(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
وہ بوڑھا آدمی کسی محکمے کا سربراہ نہیں تھا، نہ عالم، نہ شاعر، نہ کوئی مشہور شخصیت۔
وہ صرف ایک دربان تھا۔
چالیس برس تک ایک ہی عمارت کے مرکزی دروازے پر بیٹھا رہا۔
ہر آنے والے کو سلام کرتا۔
ہر جانے والے کو دعا دیتا۔
لوگ اس کا نام کم، اس کی کرسی زیادہ پہچانتے تھے۔
“دربان والی کرسی…”
بس یہی اس کی پہچان تھی۔
ایک صبح کرسی خالی تھی۔
نیا دربان آ گیا تھا۔
دروازہ بھی وہی تھا۔
سلام بھی وہی تھا۔
صرف آواز بدل گئی تھی۔
لوگ اندر جاتے رہے۔
کام چلتا رہا۔
کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔
دوپہر کو ایک ادھیڑ عمر آدمی عمارت میں داخل ہوا۔
دروازے پر آتے ہی اس کے قدم رک گئے۔
“وہ بابا کہاں ہیں؟”
نئے دربان نے مختصر جواب دیا۔
“انتقال ہو گیا۔”
آدمی نے بےاختیار دیوار پکڑ لی۔
“کب؟”
“تین دن پہلے۔”
وہ خاموشی سے واپس مڑ گیا۔
اس کا آج کوئی کام نہیں تھا۔
وہ صرف بابا سے ملنے آیا تھا۔
شام تک ایسے کئی لوگ آئے۔
کسی نے کہا،
“میں جب پہلی بار نوکری کے انٹرویو کے لیے آیا تھا تو میرے کانپتے ہاتھ انہوں نے تھام لیے تھے۔”
دوسرا بولا،
“میری ماں اسپتال میں تھیں، میں روز روتا ہوا گزرتا تھا۔ وہ روز کہتے، ‘مایوس مت ہونا، ماں کی دعائیں ابھی زندہ ہیں۔'”
ایک عورت نے آہستہ سے کہا،
“میرے شوہر کے انتقال کے بعد پورا شہر مجھے اجنبی لگتا تھا۔ صرف ایک یہی شخص تھا جو روز پوچھتا، ‘بیٹی! آج طبیعت کچھ بہتر ہے؟'”
ایک نوجوان دیر تک خالی کرسی کو دیکھتا رہا۔
“میں نے کبھی انہیں جواب تک نہیں دیا۔
وہ روز مجھے سلام کرتے تھے۔
میں ہمیشہ موبائل دیکھتا ہوا گزر جاتا تھا۔”
اگلے دن انتظامیہ نے وہ پرانی کرسی بھی اٹھوا دی۔
کہا،
“یہ اب بیکار ہے۔”
کرسی اسٹور میں رکھ دی گئی۔
شام کو صفائی کرنے والی بوڑھی عورت چپکے سے وہاں گئی۔
اس نے کرسی پر ہاتھ پھیرا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔
لوگوں نے پوچھا،
“تم کیوں رو رہی ہو؟”
وہ بولی،
“آپ سب کے لیے وہ دربان تھے…
میرے لیے وہ واحد انسان تھے جو ہر صبح مجھ سے پوچھتے تھے…
‘تم نے ناشتہ کیا ہے؟'”
ایک ہفتے بعد اس کے کمرے کا سامان تقسیم کیا گیا۔
ایک بستر۔
دو جوڑے کپڑے۔
ایک ٹوٹا ہوا چشمہ۔
ایک پرانی جائے نماز۔
اور ایک چھوٹی سی ڈائری۔
ڈائری کے ہر صفحے پر صرف ایک نام لکھا تھا۔
کبھی صفائی والی کا۔
کبھی اس نوجوان کا۔
کبھی اس عورت کا۔
کبھی کسی اجنبی کا۔
ہر نام کے سامنے صرف ایک جملہ۔
“آج اس کے لیے دعا کی۔”
چالیس برس…
ہزاروں نام…
ہزاروں دعائیں…
اور کہیں بھی اپنا نام نہیں۔
اس روز عمارت میں پہلی بار سب کو احساس ہوا…
بعض لوگ ہماری زندگی میں شور مچا کر نہیں آتے۔
وہ خاموشی سے ہمارے بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔
ہم انہیں معمول سمجھتے رہتے ہیں۔
اور جب ان کی کرسی خالی ہوتی ہے…
تب معلوم ہوتا ہے کہ عمارت کا دروازہ تو آج بھی وہی ہے،
مگر اس میں داخل ہونے والی انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
انسان کی سب سے بڑی غربت یہ نہیں کہ اس کے پاس کچھ نہ ہو…
بلکہ یہ ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے بھی کسی کو اس کی قدر نہ ہو۔
اور بعض لوگ…
اپنی پوری زندگی دوسروں کے دلوں میں چراغ جلاتے گزارتے ہیں،
مگر ان کے اپنے کمرے میں اندھیرا ہی رہتا ہے۔
