آخری دروازہ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شہر کے پرانے حصے میں ایک ایسا مکان تھا جس کے دروازے پر کبھی تالا نہیں لگا۔
لوگ کہتے تھے، “یہ بوڑھا آدمی عجیب ہے۔”
وہ مسکرا دیتا۔
“جس کا کوئی انتظار نہ ہو، اسے تالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
ہر صبح وہ دروازہ کھول کر ایک کرسی باہر رکھ دیتا۔
دو کپ چائے بناتا۔
ایک خود پیتا۔
دوسرا ٹھنڈا ہو جاتا۔
محلے والوں نے برسوں یہی منظر دیکھا۔
کسی نے پوچھا بھی نہیں۔
انسان جب کسی عادت کو روز دیکھ لے تو اسے سوال بنانا چھوڑ دیتا ہے۔
ایک دن نئے پڑوسی نے پوچھ ہی لیا۔
“بابا! دوسرا کپ کس کے لیے ہوتا ہے؟”
بوڑھے نے چائے کی سطح پر تیرتے ہوئے دھوئیں کو دیکھا۔
“ایک مہمان کے لیے۔”
“کون سا مہمان؟”
“جو کبھی آیا نہیں۔”
پڑوسی ہنس دیا۔
بوڑھا نہیں ہنسا۔
رات کو وہ اپنی پرانی ڈائری کھول کر بیٹھا۔
ہر صفحے پر ایک ہی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔
مگر سال بدلتے رہتے تھے۔
اسی تاریخ کے نیچے صرف ایک جملہ۔
“آج بھی نہیں آیا۔”
پچاس برس۔
ایک ہی جملہ۔
بہت پہلے…
اس کا ایک بیٹا تھا۔
صرف ایک۔
باپ سخت مزاج تھا۔
بیٹا خواب دیکھتا تھا۔
ایک دن بیٹے نے کہا،
“ابا، میں مصور بننا چاہتا ہوں۔”
باپ نے جواب دیا،
“خواب روٹی نہیں دیتے۔”
بیٹے نے آہستہ سے کہا،
“لیکن روٹی ہمیشہ زندگی بھی نہیں دیتی۔”
اسی رات دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔
غصے میں باپ نے دروازہ کھولا اور کہا،
“اگر اس گھر سے گیا… تو پھر واپس مت آنا۔”
بیٹا خاموشی سے چلا گیا۔
دروازہ بند ہوگیا۔
مگر ایک باپ کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے کھل گیا۔
پہلے دن اسے یقین تھا، شام تک لوٹ آئے گا۔
پھر یقین ہفتے میں بدل گیا۔
پھر مہینے میں۔
پھر برسوں میں۔
اس نے کبھی بیٹے کو تلاش نہیں کیا۔
انا کہتی تھی،
“پہلے وہ آئے۔”
محبت کہتی تھی،
“تو چلا جا۔”
ہر بار انا جیت جاتی۔
اور ہر رات محبت ہار کر دو کپ چائے بنا دیتی۔
پچاس برس بعد…
بوڑھا مر گیا۔
محلے والوں نے اس کا سامان سمیٹا۔
ڈائری ملی۔
دو کپ ملے۔
اور ایک وصیت۔
اس میں صرف اتنا لکھا تھا:
“میرے گھر کا دروازہ تین دن تک بند نہ کرنا۔
ممکن ہے…
وہ آ جائے۔”
تیسرے دن شام ڈھل رہی تھی۔
ایک سفید بالوں والا آدمی لاٹھی کے سہارے اس گلی میں داخل ہوا۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ چھوا۔
اندر خاموشی تھی۔
پڑوسی نے پوچھا،
“کس سے ملنا ہے؟”
اس کی آواز بھرّا گئی۔
“میرے… ابا سے۔”
پڑوسی نے نظریں جھکا لیں۔
“آپ تین دن دیر سے آئے ہیں۔”
وہ آدمی دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھ گیا۔
بہت دیر تک۔
پھر آہستہ سے بولا،
“میں ہر سال آتا تھا…
بس اسی گلی کے نکڑ تک۔
سوچتا تھا…
اگر انہیں میری ضرورت ہوگی تو وہ خود بلا لیں گے۔”
پڑوسی حیران رہ گیا۔
پچاس برس…
دونوں ایک دوسرے کے انتظار میں رہے۔
ایک دروازے کے اندر۔
دوسرا دروازے سے چند قدم باہر۔
فاصلہ صرف چند گز کا تھا۔
مگر انا نے اسے نصف صدی بنا دیا۔
شام کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔
پڑوسی نے پہلی بار اس گھر کا دروازہ بند کیا۔
اور شاید اسی لمحے اسے سمجھ آیا…
دنیا میں سب سے بھاری دروازہ لکڑی یا لوہے کا نہیں ہوتا۔
وہ ایک جملہ ہوتا ہے…
جسے انسان وقت پر کہہ نہیں پاتا۔
“واپس آ جاؤ…”
بعض کہانیاں فاصلے سے نہیں، ایک نہ کہے گئے جملے سے جنم لیتی ہیں۔ اور کبھی پوری زندگی صرف اسی ایک جملے تک پہنچنے میں گزر جاتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top