آئینہ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

اس کے انتقال کے بعد گھر میں سب سے زیادہ بحث جائیداد پر نہیں ہوئی۔
بحث ایک پرانے آئینے پر ہوئی۔
وہی آئینہ جو پچاس برس سے اس کے کمرے کی دیوار پر لٹکا تھا۔
بیٹے نے کہا، “یہ تو پرانا ہو چکا ہے، پھینک دو۔”
بیٹی نے خاموشی سے کہا، “نہیں… ابا اسے کبھی کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیتے تھے۔”
آئینہ اتارا گیا۔
پیچھے دیوار پر ایک تہہ کیا ہوا کاغذ چپکا ہوا تھا۔
اس پر صرف اتنا لکھا تھا:
“یہ میری زندگی کا واحد گواہ ہے۔”
سب حیران رہ گئے۔
کاغذ کھولا گیا۔
اس میں کوئی وصیت نہ تھی۔
صرف چند سطریں تھیں۔
“دنیا نے مجھے کامیاب آدمی کہا۔
میں نے مان لیا۔
دنیا نے مجھے اچھا باپ کہا۔
میں نے مان لیا۔
انہوں نے مجھے ایماندار کہا۔
میں نے سر جھکا لیا۔
مگر ہر صبح جب میں اس آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا…
ایک آدمی مجھے خاموشی سے دیکھتا تھا۔
وہ کبھی میری تعریف نہیں کرتا تھا۔
وہ صرف پوچھتا تھا…
‘آج تم نے اپنے دل کے خلاف کتنی بار زندگی گزاری؟’
میں ہر روز ہار جاتا تھا۔”
خط یہیں ختم نہیں ہوتا تھا۔
آگے لکھا تھا:
“میں نے وہی پیشہ اختیار کیا جو لوگوں کو پسند تھا۔
میں نے وہی باتیں کیں جن پر تالیاں ملتی تھیں۔
میں نے وہی فیصلے کیے جن سے خاندان خوش رہتا تھا۔
میں نے وہی چہرہ پہنا جسے معاشرہ قبول کرتا تھا۔
اور ایک دن…
مجھے اپنا اصل چہرہ ہی یاد نہ رہا۔”
بیٹے نے بےاختیار آئینے میں خود کو دیکھا۔
پہلی بار۔
اسے محسوس ہوا…
وہ بھی برسوں سے یہی کر رہا ہے۔
دوسروں کی توقعات پوری کرتے کرتے…
اپنی خواہشوں کی قبر پر کھڑا ہے۔
بیٹی نے آہستہ سے پوچھا،
“کیا ابا خوش تھے؟”
کسی کے پاس جواب نہیں تھا۔
وہ سب جانتے تھے…
وہ کامیاب تھے۔
مگر خوش؟
اس کا کسی نے کبھی خیال ہی نہیں کیا۔
شام ڈھلنے لگی۔
آئینہ دوبارہ دیوار پر لٹکا دیا گیا۔
مگر اب وہ صرف شیشہ نہیں رہا تھا۔
وہ سوال بن گیا تھا۔
گھر سے نکلتے ہوئے ہر شخص ایک لمحہ اس کے سامنے ضرور رکتا۔
اور پھر نظریں چرا لیتا۔
زندگی میں دو عدالتیں ہوتی ہیں۔
ایک لوگوں کی۔
جہاں گواہ بھی لوگ ہوتے ہیں، فیصلہ بھی لوگ کرتے ہیں۔
دوسری…
آئینے کی۔
وہاں نہ وکیل ہوتا ہے، نہ دلیل۔
صرف ایک نظر۔
اور وہ نظر انسان سے وہ سب اگلوا لیتی ہے…
جو زبان عمر بھر چھپاتی رہتی ہے۔
اس لیے شاید…
دنیا کا سب سے سچا آئینہ دیوار پر نہیں لٹکا ہوتا۔
وہ انسان کے اندر ہوتا ہے۔
اور اس کی خاموشی…
ہر شور سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top