(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان پر دو ہاتھ ایک ہی کتاب کی طرف بڑھے۔
دونوں نے فوراً ہاتھ کھینچ لیے۔
“آپ لے لیجیے۔”
دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
چند لمحے خاموشی رہی، پھر دونوں ہنس دیے۔
پچیس برس بعد وہ پہلی بار ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔
کبھی وہ منگیتر تھے۔
پھر حالات نے ان کے درمیان ایک ایسا فاصلہ رکھ دیا جسے کوئی خط، کوئی دعا اور کوئی انتظار بھی پاٹ نہ سکا۔
وہ اب بھی پہلے کی طرح دھیرے بولتی تھی۔ صرف بالوں میں چاندی اتر آئی تھی۔
وہ اب بھی بات کرتے ہوئے نظریں جھکا لیتا تھا، مگر اب اس کے ہاتھوں پر عمر کی رگیں صاف دکھائی دیتی تھیں۔
“کیسے ہیں؟”
“زندہ ہوں۔”
وہ مسکرائی۔
“یہ بھی اچھا جواب ہے۔”
انہوں نے سامنے والے کیفے میں چائے منگوا لی۔
کسی نے ماضی کا دروازہ نہیں کھولا۔
وہ موسم کی بات کرتے رہے، کتابوں کی بات کرتے رہے، شہر کی بدلی ہوئی سڑکوں کی بات کرتے رہے۔
پھر اچانک اس نے پوچھ لیا،
“آپ کے بچے کتنے ہیں؟”
وہ لمحہ بھر خاموش رہا۔
“دو۔”
“ماشاء اللہ۔”
“اور آپ؟”
اس نے کپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
“ایک بیٹا ہے۔”
دونوں نے مبارک باد دی۔
دونوں جھوٹ بول رہے تھے۔
خاموشی دوبارہ ان کے درمیان بیٹھ گئی۔
چائے ختم ہوئی تو وہ اٹھنے لگے۔
اسی وقت اس کی نظر اس کے ہاتھ میں دبے ہوئے ایک پرانے بھورے لفافے پر پڑی۔
“یہ کیا ہے؟”
اس نے مسکرا کر کہا،
“ایک امانت۔”
“اب تک؟”
“ہاں، اب تک۔”
وہ کچھ نہ بولی۔
الوداع کہہ کر دونوں الگ ہو گئے۔
وہ اپنے چھوٹے سے مکان میں داخل ہوا۔
دروازہ کھولا تو خاموشی نے استقبال کیا۔
جوتے اتارے، کوٹ کرسی پر رکھا، پھر وہی پرانا بھورا لفافہ نکال کر میز پر رکھ دیا۔
لفافے پر اس کی لکھائی تھی۔
“اگر کبھی ہمت ہو تو پڑھ لینا۔”
یہ خط اسے پچیس سال پہلے ملا تھا۔
اس دن جب ان کی منگنی ٹوٹی تھی۔
اس نے کبھی لفافہ نہیں کھولا۔
وہ ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ اس میں شکوے ہوں گے، الزام ہوں گے، یا الوداع۔
اور اسے ان میں سے کسی چیز کا سامنا کرنے کی ہمت کبھی نہ ہوئی۔
لفافہ آج بھی بند تھا۔
جیسے اس کی زندگی۔
ادھر وہ بھی اپنے فلیٹ پہنچی۔
اس نے الماری کھولی۔
اوپر والے خانے سے ایک چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ اتارا۔
اس میں ایک مردانہ گھڑی رکھی تھی۔
وہ گھڑی جو اس نے اسے تحفے میں دی تھی۔
سیل ختم ہوئے برسوں گزر چکے تھے۔
لیکن اس نے کبھی گھڑی چلوانے کی کوشش نہیں کی۔
کچھ چیزیں چلنے لگیں تو درد تازہ ہو جاتا ہے۔
وہ دیر تک گھڑی کو دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے بولی،
“میں نے بھی نہیں کھولا…”
ڈبے کے نیچے اس کا آخری خط رکھا تھا۔
بند۔
بے کھلا۔
پچیس برس سے۔
دونوں نے ایک دوسرے کو یہ یقین دلا دیا تھا کہ زندگی بہت خوبصورت گزری۔
حالانکہ دونوں نے زندگی گزاری نہیں…
صرف نبھائی تھی۔
دونوں نے ایک دوسرے سے یہ بھی چھپا لیا کہ انہوں نے کسی اور کو دل میں جگہ نہیں دی۔
لوگ سمجھتے رہے کہ وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔
وقت صرف کیلنڈر بدلتا ہے۔
کچھ انتظار تاریخ نہیں مانتے۔
رات گئے اس نے پہلی بار لفافہ کھولا۔
کانپتے ہاتھوں سے کاغذ نکالا۔
صرف ایک سطر لکھی تھی۔
“اگر تم ایک بار بھی پلٹ کر آؤ گے، تو میں کہیں نہیں جاؤں گی۔”
نیچے تاریخ تھی۔
پچیس سال پرانی۔
وہ دیر تک کاغذ کو دیکھتا رہا۔
اسے محسوس ہوا، انسان کی سب سے بڑی بدقسمتی غلط فیصلے نہیں ہوتے…
بلکہ وہ بند لفافے ہوتے ہیں جنہیں ہم انا، خوف یا وہم کی وجہ سے کبھی کھولتے ہی نہیں۔
بعض اوقات پوری زندگی صرف ایک نہ پڑھے گئے جملے کی قیمت بن جاتی ہے۔
