نقاب اور حقیقت

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

قدیم شہر کی گلیوں میں، جہاں ہر اینٹ میں کہانیاں بسی تھیں، سلمیٰ اور اس کا شوہر علی ایک معمولی سے مگر محبت بھرے گھر میں رہتے تھے۔ سلمیٰ کا دل نرم اور خیالوں سے بھرا تھا، لیکن وہ ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی چمک دمک سے محروم محسوس کرتی تھی۔
علی کی چھوٹی درزی کی دکان تھی جس پر دن رات محنت کرتا، تاکہ کم از کم روزمرہ کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ زندگی کی تلخیوں کے باوجود سلمیٰ کے چہرے پر ہنسی کم نہ ہوئی، مگر اس دل میں ایک آرزو ہمیشہ پروان چڑھتی:
“کاش کبھی میں بھی شہر کی کسی بڑی محفل میں جاؤں ، جہاں لوگ میرے حسن اور وقار کی تعریف کریں۔”
ایک دن ان کے رشتہ دار، جو شہر کے مشہور اور امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے، نے اپنی نئی کوٹھی کا افتتاح کرنے کی دعوت دی۔ شہر کی یہ سب سے بڑی تقریب تھی، جس میں شہر کے بڑے لوگ ، تاجران اور معزز لوگ شامل ہونے والے تھے۔
سلمیٰ نے یہ سوچ کر خوشی محسوس کی، مگر ساتھ ہی اس کے دل میں گھبراہٹ بھی پیدا ہوئی۔ اس کے پاس پہننے کو کوئی ایسا زیور نہیں تھا جو اس محفل کی شان کے مطابق ہو۔ اس کے پاس صرف اپنی سادگی اور خواب تھے۔
سلمیٰ نے اپنی پرانی دوست مریم سے مدد مانگی۔ مریم نے اپنی سنہری الماری سے ایک چمکتا ہوا ہار نکالا، جو اس کے خاندان کی صدیاں پرانا ورثہ تھا۔
“یہ لو سلمیٰ، تمہارے لیے۔ میری ماں نے اسے میری شادی کے دن دیا تھا۔ اسے سنبھال کر رکھنا، یہ ہمارے خاندان کی عزت ہے۔”
سلمیٰ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، اس نے ہار سنبھالا، جیسے زندگی نے اسے ایک موقع دیا ہو۔
افتتاحی تقریب کی شام، سلمیٰ نے وہ ہار پہنا۔ ہار کی چمک اس کے نرم گالوں کو اور نکھار رہی تھی، اس کی مسکراہٹ میں ایک نیا اعتماد تھا۔ لوگ اس کی تعریف کرتے، اور وہ خود کو اپنی دنیا کی سب سے خوبصورت عورت سمجھنے لگی۔
مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ تقریب ختم ہونے کے بعد جب وہ گھر لوٹی، تو اس نے محسوس کیا کہ ہار غائب ہے۔
دل دھڑکنے لگا، ہاتھ کپکپانے لگے۔ وہ جگہ جگہ تلاش کرتی رہی، لیکن وہ ہار کہیں نہ ملا۔ سلمیٰ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، جیسے پوری دنیا اس کے لیے اندھیری ہو گئی ہو۔
علی نے کہا،
“سلمیٰ، پریشان نہ ہو۔ ہم ویسا ہی سونے کا ہار قرض لے کر ہی سہی خرید کر واپس کر دیں گے۔” اور انہوں نے ایسا ہی کیا قرض اٹھایا گھر کا سامان بیچا اس سا سونے کا ہار خریدا اور ڈبہ میں بند کر کے مریم کو واپس کر دیا ۔
لیکن قرض اتارنا آسان نہ تھا۔ سلمیٰ اور علی نے اپنی زندگی کی ہر خوشی قربان کر دی۔ سلمیٰ نے گھر پر لوگوں کے کپڑوں کی دھلائی شروع کر دین، اپنے خوابوں کو دفن کر دیا، اور علی نے دکان کے اوزار تک قرض اتارنے میں بیچ دیے۔
کئی سال گزر گئے۔ سلمیٰ کے گال پر جھریاں پڑ گئی تھیں، اور اس کی آنکھوں کی چمک مدھم ہو گئی تھی۔ علی کے ہاتھ اب پہلے جیسے ہنر مند نہ رہے تھے، اور ان کی دکان بھی بند ہو گئی تھی۔ لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کی روشنی ابھی بھی روشن تھی۔
ایک دن سلمیٰ کی ملاقات مریم سے ہوئی۔ سلمیٰ نے سارا قصہ سنایا، اپنی آنکھوں سے گرتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ۔
مریم ہنس پڑی اور بولی،
“ارے سلمیٰ، وہ ہار تو نقلی تھا۔ اس کی قیمت چند سکے بھی نہ تھی۔ میں نے بس تمہیں خوش کرنے کے لیے دیا تھا۔ اور اس کی تمہاری نظر میں اہمیت خاطر کہہ دیا تھا کہ وہ میری والدہ کی نشانی ہے ،جب سے تم واپس دے کر گئی ہو میں نے اسے دیکھا تک نہیں”
سلمیٰ کے لبوں پر تلخی اور افسوس کے ساتھ ایک اداس مسکراہٹ تھی۔ اس کے دل نے سمجھا کہ زندگی کے سب سے بڑے نقاب کبھی کبھی خوشی کے نام پر چمکتے ہیں، مگر حقیقت میں خالی ہوتے ہیں۔
دنیا کی چمک دمک اور نقاب سے دھیان ہٹاؤ، کیونکہ اصل دولت دل کی قناعت اور محبت میں ہے۔ جو چیزیں نظر آتی ہیں، وہ ہمیشہ سچی نہیں ہوتیں۔ حقیقی روشنی تو وہی ہے جو دلوں کی قربانی اور خلوص سے پیدا ہوتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top