ آپ کو سمجھنے کے لیے نہیں، آپ کو اپنے تصور کے مطابق ثابت کرنے کے لیے بات کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اپنی صفائی پیش کرتے رہنا ایسا ہے جیسے آپ کسی ایسے دروازے پر دستک دیتے رہیں جس کے اندر سے پہلے ہی فیصلہ آ چکا ہو۔ کبھی انسان کی سب سے باوقار وضاحت اس کی مسلسل زندگی ہوتی ہے۔
لیکن خاموشی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر ظلم سہہ لیا جائے۔ تہذیب بزدلی نہیں، اور درگزر کا مطلب حدود مٹا دینا نہیں۔ کچھ لوگوں کو معاف کرنا پڑتا ہے مگر دوبارہ قریب نہیں لایا جاتا۔ کچھ دروازے بند کرنے پڑتے ہیں مگر ان پر نفرت کے کیل نہیں ٹھونکے جاتے۔ کچھ راستوں سے الگ ہونا پڑتا ہے مگر پیچھے مڑ کر پتھر پھینکنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فاصلہ کبھی انتقام نہیں ہوتا؛ بعض اوقات فاصلہ اپنی روح کی حفاظت کا نام ہوتا ہے۔
وقت کے بارے میں بھی انسان کو بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔ آج کا مخالف کل کا اجنبی ہو سکتا ہے اور آج کا اجنبی کسی دن پھر زندگی کے کسی موڑ پر سامنے آ سکتا ہے۔ تعلقات ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق ختم نہیں ہوتے؛ کچھ رشتے فاصلے میں بھی سانس لیتے رہتے ہیں۔ اس لیے رخصت ہوتے ہوئے دروازہ بند ضرور کیجیے، مگر اسے اتنی شدت سے نہ پٹخیے کہ کل اگر حالات پلٹیں تو واپسی کی آواز خود آپ کو اجنبی لگنے لگے۔
اور اگر کبھی انتقام کا خیال دل میں اس شدت سے اترے کہ سکون اس کے بغیر ناممکن محسوس ہونے لگے تو ایک لمحے کے لیے رک کر دیکھیے: جس شخص کو آپ سزا دینا چاہتے ہیں، کیا وہ واقعی آپ کی زندگی میں اتنی جگہ کا مستحق ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکا ہے اور آپ اب بھی اس کے ایک جملے، ایک زخم یا ایک ناانصافی کے ملبے میں بیٹھے ہیں؟ کسی کو دل سے نکالنے کے بجائے اسے دل میں بٹھا کر اس کے خلاف مقدمہ چلاتے رہنا بھی ایک عجیب قسم کی غلامی ہے۔
زندگی اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ اسے ان لوگوں کی رائے کے حوالے کر دیا جائے جو آپ کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ انسان کا وقار اس بات سے نہیں طے ہوتا کہ کتنے لوگ اس کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں؛ وقار اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی برا سوچے، برا کہے، برا کرے اور پھر بھی انسان اپنے اندر کی روشنی کو اس کے ہاتھوں بجھنے نہ دے۔ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، یہ ان کے باطن کی خبر ہے؛ آپ ان کے بارے میں کیا بن جاتے ہیں، یہ آپ کے کردار کی خبر ہے۔
شاید اسی لیے دشمنی میں سب سے بڑی اخلاقی فتح یہ نہیں کہ آپ اپنے مخالف کو زیر کر دیں۔ اس سے بڑی فتح یہ ہے کہ اس کی مخالفت آپ کو اپنے مقام سے نیچے نہ اتار سکے۔ وہ نفرت کرے اور آپ کے اندر انسانیت باقی رہے؛ وہ آپ کو گرانا چاہے اور آپ کسی کو گرا کر بلند ہونے سے انکار کر دیں؛ وہ آپ کی عزت چھیننے کی کوشش کرے اور آپ اس کے جواب میں اپنی زبان کی عزت نہ چھینیں۔
کیونکہ انسان کا قد اس وقت نہیں ناپا جاتا جب وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیان کھڑا ہو؛ اس کا قد اس لمحے معلوم ہوتا ہے جب اسے اپنے مخالف کو زخمی کرنے کا پورا اختیار حاصل ہو اور پھر بھی اس کا ہاتھ اپنے ظرف کی حد سے آگے نہ بڑھے۔
آخرکار دشمنی کا سوال یہ نہیں کہ آپ نے اپنے دشمن کے ساتھ کیا کیا؛ سوال یہ ہے کہ دشمنی نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ اگر اس نے آپ سے آپ کی نرمی چھین لی، آپ کی زبان کو زہر دے دیا، آپ کے دل کو انتقام کا گھر بنا دیا اور آپ کو وہی بنا دیا جس سے آپ نفرت کرتے تھے تو وہ آپ سے جنگ نہیں جیتا، وہ آپ کے اندر داخل ہو کر آپ کا کردار جیت گیا۔
اور شاید دشمنی کی پوری تہذیب کا نچوڑ صرف اتنا ہے:
اپنے مخالف کو شکست دینے کی خواہش میں خود کو شکست نہ دیجیے؛ کیونکہ دنیا کی سب سے شرمناک فتح وہ ہے جس کے بعد انسان دشمن سے تو جیت جائے، مگر اپنے ہی ضمیر کی نگاہ میں ہار جائے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top