رشتے ایک دن نہیں مرتے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رشتے اچانک ختم نہیں ہوتے۔ ان کی موت بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے، جب کوئی پہلی بار دل دکھنے پر خاموش رہتا ہے، جب اپنی تکلیف کو معمولی سمجھ کر نگل لیتا ہے، جب محبت بچانے کے لیے انسان بار بار اپنے ہی دکھ سے سمجھوتا کرتا ہے۔ یوں ایک تعلق کے اندر خاموش دراڑیں پڑتی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ایک دن دیوار کھڑی رہتی ہے مگر گھر نہیں رہتا۔
سب سے خطرناک لمحہ لڑائی نہیں، بےتعلقی ہے۔ غصے میں آدمی اب بھی سامنے والے سے کچھ چاہتا ہے؛ وضاحت، احساس، معافی۔ مگر جب شکایت بھی ختم ہو جائے تو سمجھ لیجیے دل نے امید سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں، “وہ اچانک بدل گیا۔”
نہیں، کوئی اچانک نہیں بدلتا۔ بہت کچھ اندر ہی اندر بدلتا رہتا ہے، صرف دوسروں کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب آخری نشان بھی مٹ جاتا ہے۔
وہ شخص کتنی بار لوٹا ہوگا، کتنی مرتبہ اپنے دل کو سمجھایا ہوگا کہ شاید اب کی بار بات سن لی جائے گی، شاید محبت اس بار لفظوں سے نکل کر رویے میں آ جائے گی۔ مگر امید بھی ہمیشہ ایک ہی دروازے پر دستک نہیں دیتی۔ ایک وقت آتا ہے جب وہ تھک کر خاموش ہو جاتی ہے۔
پھر جدائی نفرت کا فیصلہ نہیں رہتی، اپنی ذات کو بچانے کی کوشش بن جاتی ہے۔
انسان ہمیشہ شخص کو نہیں چھوڑتا؛ کبھی وہ اس اذیت سے نکلتا ہے جو اس شخص کے ساتھ جڑ گئی ہوتی ہے۔ وہ مسلسل انتظار چھوڑتا ہے، ہر رویے کا مطلب نکالنا چھوڑتا ہے، ہر زخم کے لیے جواز تراشنا چھوڑتا ہے۔ اور شاید سب سے بڑھ کر، وہ اپنے آپ کو یہ باور کرانا چھوڑ دیتا ہے کہ محبت کے نام پر ہر چیز برداشت کی جا سکتی ہے۔
لوگ آخری واقعہ دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں، “بس اسی بات پر رشتہ توڑ دیا؟”
انہیں کیا معلوم، آخری قطرہ کبھی تنہا نہیں گرتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی نمی ہوتی ہے۔
کبھی ایک شخص کے جانے پر حیرت ہوتی ہے، مگر اس کے جانے سے زیادہ حیرت اس بات پر ہونی چاہیے کہ وہ اتنی دیر تک رکا کیسے رہا۔
کسی تعلق کی مدت اس کی صحت کی دلیل نہیں ہوتی۔ برسوں پرانا رشتہ بھی اندر سے ویران ہو سکتا ہے، اور مختصر رفاقت بھی انسان کے دل میں عمر بھر کا چراغ چھوڑ سکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؛ سوال یہ ہے کہ اس وقت کے ساتھ ایک دوسرے کے دل کے ساتھ کیا کیا۔
ہر خاموش شخص مطمئن نہیں ہوتا۔ بعض خاموشیاں آخری بار خود کو سمیٹ رہی ہوتی ہیں۔
اس لیے اپنے قریب کے لوگوں کے ساتھ ذرا نرم رہیے۔ ہر دکھ بولتا نہیں، ہر آنکھ نم نہیں ہوتی، ہر معافی کا مطلب یہ نہیں کہ زخم بھر گیا۔ بعض لوگ تعلق بچاتے بچاتے ایک دن خود کو کھو دیتے ہیں، پھر جب وہ خود کو ڈھونڈنے نکلتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ بے وفا ہو گئے۔
اور شاید سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ کبھی کبھی انسان کسی اپنے کو چھوڑنا نہیں چاہتا، صرف اس جگہ سے نکلنا چاہتا ہے جہاں رہتے رہتے وہ خود اپنے لیے اجنبی ہو گیا ہو۔
رشتے بچانے کے لیے ہمیشہ بڑے وعدوں کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی ایک سچی معذرت، ایک لمحے کی توجہ، ایک نرم لہجہ اور وقت پر محسوس کر لیا جانے والا دکھ کافی ہوتا ہے۔
کیونکہ بعض جدائیاں دروازہ بند ہونے سے نہیں ہوتیں۔
وہ اس دن مکمل ہو جاتی ہیں جب کوئی شخص آخری بار دل میں کہتا ہے: اب مجھے سمجھانے کے لیے بھی کچھ باقی نہیں۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top