(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
اس کے انتقال کے بعد گھر سے بہت سے کاغذات نکلے۔
زمین کے۔
بینک کے۔
بیمے کے۔
وصیت کے۔
ہر کاغذ پر اس کے دستخط موجود تھے۔
صرف ایک معاہدہ ایسا تھا…
جس پر وہ پوری زندگی دستخط نہ کر سکا۔
وہ معاہدہ…
اس کا اپنے آپ سے تھا۔
بچپن میں باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا،
“وہی کرنا جس سے خاندان کا سر بلند ہو۔”
اس نے خاموشی سے دستخط کر دیے۔
جوانی آئی تو ماں نے کہا،
“زندگی میں سمجھوتا کرنا سیکھو، خوش رہو گے۔”
اس نے دستخط کر دیے۔
نوکری ملی تو افسر نے کہا،
“سوال کم کیا کرو، ترقی جلد ملے گی۔”
اس نے دستخط کر دیے۔
شادی ہوئی تو رشتوں نے کہا،
“اپنی خواہش سے پہلے سب کی خوشی دیکھنا۔”
اس نے دستخط کر دیے۔
اولاد بڑی ہوئی تو انہوں نے کہا،
“ابا! آپ آرام کریں، باقی فیصلے ہم کر لیں گے۔”
اس نے آخری بار بھی دستخط کر دیے۔
عجیب بات یہ تھی کہ…
ہر فیصلہ اس کے نام سے ہوتا رہا،
مگر ایک بھی فیصلہ اس کا اپنا نہ تھا۔
وہ کبھی مصور بننا چاہتا تھا۔
رنگوں سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔
کینوس پر خاموشی کے چہرے بنانا چاہتا تھا۔
مگر زندگی نے اس کے ہاتھ میں برش کے بجائے فائلیں تھما دیں۔
وہ میزوں، مہروں اور دستخطوں کے درمیان عمر گزار گیا۔
لوگ اسے کامیاب کہتے رہے۔
وہ خود کو مصروف سمجھتا رہا۔
ایک دن دفتر میں ایک نئے ملازم نے پوچھ لیا،
“سر! آپ کو سب سے زیادہ خوشی کس کام سے ملتی ہے؟”
وہ مسکرایا…
پھر خاموش ہو گیا۔
اسے یاد ہی نہ آیا کہ خوشی کبھی اس کی اپنی بھی کوئی چیز تھی۔
وقت گزرتا رہا۔
چہرے پر جھریاں آ گئیں۔
ہاتھوں میں لرزش اتر آئی۔
ایک دن بینک میں رقم نکالنے گیا۔
فارم پر دستخط کیے۔
کلرک نے کاغذ واپس کرتے ہوئے کہا،
“سر، یہ دستخط آپ کے پرانے نمونے سے نہیں ملتے۔”
وہ دیر تک اپنے ہی نام کو دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
بیٹا! بینک صرف دستخطوں کا فرق پہچانتا ہے، مگر زندگی یہ نہیں پہچانتی کہ انسان کب دوسروں کے فیصلوں پر دستخط کرتے کرتے اپنے ہی وجود سے بے دستخط ہو جاتا ہے۔
اس کی وفات کے بعد اس کا پوتا الماری صاف کر رہا تھا۔
اوپر ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔
پہلا صفحہ خالی تھا۔
دوسرے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا۔
“میں نے زندگی بھر ہر کاغذ پر دستخط کیے… مگر کبھی اپنی خواہش پر نہیں۔”
اس کے بعد کے تمام صفحات سفید تھے۔
پوتے نے حیرت سے پوچھا،
“دادا نے باقی ڈائری کیوں خالی چھوڑی؟”
اس کی دادی نے نم آنکھوں سے جواب دیا،
“وہ خالی صفحات وہ زندگی ہیں…
جو تمہارے دادا جینا چاہتے تھے…
مگر کبھی جی نہ سکے۔”
انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ اس کے خواب پورے نہ ہوں۔
اصل محرومی یہ ہے…
کہ ایک دن وہ اپنے ہی خوابوں کا اجنبی بن جائے۔
پھر وہ دنیا کے ہر معاہدے پر دستخط تو کرتا رہتا ہے،
مگر اپنی روح کے سامنے ہمیشہ انگوٹھا چھاپ رہ جاتا ہے۔
