(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ہم اکثر بہادری کو غلط جگہ تلاش کرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے بہادر وہ ہے جس کے دل میں خوف نہ اترے، جس کے ہاتھ نہ کانپیں، جس کی آنکھ میں خطرے کا عکس نہ آئے اور جسے شکست کا اندیشہ نہ ہو۔ حالانکہ جس دل نے کبھی خوف کو دیکھا ہی نہیں وہ شجاعت کا مطلب کیا جانے؟ بہادری خوف کا نہ ہونا نہیں، خوف کے باوجود کھڑے رہنے کا نام ہے۔
خوف انسان کی کمزوری نہیں، اس کی فطرت کا ایک محافظ دروازہ ہے۔ وہ ہمیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے، نقصان کا احساس دلاتا ہے اور کبھی کبھی ہماری جان تک بچا لیتا ہے۔ مگر زندگی کے کچھ موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں خوف دروازہ بن کر سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور دوسری طرف ہماری منزل ہوتی ہے۔ وہاں فیصلہ یہ نہیں ہوتا کہ ڈر رہے ہو یا نہیں، فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ ڈر کے باوجود قدم اٹھاؤ گے یا نہیں۔
کبھی انسان کو ناکامی کا خوف روک لیتا ہے، کبھی لوگوں کی رائے، کبھی تنہائی، کبھی محرومی اور کبھی اپنے ہی ماضی کا سایہ۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ شکست سے نہیں ہارتے بلکہ شکست کے تصور سے پہلے ہی ہار جاتے ہیں۔ جنگ میدان میں بعد میں ہوتی ہے، انسان کے اندر پہلے ختم ہو جاتی ہے۔ اور جس دن آدمی اپنے خوف کو اپنی تقدیر سمجھ لیتا ہے اسی دن اس کے امکانات مرنے لگتے ہیں۔
یاد رکھیے، خوف اکثر ہمیں اس چیز سے ڈراتا ہے جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔ ہم ایک ایسے کل کی سزا آج بھگت رہے ہوتے ہیں جو شاید کبھی آئے ہی نہ۔ ناکامی ابھی واقع نہیں ہوئی ہوتی مگر ہم اس کا ماتم شروع کر دیتے ہیں۔ لوگ ابھی ہنسے نہیں ہوتے مگر ہم ان کے قہقہے اپنے دل میں سن لیتے ہیں۔ دروازہ ابھی بند نہیں ہوا ہوتا مگر ہم واپس لوٹ آتے ہیں۔ یوں انسان کبھی کبھی حقیقت سے نہیں ہارتا، اپنے وہم کی بنائی ہوئی حقیقت سے ہار جاتا ہے۔
شجاعت یہ نہیں کہ آدمی کو معلوم نہ ہو کہ سامنے طوفان ہے۔ شجاعت یہ ہے کہ اسے طوفان کا پورا ادراک ہو اور پھر بھی وہ اپنے اندر کے ساحل کو ڈوبنے نہ دے۔ بہادر شخص بھی ڈرتا ہے، مگر وہ اپنے خوف کو اپنے فیصلوں کا مالک نہیں بناتا۔ اس کے ہاتھ کانپ سکتے ہیں مگر قدم نہیں رکتے۔ اس کی آنکھ نم ہو سکتی ہے مگر نگاہ منزل سے نہیں ہٹتی۔ اس کا دل خطرے کی آواز سن سکتا ہے مگر اس کے اندر ایک اور آواز اٹھتی ہے جو کہتی ہے: چلو!
زندگی میں بعض راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر یقین منزل تک پہنچ کر نہیں آتا، قدم اٹھانے سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں پہلے یقین نہیں ملتا کہ ہم کامیاب ہوں گے، ہمیں صرف اتنا حوصلہ دیا جاتا ہے کہ ہم کوشش کر سکیں۔ پھر ایک قدم دوسرے قدم کو جنم دیتا ہے، اور کبھی کبھی انسان راستہ تلاش نہیں کرتا بلکہ اپنے قدموں سے راستہ پیدا کرتا ہے۔
خوف کو ختم کرنے کی کوشش نہ کیجیے، اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اپنے خوف سے بھاگنے کے بجائے اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر پوچھیے کہ “تم مجھے کس چیز سے بچانا چاہتے ہو؟” ممکن ہے جواب ملے کہ وہ آپ کو شکست سے نہیں بلکہ شکست کے بعد اپنے آپ کو دوبارہ کھڑا کرنے کی تکلیف سے بچانا چاہتا ہے۔ مگر زندگی میں کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جن سے بچ کر انسان محفوظ تو رہ جاتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔
دنیا کے بڑے فیصلے ہمیشہ بے خوف لوگوں نے نہیں کیے۔ بہت سے عظیم قدم ان لوگوں نے اٹھائے جن کے دل میں بھی اندیشے تھے، جنہیں بھی راتوں کو جاگنا پڑا، جنہیں بھی تنہائی نے گھیر لیا، جنہوں نے بھی کئی مرتبہ خود سے پوچھا کہ “اگر میں ناکام ہو گیا تو؟” فرق صرف یہ تھا کہ انہوں نے اس سوال کے بعد ایک اور سوال کیا: “اور اگر میں نے کوشش ہی نہ کی تو؟”
یہ دوسرا سوال انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
شاید زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہم ناکام ہو جائیں۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر موجود امکان کو صرف اس لیے دفن کر دیں کہ ہمیں خوف تھا کہیں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ شکست ایک واقعہ ہے، مگر خوف کے ہاتھوں ہار جانا ایک طرزِ زندگی ہے۔ شکست کے بعد انسان دوبارہ اٹھ سکتا ہے، مگر خوف کے سامنے مسلسل جھکتے جھکتے ایک وقت آتا ہے جب انسان کو یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ کبھی اڑنے کے لیے پیدا ہوا تھا۔
اس لیے جب اگلی بار خوف آپ کے سامنے کھڑا ہو تو اسے دشمن سمجھ کر بھاگیے نہیں۔ اسے دیکھ کر بس اتنا کہیے: “میں تمہیں محسوس کر رہا ہوں، مگر فیصلہ تم نہیں کرو گے۔”
پھر قدم اٹھائیے۔
ممکن ہے راستہ مشکل ہو، ممکن ہے منزل دیر سے ملے، ممکن ہے لوگ ساتھ چھوڑ دیں اور ممکن ہے آپ کو کچھ فاصلے تک صرف اپنی ہی پرچھائیں ساتھ چلتی دکھائی دے۔ مگر یاد رکھیے، بعض راستوں کی تنہائی اس بات کی دلیل نہیں ہوتی کہ آپ غلط سمت میں جا رہے ہیں؛ کبھی کبھی یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ آپ وہ راستہ اختیار کر چکے ہیں جہاں آپ سے پہلے بہت کم لوگ چلے تھے۔
آخرکار بہادری یہ نہیں کہ انسان کے دل میں خوف نہ ہو۔ بہادری یہ ہے کہ دل میں خوف ہو اور روح پھر بھی آزادی مانگے؛ آنکھوں کے سامنے اندھیرا ہو اور انسان پھر بھی چراغ جلائے؛ راستہ نامعلوم ہو اور قدم پھر بھی اٹھے؛ شکست کا امکان موجود ہو اور کوشش پھر بھی جاری رہے۔
کیونکہ خوف ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں کمزور ہیں، مگر حوصلہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم وہاں سے آگے کہاں جا سکتے ہیں۔
اور شاید زندگی کا سب سے خوب صورت لمحہ وہی ہوتا ہے جب انسان اپنے خوف کے سامنے کھڑا ہو کر پہلی بار سمجھتا ہے کہ جس دیوار کو وہ برسوں سے اپنی تقدیر سمجھ رہا تھا، وہ دراصل صرف اس کے اپنے ڈر کی بنائی ہوئی تھی۔
