(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
رات بہت دیر سے جاگ رہی تھی۔
کمرے میں صرف ایک زرد بلب جل رہا تھا اور سامنے دیوار پر لٹکا ہوا ایک پرانا آئینہ خاموشی سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے کئی برسوں سے اسے اسی جگہ دیکھا تھا، مگر اُس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ شاید میں نے کبھی اسے دیکھا ہی نہیں۔
میں اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔
وہاں ایک شخص کھڑا تھا۔
وہ بالکل میری طرح تھا؛ وہی آنکھیں، وہی چہرہ، وہی جھکی ہوئی پیشانی، وہی تھکن۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ مجھے پہلی مرتبہ اپنے چہرے سے اجنبیت محسوس ہوئی۔
میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔
وہ بھی مسکرایا۔
میں نے منہ بنایا۔
اس نے بھی وہی کیا۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس نے بھی۔
میں نے اچانک پوچھا:
“تم مجھے جانتے ہو؟”
آئینے میں موجود شخص خاموش رہا۔
میں نے دوبارہ پوچھا:
“میرے اندر کیا چل رہا ہے، یہ بھی جانتے ہو؟”
وہ پھر خاموش رہا۔
تب مجھے پہلی بار غصہ آیا۔
میں نے میز پر پڑی کتاب اٹھا کر آئینے کے سامنے دے ماری۔
شیشہ لرزا، مگر ٹوٹا نہیں۔
اور اُس لرزش میں میرا چہرہ کئی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
میں ٹھٹھک گیا۔
ہر ٹکڑے میں ایک الگ شخص تھا۔
ایک ہنس رہا تھا۔
ایک رو رہا تھا۔
ایک خوف زدہ تھا۔
ایک بے حد مطمئن۔
ایک غصے میں تھا۔
اور ایک ایسا تھا جسے میں پہچانتا ہی نہیں تھا۔
میں دیر تک اُن چہروں کو دیکھتا رہا۔
پھر مجھے سمجھ آیا کہ آئینہ جھوٹا نہیں تھا؛ وہ صرف اتنا ہی دکھاتا تھا جتنا میں اسے دکھاتا تھا۔
اُس نے کبھی میرے دل کا دروازہ کھولنے کی کوشش نہیں کی تھی، کیونکہ میں نے کبھی اسے چابی دی ہی نہیں تھی۔
اگلی رات میں پھر آئینے کے سامنے بیٹھا۔
میں نے روشنی بجھا دی۔
کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔
کچھ دیر بعد باہر سے آتی ہوئی چاندنی میں آئینے کا عکس دھندلا سا دکھائی دینے لگا۔
میں نے پہلی مرتبہ آئینے سے نظریں ہٹا کر خود سے پوچھا:
“اگر یہ چہرہ میں نہیں ہوں تو پھر میں کون ہوں؟”
اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔
مگر اس خاموشی میں ایک عجیب سی دستک تھی۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
اچانک بچپن کی ایک آواز سنائی دی۔
کسی نے کبھی کہا تھا:
“بیٹا، آدمی کا اصل چہرہ وہ نہیں جو لوگ دیکھتے ہیں؛ اصل چہرہ وہ ہے جس سے آدمی خود بھی نظریں چراتا ہے۔”
میں نے آنکھیں کھولیں۔
آئینہ سامنے تھا۔
مگر اس بار اس میں میرا چہرہ نہیں تھا۔
صرف ایک بند دروازہ تھا۔
میں گھبرا کر پیچھے ہٹا۔
دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔
اُس کے پیچھے کوئی دوسرا آدمی نہیں تھا۔
وہاں میرا ہی ایک بوڑھا وجود بیٹھا تھا۔
اس کی آنکھوں میں تھکن تھی، مگر چہرے پر عجیب سکون۔
میں نے پوچھا:
“تم کون ہو؟”
وہ مسکرایا۔
“وہ، جسے تم ساری عمر نظر انداز کرتے رہے۔”
“ضمیر؟”
وہ ہنسا۔
“نہیں۔ ضمیر تو تم نے کئی بار بیچ دیا تھا۔ میں تمہارا وہ حصہ ہوں جسے تم نے ہر بار لوگوں کی پسند کے عوض خاموش کر دیا۔”
میں خاموش ہو گیا۔
وہ بولا:
“تم نے آئینے کو ہمیشہ اپنا دوست سمجھا، حالانکہ وہ صرف گواہ تھا۔ تم ہنسے، اُس نے ہنستا ہوا چہرہ دکھا دیا۔ تم روئے، اُس نے آنسو دکھا دیے۔ تم نے خود کو کامیاب سمجھا، اُس نے کامیاب آدمی دکھا دیا۔ مگر تم نے کبھی اُس سے یہ نہیں پوچھا کہ تم انسان کیسے ہو؟”
میری آنکھیں جھک گئیں۔
وہ مزید بولا:
“آئینہ کبھی کسی کو تسلی نہیں دیتا۔ کیونکہ اُس کا کام حقیقت کو بدلنا نہیں، دکھانا ہے۔”
میں نے پہلی بار آئینے کو غور سے دیکھا۔
اب وہاں کوئی چہرہ نہیں تھا۔
صرف ایک شفاف سطح تھی۔
اتنی شفاف کہ اُس کے پار مجھے اپنا پورا ماضی دکھائی دینے لگا۔
وہ لوگ جنہیں میں نے استعمال کیا۔
وہ رشتے جنہیں میں نے انا کی نذر کیا۔
وہ محبتیں جنہیں میں نے مصروفیت کا نام دے کر ٹال دیا۔
وہ معافیاں جو میں نے مانگنے میں دیر کر دی۔
وہ سچ جو میں جانتا تھا مگر ماننے سے انکار کرتا رہا۔
میں نے گھبرا کر آئینہ ڈھانپ دیا۔
کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔
مگر پہلی بار مجھے اندھیرے سے خوف نہیں آیا۔
میں سمجھ چکا تھا کہ اصل اندھیرا کمرے میں نہیں تھا۔
اصل اندھیرا اُس جگہ تھا جہاں انسان اپنے آپ سے چھپتا ہے۔
صبح ہوئی تو میں نے آئینہ دیوار سے اتار لیا۔
میں نے اسے توڑا نہیں۔
پھینکا نہیں۔
بس اسے فرش پر رکھ دیا۔
اور اس کے سامنے بیٹھ کر بہت دیر تک خود کو دیکھتا رہا۔
اس دن مجھے معلوم ہوا کہ انسان کا سب سے خطرناک رفیق وہ نہیں جو اُس کے راز جانتا ہے؛ خطرناک تو وہ ہے جو اُس کے چہرے سے واقف ہو مگر اُس کے باطن سے بے خبر رہے۔
اور سب سے بڑا رقیب بھی کوئی دوسرا نہیں۔
وہ شخص ہے جو انسان ہر روز آئینے میں دیکھتا ہے، مگر جسے پہچاننے کی کوشش کبھی نہیں کرتا۔
اُس دن کے بعد میں روز آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہوں۔
مگر اب میں اس سے اپنا چہرہ نہیں پوچھتا۔
میں صرف ایک سوال کرتا ہوں:
“آج تم نے اپنے اندر کے انسان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟”
اور عجیب بات ہے۔۔۔
اب آئینہ جواب نہیں دیتا۔
کیونکہ جواب میرے چہرے پر نہیں،
میرے کردار پر لکھا ہوتا ہے۔
