(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
انسان کی سب سے پرانی خواہش شاید یہی ہے کہ جو خوبصورت ہے اسے روک لے، جو اپنا ہے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا رکھ لے اور جو ہاتھ میں آ گیا ہے اسے وقت کی دسترس سے محفوظ کر دے۔ مگر زندگی کسی صندوق میں بند کی جانے والی شے نہیں؛ یہ ایک مسلسل گزرنے کا نام ہے۔ یہاں ہر لمحہ آتا ہی اس لیے ہے کہ گزر جائے، ہر ملاقات اپنے اندر جدائی کا امکان رکھتی ہے اور ہر بہار کی تہہ میں خزاں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ہم المیے کو یہ سمجھ کر بڑا بنا لیتے ہیں کہ جو چیز ختم ہوئی، اسے ختم نہیں ہونا چاہیے تھا؛ حالاں کہ زندگی کا دستور ہی یہ ہے کہ جو آیا ہے اسے ایک دن رخصت ہونا ہے۔
ہم تعلقات کو اکثر محبت سے زیادہ ملکیت کی زبان میں سمجھنے لگتے ہیں۔ کوئی ہمارے قریب آیا تو ہم نے لاشعوری طور پر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے نام لکھ لیا۔ پھر جب راستے بدل گئے تو ہمیں جدائی نہیں ہوئی، جیسے ہماری ملکیت چھن گئی ہو۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں محبت دکھ میں بدلتی ہے۔ محبت اگر آزادی نہ دے تو آہستہ آہستہ قبضہ بن جاتی ہے، اور قبضہ ختم ہو تو انسان اسے بے وفائی کا نام دے دیتا ہے۔ حالاں کہ ہر جانے والا بے وفا نہیں ہوتا؛ بعض لوگ صرف اتنی ہی مدت کے لیے ہماری زندگی میں آتے ہیں جتنی مدت ان کی اور ہماری داستان کو ایک صفحے پر رہنا ہوتا ہے۔
اس لیے جو شخص آج آپ کے ساتھ ہے، اسے کل کے خوف میں مت کھو دیجیے۔ اس کی موجودگی کو مستقبل کی ضمانت بنانے کے بجائے آج کی نعمت سمجھ کر جانیے۔ اس کے ساتھ بیٹھیں تو پوری طرح بیٹھیں، سنیں تو پوری طرح سنیں، محبت کریں تو حساب کے بغیر کریں۔ زندگی کی سب سے بڑی محرومی کبھی کسی کا چلے جانا نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی اصل محرومی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمارے پاس تھا اور ہم اس کی موجودگی میں بھی کہیں اور موجود تھے۔
وقت کسی سے دشمنی نہیں کرتا، وہ صرف اپنا کام کرتا ہے۔ وہ چہروں سے جوانی، گھروں سے رونق، ملاقاتوں سے قربت اور خوابوں سے تازگی لے جاتا ہے؛ مگر اس کا مقصد ہمیں خالی کرنا نہیں، ہمیں بدلنا ہے۔ جو شخص ہر گزرتی ہوئی چیز کو نقصان سمجھتا ہے، وہ زندگی کے نصف حسن سے محروم رہتا ہے۔ خزاں درخت سے صرف پتے نہیں چھینتی، اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ برہنہ شاخوں کے ساتھ بھی بہار کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔
ہماری بہت سی شکستیں دراصل ہماری بنائی ہوئی منزلوں کی شکست ہوتی ہیں، ہماری نہیں۔ ایک منصوبہ ناکام ہو سکتا ہے، مگر منصوبہ بنانے والا انسان ناکام نہیں ہو جاتا۔ ایک خواب بکھر سکتا ہے، مگر خواب دیکھنے کی صلاحیت باقی رہتی ہے۔ ایک راستہ بند ہو سکتا ہے، مگر چلنے والا ختم نہیں ہو جاتا۔ زندگی جب ہمارے نقشے کو پھاڑتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ ہمیں بھٹکا رہی ہو؛ کبھی وہ ہمیں اس منزل کی طرف موڑ رہی ہوتی ہے جس کا نقشہ ہم نے خود کبھی بنایا ہی نہیں تھا۔
اسی لیے ہر ٹوٹنے والی چیز پر ماتم ضروری نہیں۔ کچھ چیزیں اس لیے ٹوٹتی ہیں کہ ہم ان کے اندر قید ہو چکے ہوتے ہیں۔ کچھ دروازے اس لیے بند ہوتے ہیں کہ ہم برسوں سے ایک ہی دہلیز پر کھڑے رہنے کی عادت میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اس لیے رخصت ہوتے ہیں کہ ان کے جانے کے بعد ہمیں پہلی بار اپنی تنہائی کی آواز سنائی دیتی ہے، اور اسی آواز میں کبھی کبھی وہ شخص دریافت ہو جاتا ہے جسے ہم پوری زندگی دوسروں کے ہجوم میں تلاش کرتے رہے تھے: اپنا آپ۔
فنا سے خوف دراصل زندگی کو مستقل سمجھ لینے کی غلطی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خوشی قائم رہے، محبت قائم رہے، صحت قائم رہے، جوانی قائم رہے، شہرت قائم رہے اور ہمارے پسندیدہ لوگ بھی ہمیشہ اسی جگہ کھڑے رہیں جہاں ہم نے انہیں چھوڑا تھا۔ مگر ٹھہراؤ زندگی کی خاصیت نہیں، زندگی تو حرکت ہے۔ دریا اگر ایک جگہ رک جائے تو اس کا پانی اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ شاید انسان بھی اسی وقت بوجھ بن جاتا ہے جب وہ گزرنے والی چیزوں کو گزرنے نہیں دیتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بے تعلق ہو جائے، بے حس ہو جائے یا کسی چیز سے محبت نہ کرے۔ اصل دانائی تو اس کے برعکس ہے: اتنی گہری محبت کیجیے کہ جدائی بھی اس محبت کی توہین نہ بن سکے۔ کسی کے ساتھ رہیں تو اسے اپنی جاگیر نہ سمجھیں، کسی خواب کو چاہیں تو اسے اپنی تقدیر کا واحد دروازہ نہ بنائیں، کسی کامیابی کو پائیں تو اسے اپنی شناخت کا آخری ستون نہ بنائیں۔ جو چیز آپ کے پاس ہے اسے نعمت سمجھ کر تھامیے، ملکیت سمجھ کر نہیں۔
اور جب کوئی چیز آپ کے ہاتھ سے نکل جائے تو فوراً یہ سوال نہ کیجیے کہ مجھ سے کیا چھن گیا؛ کبھی یہ بھی پوچھیے کہ اس کے جانے کے بعد میرے اندر کیا پیدا ہوا؟ شاید ایک نیا شعور، شاید ایک نئی سمت، شاید اپنے آپ سے ملاقات، شاید شکر کا وہ ذائقہ جو آسودگی میں کبھی محسوس نہ ہوا تھا۔ بعض محرومیاں انسان کو وہ آنکھ دے جاتی ہیں جس سے وہ ان نعمتوں کو دیکھنے لگتا ہے جن کے درمیان رہتے ہوئے بھی وہ نابینا تھا۔
زندگی کے ساتھ چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے۔ کوشش کیجیے، پوری قوت سے کیجیے، خواب دیکھیے، تعبیر کیجیے، محبت کیجیے، اپنے حصے کا حق ادا کیجیے؛ مگر نتیجے کو اپنی مٹھی میں قید کرنے کی ضد نہ کیجیے۔ بیج کا کام مٹی پھاڑنا ہے، بارش برسانا اس کے اختیار میں نہیں۔ انسان کا کام اخلاص سے چلنا ہے، ہر موڑ کو اپنی مرضی کا بنانا نہیں۔
بعض اوقات ہم کامیابی کے نام پر اپنے ہی وجود سے جنگ شروع کر دیتے ہیں۔ جسم تھک رہا ہوتا ہے مگر ہم اسے دھکیلتے رہتے ہیں، دل انکار کر رہا ہوتا ہے مگر ہم اسے خاموش کر دیتے ہیں، حالات راستہ بدلنے کا اشارہ دے رہے ہوتے ہیں مگر ہم اپنی ضد کو عزم کا نام دے دیتے ہیں۔ ہر مزاحمت بہادری نہیں ہوتی۔ کبھی راستے سے ہٹ جانا شکست نہیں، اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دیوار راستہ نہیں ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان کو سمجھ آتی ہے کہ زندگی کو جیتنا اور زندگی کے ساتھ جینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ جیتنے والا ہر چیز کو اپنے مطابق کرنا چاہتا ہے؛ جینے والا خود کو حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا سیکھ لیتا ہے۔ پہلا شخص ہر تبدیلی سے لڑتا ہے، دوسرا تبدیلی کے اندر امکان تلاش کرتا ہے۔ پہلا ہر اختتام کو نقصان سمجھتا ہے، دوسرا جانتا ہے کہ بعض اختتام نئے آغاز کی خاموش تمہید ہوتے ہیں۔
شاید پختگی کا ایک نام یہ بھی ہے کہ انسان رخصت ہوتی چیزوں کو بددعا نہیں دیتا۔ جو ملا، اس پر شکر؛ جو رہا، اس کی قدر؛ جو چلا گیا، اس کی یاد کے لیے دل میں ایک روشن جگہ؛ اور جو ابھی آنا ہے، اس کے لیے امید۔ پھر ماضی بوجھ نہیں رہتا، مستقبل خوف نہیں رہتا اور حال کسی ایسی چیز کو پکڑنے کی بے چینی سے آزاد ہو جاتا ہے جو بہرحال انگلیوں کے درمیان سے نکل جانی ہے۔
آخرکار انسان کو یہ سیکھنا پڑتا ہے کہ زندگی ہماری ملکیت نہیں، ہماری امانت ہے۔ لوگ ہمارے پاس امانت ہیں، وقت امانت ہے، صحت امانت ہے، صلاحیت امانت ہے، حتیٰ کہ ہمارے خواب بھی امانت ہیں۔ امانت کا حسن یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھا جائے؛ حسن یہ ہے کہ جب تک ہمارے پاس ہو، اسے پوری دیانت، پوری محبت اور پوری شکرگزاری سے نبھایا جائے۔
جو شخص گزر جانے والی چیزوں سے جنگ کرنا چھوڑ دیتا ہے، وہ پہلی بار زندگی کو کھونا نہیں بلکہ جینا شروع کرتا ہے۔ پھر رخصتیاں اسے توڑتی نہیں، بدلتی ہیں؛ شکستیں اسے مٹاتی نہیں، تراشتی ہیں؛ اور وقت اس سے کچھ چھین کر نہیں جاتا، اسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کے اپنے اصل وجود کے قریب کرتا چلا جاتا ہے۔
شاید زندگی کی سب سے بڑی دانائی یہی ہے کہ ہاتھ میں آنے والی ہر چیز کو مٹھی میں بند کرنے کے بجائے دل میں جگہ دی جائے؛ کیونکہ مٹھی بند ہو تو کچھ دیر کے لیے چیز محفوظ رہتی ہے، مگر دل کھلا ہو تو گزرا ہوا بھی انسان کے اندر روشنی بن کر باقی رہتا ہے۔
