وہ شخص جو کسی جیسا نہیں تھا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شہر میں ہر شخص کسی نہ کسی جیسا تھا۔
کوئی اپنے باپ کی آواز میں بولتا تھا، کوئی اپنے استاد کی طرح سوچتا تھا، کوئی اپنے محبوب کے لہجے میں محبت کرتا تھا اور کوئی اپنے ہمسائے کے خواب چرا کر انہیں اپنی خواہشوں کا نام دیتا تھا۔
اس شہر میں اصل ہونا عیب سمجھا جاتا تھا۔
لوگ شکلیں نہیں بناتے تھے، سانچے بناتے تھے۔
بچوں کو چلنا سکھانے سے پہلے بتایا جاتا تھا کہ کس سمت چلنا ہے۔
اور بولنا سکھانے سے پہلے یہ سمجھایا جاتا تھا کہ کون سی بات بولنی ہے۔
شہر کا سب سے بڑا بازار “مثالوں کا بازار” کہلاتا تھا۔
وہاں کامیاب لوگوں کے نقشِ قدم شیشے کے مرتبانوں میں بند فروخت ہوتے تھے۔
لوگ انہیں خریدتے، گھروں میں سجاتے اور اپنے بچوں سے کہتے:
“دیکھو، بڑا آدمی ایسے بنتا ہے۔”
ایک دن اسی شہر میں ایک بچہ پیدا ہوا۔
اس کا نام رکھا گیا: آدم۔
مگر آدم کے ساتھ ایک مسئلہ تھا۔
وہ کسی جیسا نہیں تھا۔
اس کے والد نے اسے ایک کامیاب تاجر کی طرح بنانا چاہا۔
آدم نے تجارت سیکھی، مگر سوال کرتا رہا کہ جس چیز کی ضرورت نہیں، اسے بیچنا کامیابی کیسے ہو سکتی ہے؟
استاد نے اسے ایک عظیم شاعر کی طرح لکھنا سکھایا۔
آدم نے شاعری سیکھی، مگر اس کی نظموں میں وہی الفاظ نہیں آئے جو کتابوں میں پہلے سے موجود تھے۔
اس کے دوست اسے سمجھاتے:
“لوگوں جیسا بنو، زندگی آسان ہو جائے گی۔”
آدم مسکراتا:
“آسان زندگی اور زندہ زندگی میں ہمیشہ صلح نہیں ہوتی۔”
لوگ اس کی بات پر ہنستے۔
شہر میں جو شخص اپنی آواز میں بولتا تھا، اسے عجیب کہا جاتا تھا۔
جو اپنی آنکھ سے دیکھتا تھا، اسے ضدی۔
اور جو اپنے دل سے فیصلہ کرتا تھا، اسے نادان۔
آدم بڑا ہوتا گیا۔
ہر عمر کے ساتھ اس پر ایک نیا سانچہ آزمایا گیا۔
کبھی اسے کامیاب آدمی بننے کا مشورہ ملا۔
کبھی مقبول آدمی۔
کبھی مذہبی آدمی۔
کبھی عقلمند آدمی۔
کبھی طاقتور آدمی۔
مگر کسی نے اسے آدم بننے کی اجازت نہ دی۔
ایک روز وہ شہر کے سب سے بڑے مجسمہ ساز کے پاس گیا۔
اس نے کہا:
“مجھے تراش دو۔”
مجسمہ ساز نے پوچھا:
“کس جیسا؟”
آدم نے کہا:
“بس کسی جیسا نہیں۔”
مجسمہ ساز نے چھینی زمین پر رکھ دی۔
“ایسا مجسمہ میں نہیں بنا سکتا۔”
آدم نے پوچھا:
“کیوں؟”
بوڑھا مجسمہ ساز ہنسا۔
“کیونکہ جسے دنیا تراشتی ہے، وہ آدمی نہیں رہتا؛ وہ مثال بن جاتا ہے۔”
یہ جملہ آدم کے دل میں اتر گیا۔
اس رات وہ شہر سے باہر نکل گیا۔
چاند آدھا تھا۔
راستہ پورا نہیں تھا۔
مگر پہلی بار اسے لگا کہ شاید نامکمل راستے ہی انسان کو اپنی منزل تک لے جاتے ہیں۔
وہ چلتا رہا۔
صبح ایک ویران پہاڑی پر پہنچا۔
وہاں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔
اس کے سامنے نہ آئینہ تھا، نہ کتاب، نہ کوئی بت۔
صرف ایک خالی کاغذ تھا۔
آدم نے پوچھا:
“آپ کیا لکھتے ہیں؟”
بوڑھے نے کہا:
“جو دنیا ابھی تک پڑھ نہیں سکی۔”
آدم نے کاغذ دیکھا۔
وہ بالکل خالی تھا۔
“اس پر کچھ لکھا ہی نہیں۔”
بوڑھا مسکرایا:
“اسی لیے تو سب کچھ لکھا جا سکتا ہے۔”
آدم دیر تک خاموش رہا۔
پھر پوچھا:
“میں کون ہوں؟”
بوڑھے نے کاغذ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
“یہ سوال کسی سے مت پوچھنا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ دنیا تمہیں وہی جواب دے گی جو اسے تم سے چاہیے۔”
“پھر جواب کہاں ملے گا؟”
بوڑھے نے آدم کے سینے پر ہاتھ رکھا۔
“جہاں سوال پیدا ہوا ہے۔”
آدم نے پہلی بار اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کی۔
وہاں شور تھا۔
بہت شور۔
باپ کی آواز۔
استاد کی آواز۔
دوستوں کی آواز۔
معاشرے کی آواز۔
کامیابی کی آواز۔
ناکامی کا خوف۔
لوگوں کی پسند۔
لوگوں کی ناپسند۔
اور ان سب کے نیچے ایک نہایت مدھم سی آواز۔
آدم نے اسے سننے کے لیے باقی سب آوازیں خاموش کر دیں۔
وہ آواز کہہ رہی تھی:
“میں تم ہوں۔”
آدم رو پڑا۔
کیونکہ انسان اکثر ساری عمر دنیا کو سناتا رہتا ہے کہ وہ کون ہے، مگر ایک دن اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خود کبھی اپنی آواز نہیں سنی۔
وہ شہر واپس آیا۔
لوگوں نے پوچھا:
“تمہیں کیا ملا؟”
آدم نے کہا:
“خود۔”
وہ ہنس پڑے۔
“یہ بھی کوئی چیز ہے؟”
آدم نے جواب دیا:
“جس کے بغیر باقی سب چیزیں بے معنی ہیں۔”
پھر اس نے اپنا کاروبار چھوڑ دیا۔
مگر وہ فقیر نہیں ہوا۔
اس نے شاعری شروع کی۔
مگر شاعر بننے کے لیے نہیں۔
اس نے تصویریں بنائیں۔
مگر مصور کہلانے کے لیے نہیں۔
اس نے بچوں کو پڑھایا۔
مگر استاد بننے کے لیے نہیں۔
وہ جو کرتا، اپنے اندر کے سچ کی خاطر کرتا۔
لوگ پھر بھی اس سے خوش نہ ہوئے۔
کیونکہ جو شخص اپنی جگہ پر کھڑا ہو جائے، وہ دوسروں کے بنائے ہوئے پیمانے توڑ دیتا ہے۔
رفتہ رفتہ آدم کی شہرت شہر سے باہر پھیلنے لگی۔
لوگ اس کے پاس آنے لگے۔
کسی نے پوچھا:
“آپ کامیاب کیسے ہوئے؟”
آدم نے کہا:
“میں نے کامیاب ہونے کی کوشش چھوڑ دی۔”
دوسرے نے پوچھا:
“آپ نے اتنا بڑا مقام کیسے حاصل کیا؟”
آدم نے کہا:
“میں نے مقام تلاش کرنا چھوڑ دیا اور اپنی جگہ تلاش کر لی۔”
ایک نوجوان نے پوچھا:
“آپ کا راز کیا ہے؟”
آدم نے مسکرا کر کہا:
“میں نے دوسروں کی زندگی کو اپنا نصاب بنانے سے انکار کر دیا۔”
مگر شہر کے حکمران کو آدم کی مقبولیت پسند نہ آئی۔
اس نے حکم دیا:
“اس شخص کی ایک تصویر بناؤ۔”
شہر کے بہترین مصور کو بلایا گیا۔
مصور نے آدم کو سامنے بٹھایا۔
وہ دیر تک دیکھتا رہا۔
پھر بولا:
“آپ کا چہرہ کس جیسا ہے؟”
آدم ہنسا۔
“میرا۔”
مصور نے برش رکھ دیا۔
“یہی تو مشکل ہے۔”
کئی دن گزر گئے۔
تصویر نہ بن سکی۔
مصور کبھی آنکھیں بناتا، کبھی مٹا دیتا۔
کبھی چہرہ بناتا، پھر پھاڑ دیتا۔
آخر ایک دن اس نے خالی کینوس آدم کے سامنے رکھ دیا۔
“میں آپ کو نہیں بنا سکتا۔”
آدم نے پوچھا:
“کیوں؟”
مصور نے کہا:
“کیونکہ آپ کی کوئی مثال نہیں۔”
آدم نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاید یہی اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔
شہر نے اس کے نام کا مجسمہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
مگر مجسمہ ساز نے انکار کر دیا۔
اس نے کہا:
“اس شخص کا مجسمہ بناتے ہی ہم اس کی روح کو پتھر بنا دیں گے۔”
لوگ ناراض ہوئے۔
انہوں نے آدم کو بھلانے کی کوشش کی۔
مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بھلانے کی کوشش ہی انہیں یادگار بنا دیتی ہے۔
سال گزرتے گئے۔
آدم بوڑھا ہو گیا۔
ایک دن وہ اسی پہاڑی پر واپس گیا جہاں اسے خالی کاغذ ملا تھا۔
بوڑھا مجسمہ ساز اب دنیا میں نہیں تھا۔
وہاں صرف ایک درخت تھا۔
آدم درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔
اس نے جیب سے وہی پرانا کاغذ نکالا۔
کاغذ اب بھی خالی تھا۔
اس نے قلم اٹھایا۔
بہت دیر تک سوچتا رہا۔
پھر صرف ایک جملہ لکھا:
“میں نے اپنی زندگی کسی جیسا بننے میں نہیں، خود ہونے میں گزاری۔”
وہ اٹھا۔
ہوا چلی۔
کاغذ درخت سے اڑ کر وادی میں جا گرا۔
کسی نے اسے نہیں پڑھا۔
اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
کیونکہ آدم نے آخرکار یہ راز پا لیا تھا کہ ہر سچ کو تالیاں نہیں چاہییں ہوتیں۔
وہ شہر واپس نہ آیا۔
لوگ کہتے ہیں، وہ پہاڑوں میں کہیں رہتا رہا۔
کچھ کہتے ہیں، وہ مر گیا۔
کچھ کہتے ہیں، وہ آج بھی زندہ ہے۔
مگر شہر کے بوڑھے لوگ ایک بات ضرور کہتے ہیں:
جب کبھی کوئی بچہ اپنی جماعت میں سب سے مختلف جواب دے، جب کوئی نوجوان ہجوم کے برخلاف اپنی راہ اختیار کرے، جب کوئی عورت دنیا کی پسند کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز سنے، جب کوئی انسان اپنے زخموں کو اپنی شکست نہیں بلکہ اپنی بصیرت بنا لے۔۔۔
تو سمجھ لینا،
آدم کہیں نہ کہیں پھر پیدا ہو گیا ہے۔
اور شاید اس افسانے کا اصل آدم وہ شخص نہیں تھا۔
وہ تم تھے۔
وہ تم، جسے دنیا نے بارہا کسی جیسا بنانے کی کوشش کی۔
وہ تم، جس نے کئی بار خود کو دوسروں کی پسند کے ترازو میں تولا۔
وہ تم، جس نے کبھی کسی کی آواز میں اپنی آواز چھپائی۔
اور وہ تم ہی،
جو ایک دن سب آوازوں سے نکل کر اپنے اندر پہنچ گیا۔
تب معلوم ہوا۔۔۔
کائنات نے تمہیں کسی کی جگہ لینے کے لیے پیدا نہیں کیا تھا۔
تمہیں ایک ایسی جگہ پُر کرنے بھیجا تھا
جو صرف تمہارے لیے خالی رکھی گئی تھی۔
اور یہی وجہ ہے کہ
وہ شخص جو کسی جیسا نہیں تھا،
آخرکار سب سے زیادہ اپنے جیسا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top