سکون کی تلاش میں ہم خود سے کتنی دور نکل گئے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

انسان کی سب سے عجیب محرومی یہ نہیں کہ اسے بہت کچھ نہیں ملا، بلکہ یہ ہے کہ بہت کچھ مل جانے کے بعد بھی اس کے اندر ایک ایسی جگہ خالی رہتی ہے جسے دنیا کی کوئی چیز پُر نہیں کر پاتی۔ وہ اس خلا کو کامیابی کا نام دیتا ہے، پھر کامیابی حاصل کر کے اسے کسی نئی منزل کا نام دے دیتا ہے۔ یوں خواہش ایک سیڑھی بن جاتی ہے جس کی آخری سیڑھی کبھی آتی ہی نہیں، اور انسان ساری عمر اوپر چڑھتے چڑھتے یہ بھول جاتا ہے کہ جس زمین پر کھڑے ہو کر اسے چلنا تھا، اس زمین سے اس کا رشتہ کب کا ٹوٹ چکا ہے۔
ہم نے سکون کو بھی ایک حاصل ہونے والی چیز سمجھ لیا ہے، جیسے یہ کسی دکان کی الماری میں رکھا ہوا کوئی سامان ہو جسے کچھ قیمت دے کر خریدا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب حالات ہمارے مطابق ہو جائیں گے تو دل بھی ٹھیک ہو جائے گا؛ جب آمدنی بڑھ جائے گی، گھر بدل جائے گا، اولاد سنبھل جائے گی، کوئی خاص شخص ہماری زندگی میں آ جائے گا، صحت بہتر ہو جائے گی، نام بن جائے گا، تب شاید اندر کا شور تھم جائے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ زندگی ہماری بہت سی خواہشیں پوری کرتی رہتی ہے اور دل کی بے قراری اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہم اپنی پیاس کے لیے غلط جگہ پانی تلاش کر رہے ہیں۔
دنیا ہمیں سہولت دے سکتی ہے، اطمینان نہیں؛ آسائش دے سکتی ہے، قرار نہیں۔ دولت بوجھ ہلکا کر سکتی ہے، دل کا وزن نہیں۔ شہرت لوگوں کی نگاہیں ہماری طرف موڑ سکتی ہے، مگر ہماری اپنی نگاہ کو ہمارے اندر نہیں اتار سکتی۔ محبت تنہائی کے ایک موسم کو خوب صورت بنا سکتی ہے، مگر کسی دوسرے انسان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہمارے اندر کی تمام ویرانی آباد کر دے گا، محبت پر بھی ایک ایسا بوجھ ہے جسے وہ زیادہ دیر اٹھا نہیں سکتی۔
ہم دوسروں سے وہ سکون مانگتے ہیں جو دراصل کسی دوسرے انسان کی ذمہ داری نہیں۔ پھر جب وہ ہماری توقع کے مطابق نہیں نکلتے تو ہمیں لگتا ہے کہ محبت ناکام ہو گئی۔ حقیقت میں محبت ناکام نہیں ہوتی، ہماری توقع غلط سمت میں ہوتی ہے۔ کوئی انسان ہمارے ساتھ چل سکتا ہے، ہمارے زخم پر ہاتھ رکھ سکتا ہے، ہمارے اندھیرے میں چراغ رکھ سکتا ہے، مگر ہمارے اندر وہ جگہ آباد نہیں کر سکتا جہاں صرف خدا کی قربت اترتی ہے۔
شاید اسی لیے بعض اوقات ایک بھرے ہوئے گھر میں بھی آدمی تنہا ہوتا ہے اور کبھی ایک خاموش کمرے میں اسے ایسی رفاقت میسر آ جاتی ہے جس کے لیے کسی انسان کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔ فرق باہر کے ماحول میں نہیں، اندر کی نسبت میں ہوتا ہے۔ دل جس طرف جھک جائے، زندگی کی معنویت بھی وہیں سے پھوٹنے لگتی ہے۔
ہم نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ چیزیں درست کرنے میں گزار دیا، حالانکہ بعض اوقات چیزیں نہیں، ہماری نسبتیں درست ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں سمجھ لے، مگر خود کو سمجھنے کے لیے خاموش نہیں بیٹھتے۔ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ انصاف کریں، مگر اپنے نفس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی دیکھنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ چاہتے ہیں کہ حالات بدل جائیں، مگر یہ سوال نہیں کرتے کہ اگر حالات کبھی نہ بدلیں تو کیا ہم پھر بھی اپنے رب کے ساتھ جڑے رہ سکتے ہیں؟
سکون شاید حالات کا اچھا ہو جانا نہیں، حالات کے درمیان دل کا اپنے مرکز کو پہچان لینا ہے۔
جس دن انسان کو یہ بات سمجھ آ جائے، اس دن خوشی اور سکون ایک دوسرے سے الگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔ خوشی کسی خبر سے آ سکتی ہے، سکون کسی خبر کا محتاج نہیں ہوتا۔ خوشی کسی ملاقات سے پیدا ہو سکتی ہے، سکون تنہائی میں بھی اتر سکتا ہے۔ خوشی ملنے والی چیز ہے، سکون پہچانی جانے والی حقیقت۔ خوشی آتی جاتی رہتی ہے، مگر سکون کا تعلق اس جگہ سے ہے جہاں انسان اپنے وجود کو کسی بڑی حقیقت کے سپرد کر دیتا ہے۔
پھر آدمی اپنی زندگی سے ہر سوال کا جواب مانگنا چھوڑ دیتا ہے۔ اسے ہر نقصان کی فوری حکمت معلوم نہیں ہوتی، مگر وہ ٹوٹ کر بھی بدگمان نہیں ہوتا۔ اسے ہر دعا کا نتیجہ اپنی مرضی کے مطابق نہیں ملتا، مگر دعا سے اس کا رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ دروازے بند ہونا بھی حفاظت ہے، کچھ راستے چھوٹ جانا بھی رہنمائی ہے اور کچھ محرومیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا مطلب انسان کو برسوں بعد سمجھ آتا ہے۔
یہیں سے سکون جنم لیتا ہے۔
سکون اس وقت نہیں آتا جب زندگی میں کچھ بھی ایسا نہ رہے جو ہمیں پریشان کرے؛ سکون اس وقت آتا ہے جب دل کے اندر ایک ایسی جگہ بن جائے جہاں پریشانی پہنچ تو سکتی ہو، مگر تخت نشین نہیں ہو سکتی۔
پھر خوف آتا ہے تو انسان اسے دیکھتا ہے، مگر اپنا مالک نہیں بناتا۔ غم آتا ہے تو اسے محسوس کرتا ہے، مگر اپنی شناخت نہیں بننے دیتا۔ تنہائی آتی ہے تو اس سے بھاگتا نہیں، بلکہ کبھی کبھی اسی خاموشی میں اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ پا لیتا ہے۔ زندگی کے مسائل ختم نہیں ہوتے، مگر انسان کے اندر ان سے بڑا ایک یقین پیدا ہو جاتا ہے۔
اور شاید یہی یقین سکون کی اصل جڑ ہے۔
ہم ساری عمر یہ سمجھتے رہے کہ سکون کسی منزل پر ہمارا منتظر ہے، حالانکہ وہ شاید سفر کے ہر موڑ پر ہمارے ساتھ چل رہا تھا؛ ہم ہی اپنی خواہشوں کے ہجوم میں اس کی آواز نہیں سن پا رہے تھے۔ ہم نے اپنے دل پر اتنی آوازیں لاد رکھی تھیں کہ اندر سے آنے والی سب سے ضروری صدا دب گئی تھی۔
کبھی کبھی انسان کو سکون حاصل کرنے کے لیے کچھ نیا پانے کی نہیں، بہت کچھ چھوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے؛ دوسروں کی رائے کا بوجھ، ہر بات کو اپنے حق میں ثابت کرنے کی ضد، ہر نقصان کا حساب، ہر شخص سے توقع، ہر واقعے کو اپنی مرضی سے چلانے کی خواہش اور سب سے بڑھ کر یہ گمان کہ زندگی کی باگ ڈور مکمل طور پر ہمارے ہاتھ میں ہے۔
جس دن ہاتھ کھلتے ہیں، دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔
اور جس دن دل اپنی بے بسی کو شکست نہیں بلکہ رب کے سامنے اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے، اسی دن انسان کے اندر ایک ایسی خاموش روشنی اترتی ہے جسے نہ بازار خرید سکتا ہے، نہ زمانہ چھین سکتا ہے۔
تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ سکون کوئی ایسی چیز نہیں جو دنیا سے ملے اور پھر سنبھال کر رکھی جائے۔
سکون تو وہ کیفیت ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کا دل دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کو اپنا آخری سہارا سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔
پھر آدمی کے پاس بہت کچھ ہو تو شکر کرتا ہے، کم ہو تو صبر کرتا ہے، مل جائے تو مغرور نہیں ہوتا، چھن جائے تو بکھرتا نہیں۔ کیونکہ اس نے آخرکار اپنی زندگی کا سب سے اہم راز پا لیا ہوتا ہے:
جس دل نے اپنا سہارا اپنے خالق میں رکھ دیا، دنیا اس سے بہت کچھ لے سکتی ہے، مگر اسے بے سہارا نہیں کر سکتی۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top