گزرنے سے پہلے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

زندگی شاید گزرنے کا نام نہیں، گزر جانے سے پہلے اسے پہچان لینے کا نام ہے۔ کچھ لمحے ہماری ہتھیلی پر شبنم کی طرح اترتے ہیں؛ ذرا سی غفلت ہو تو سورج انہیں ہم سے پہلے پڑھ لیتا ہے۔ پھر ہاتھ میں نمی بھی نہیں رہتی اور آنکھ میں وہ منظر بھی نہیں جس کے لیے دل نے عمر بھر انتظار کیا تھا۔
ہم اکثر محبت کو مؤخر کرتے رہتے ہیں، اظہار کو کل پر ٹالتے ہیں، کسی کے قریب جانے کے لیے مناسب وقت ڈھونڈتے ہیں، اور اسی تلاش میں وقت ہمیں پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ دل کی بات کہنے کے لیے عمر پڑی ہے، حالاں کہ بعض محبتیں عمر نہیں مانگتیں، صرف ایک لمحے کی صداقت مانگتی ہیں۔ جو بات آج کہی جا سکتی ہے، وہ کل صرف ایک حسرت بن سکتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی بے وفائی شاید یہ نہیں کہ کوئی ہمیں چھوڑ جائے؛ اصل بے وفائی یہ ہے کہ ہم کسی کو اپنے دل میں جگہ دے کر بھی اسے یہ بتانے میں دیر کر دیں کہ وہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں بہت مختصر مدت کے لیے آتے ہیں مگر اپنی موجودگی سے پورا زمانہ بدل جاتے ہیں۔ پھر جب وہ چلے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وقت کم نہیں تھا، ہم احساس میں دیر کر گئے تھے۔
حسن بھی ہمیشہ نہیں رہتا، جوانی بھی نہیں، موسم بھی نہیں، ملاقات بھی نہیں۔ چاند ہر رات ایک جیسا نہیں ہوتا اور چراغ بھی ہمیشہ ہوا سے محفوظ نہیں رہتا۔ کائنات کی ہر خوب صورتی کے ماتھے پر فنا کی ایک باریک لکیر لکھی ہے۔ پھول کھلتے ہوئے بھی اپنے مرجھانے کی خبر رکھتے ہیں، شام اترتے ہوئے بھی صبح کے گزر جانے کا ماتم اپنے اندر لیے ہوتی ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم “آج” کو مستقل سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ آج زندگی کا سب سے نازک قرض ہے؛ اسے خرچ نہ کیا جائے تو بھی یہ واپس نہیں آتا۔ وقت کسی کے لیے رک کر نہیں دیکھتا کہ محبت پوری ہوئی یا نہیں، کوئی بات کہی گئی یا نہیں، کوئی ہاتھ تھاما گیا یا نہیں۔ وہ صرف گزرتا ہے اور اپنے ساتھ ہمارے امکانات بھی لے جاتا ہے۔
تاریخ کے کھنڈرات اسی خاموش حقیقت کے گواہ ہیں۔ کبھی جہاں زندگی اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ آباد تھی وہاں اب صرف پتھر بولتے ہیں۔ تہذیبیں آئیں، اپنے فن پر ناز کیا، اپنے فلسفوں کو آخری سچ سمجھا، اپنے شہروں کو لازوال جانا؛ پھر وقت آیا اور ان سب کو ماضی کے حوالے کر گیا۔ جو آج ابدیت کا دعویٰ کرتا ہے، کل کسی داستان کا حاشیہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے محبت کو بھی وقت کی حقیقت سمجھنی چاہیے۔ محبت صرف کسی کو چاہنے کا نام نہیں؛ محبت یہ جان لینا بھی ہے کہ جسے چاہتے ہیں وہ ہمیشہ ہمارے سامنے نہیں رہے گا۔ اس لیے اگر دل میں کوئی اعتراف ہے تو اسے لفظ دیجیے۔ اگر کسی کے لیے شکر ہے تو کہہ دیجیے۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو انا کو راستے سے ہٹا دیجیے۔ اگر کسی کا ہاتھ تھامنا ہے تو اس وقت تھامیے جب وہ ہاتھ آپ کے ہاتھ تک پہنچ رہا ہو۔
ہم اکثر زندگی کے بڑے فلسفے سمجھنے میں عمر لگا دیتے ہیں، جبکہ زندگی کا سب سے بڑا فلسفہ نہایت سادہ ہے: جو خوب صورت ہے، اسے محسوس کر لیجیے؛ جو عزیز ہے، اسے بتا دیجیے؛ جو پاس ہے، اسے جی لیجیے۔
کیونکہ ایک دن شام ضرور اترے گی۔
ایک دن چراغ ضرور کم ہوں گے۔
ایک دن آوازیں دور ہو جائیں گی۔
ایک دن کسی چہرے کو دیکھنے کی خواہش صرف یاد بن جائے گی۔
اور ایک دن ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو شاید سب سے زیادہ افسوس ان لمحوں کا ہوگا جنہیں ہم نے اس یقین میں گزار دیا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔
وقت باقی نہیں ہوتا؛ صرف لمحہ باقی ہوتا ہے۔
اور زندگی کا کمال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے برس گزارے، کمال یہ ہے کہ ان برسوں میں کتنے لمحوں کو واقعی زندگی بنا دیا۔
اس لیے جو کہنا ہے، کہہ دیجیے۔
جو محبت ہے، اسے چھپا کر مت رکھیے۔
جو شخص عزیز ہے، اسے اپنی خاموشی کا مطلب سمجھنے پر مجبور نہ کیجیے۔
جو لمحہ خوب صورت ہے، اسے مستقبل کے حوالے نہ کیجیے۔
کیونکہ کچھ چیزیں بعد میں نہیں ملتیں؛ کچھ پھول صرف اسی موسم میں کھلتے ہیں، کچھ چراغ صرف اسی رات روشن ہوتے ہیں اور کچھ محبتیں صرف اسی لمحے زندگی مانگتی ہیں۔
گزرنے سے پہلے انہیں گزر جانے نہ دیجیے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top