(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
ساون کا بادل پورے خطے پر منڈلا رہا تھا، مگر اب کے برس وہ چوہدری حشمت کے ڈیرے پر آ کر ٹھہر گیا۔ چناب کے کنارے آباد اس پنڈ میں اگر کسی جوان کا چرچا تھا، تو وہ بوڑھے رحمو کا بیٹا قاسم تھا۔ قاسم کڑیل جوان تھا اور جب وہ زمین کا سینہ چاک کرتا، تو مٹی سے ایسی سوندھی خوشبو اٹھتی کہ بنجر کھیت بھی جاگ اٹھتے۔
مگر قاسم کی دنیا تو چوہدری کی بیٹی زینب کے آنچل سے بندھی تھی۔ دونوں بچپن کے ساتھی تھے اور ان کا عشق اسی کچی دھرتی کی گواہی میں پروان چڑھا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے اور اپنی سچی محبت کو محسوس کرتے۔
پر پنڈ کی ریت غریب کے خلاف تھی۔ چوہدری حشمت کو جب خبر ہوئی کہ اس کی بیٹی ایک ہالی (ملازم) کے عشق میں رنگی گئی ہے، تو اس کا زمیندارہ غرور جاگ اٹھا۔ اس نے راتوں رات زینب کا رشتہ شہر کے ایک امیر سیٹھ سے طے کر دیا، جس کے پاس تجوریاں تھیں، پر مٹی کا کوئی لمس نہیں تھا۔
شادی کی رات، زینب نے روتے ہوئے زمین سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور قاسم کی ہتھیلی پر رکھ کر بولی:
“قاسم! یہ لوگ میرے جسم کو لے جائیں گے، پر میری روح کی وفائیں اسی مٹی میں ہمیشہ کے لیے تمہاری رہیں گی۔”
قاسم نے مٹی کو چوما اور کہا:
“زینب! جو عشق زمین کی تہہ سے جنم لیتا ہے، اسے آسمان کو چھوتی سرمایہ داری کبھی پامال نہیں کر سکتی۔”
اگلی صبح سیٹھ بڑی دھوم دھام سے بارات لے کر چوہدری کے ڈیرے پر پہنچ گیا۔ ہر طرف رونق تھی اور رخصتی کی تیاریاں آخری مراحل میں تھیں۔
عین اسی لمحے، جب نکاح کے بعد زینب ڈولی میں بیٹھنے ہی والی تھی، ایک سرکاری ہرکارہ موٹر سائیکل پر سوار ڈیرے میں داخل ہوا۔ وہ اتفاق سے اسی سیٹھ کا واقف کار تھا اور تحصیل آفس میں تعینات تھا۔ اس نے چوہدری کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا سیٹھ کے پاس جا کر ایک سرکاری لفافہ تھمایا اور کان میں کہا:
”سیٹھ جی! غضب ہو گیا۔ یہ آرڈر ابھی آدھا گھنٹہ پہلے صدر دفتر سے جاری ہوا ہے۔ حکومت نے اس پورے علاقے کی زمین کو فیکٹریوں کے لیے ‘صنعتی زون’ قرار دے کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اگلے مہینے یہاں فصلیں نہیں, کارخانے بنیں گے اور کاشتکاری پر مستقل پابندی لگ جائے گی۔”
یہ سنتے ہی سیٹھ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے غصے سے وہ کاغذ چوہدری کے منہ پر مارا اور چلا کر بولا:
“چوہدری! یہ رشتہ ہمیں منظور نہیں۔ میں غلہ منڈی کا تاجر ہوں، مجھے تمہاری اس مٹی سے کوئی محبت نہیں تھی، مجھے تو تمہارے یہ لہلہاتے کھیتوں چاہیے تھے جن کی مالک تمہاری اکلوتی بیٹی تھی ۔ جب زمین ہی حکومت کی ہو گئی، تو تم خاک کے چوہدری ہو؟”
لالچی سیٹھ نے نفع نقصان کا سودا بگڑتے دیکھا تو بارات کا رخ وہیں سے موڑ لیا۔ چوہدری حشمت کا سارا غرور ایک پل میں مٹی میں مل گیا۔ وہ صدمے سے وہیں سڑک کے کنارے بیٹھ گیا؛ اب وہ پنڈ کا چوہدری نہیں، بلکہ ایک بے بس انسان تھا۔
عین اسی لمحے، قاسم دوڑتا ہوا آیا۔ اس کے ماتھے پر مٹی کی سچی وفاداری چمک رہی تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر صدمے سے نڈھال چوہدری کے بے بس ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ چوہدری نے مڑ کر نم آنکھوں سے قاسم کو دیکھا، تو قاسم نے پورے مان سے کہا:
”چوہدری صاحب! شہر کے تاجر کے لیے یہ زمین محض ایک نفع نقصان کا سودا تھی، پر ہمارے لیے یہ ماں ہے۔ حکومت یہاں کارخانہ بنائے گی تو یہ قاسم اسی فیکٹری میں مزدوری کرے گا، دن رات ایک کرے گا، اور اس کڑے وقت میں آپ کا بیٹا بن کر آپ کا آسرا بنے گا۔ میں اپنی جان لڑا دوں گا پر آپ کی بیٹی کے مان کو کبھی ٹھیس نہیں آنے دوں گا۔ تاجر زمین کی آمدنی دیکھ کر مکر گیا، مگر میں تو یہاں آپ کی بیٹی کی وفاؤں کا بھرم رکھنے اور آپ کے بوڑھے کاندھوں کا سہارا بننے آیا ہوں۔ اس کچی مٹی کا خمیر کبھی بے وفا نہیں ہوتا۔”
چوہدری نے قاسم کو دیکھا، اس کی آنکھوں سے غرور کے آنسو بہہ نکلے اور اس نے قاسم کو سینے سے لگا لیا۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اصل غیرت اور دولت زمین کے رقبے میں نہیں، بلکہ مٹی سے جڑے انسان کے باطن میں ہوتی ہے۔
اسی شام، اسی پرانے برگد کے نیچے، پنڈ کے قاضی نے قاسم اور زینب کا نکاح پڑھا دیا۔ محبت جیت گئی، اور جب رات کو ساون کی پہلی پھہار کچی مٹی پر پڑی، تو پورے پنڈ میں سچے عشق کی وہ ابدی خوشبو پھیل گئی۔
مگر مٹی کی لاج ابھی پوری طرح محفوظ ہونی باقی تھی۔ اگلے ہی دن، ملک میں ایک عظیم اور تاریخی انقلاب آیا۔ کسانوں اور مظلوموں کے سیلاب نے دارالحکومت کا گھیراؤ کر لیا، ظالم سرمایہ دارانہ حکومت کا تختہ الٹ گیا، اور غریبوں کی زمینوں کو کارخانوں کے نام پر ہتھیانے کا وہ کالا منصوبہ بھی اسی سرمایہ دار نظام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے دفن ہو گیا۔
چوہدری کی زمینیں چوہدری کے پاس رہیں اور ہل چلانے والے کسانوں کو ان کا حق مل گیا۔ یہ کسی سیاست کی نہیں، بلکہ سچی محبت کی وہ لازوال طاقت تھی جس نے مٹی کا خمیر بدل کر رکھ دیا تھا، اور دھرتی ماں نے اپنے وفادار بچوں کو اپنی آغوش میں ہمیشہ کے لیے سرخرو کر دیا تھا۔
