وہ دریا جو پیاسا تھا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ایک شخص تھا جس نے ساری عمر اپنی پیاس کو دشمن سمجھا۔
اسے یقین تھا کہ سکون پانی پینے میں نہیں، پیاس مٹانے میں ہے؛ چنانچہ اس نے کنویں چھوڑے، دریا چھوڑے، بارشوں سے منہ موڑا اور اپنے ہونٹوں کو ریاضت کی مٹی سے سی دیا۔
لوگ اسے صاحبِ حال کہتے تھے۔
مگر اس کے اندر ایک صحرا روز بروز پھیلتا جاتا تھا۔
ایک دن وہ ایک ایسے شہر میں پہنچا جہاں ہر گلی کے آخر میں ایک چشمہ پھوٹتا تھا۔
یہاں لوگ پیاس سے نہیں مرتے تھے؛
وہ سیرابی کے باوجود تشنہ رہتے تھے۔
کسی نے دولت کا جام لبریز کر رکھا تھا، مگر دل خالی تھا۔
کسی کے گھر میں آئینے بہت تھے، مگر اسے اپنا چہرہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔
کسی کے پاس محبت کا ہجوم تھا، مگر تنہائی اس کے تکیے پر سویا کرتی تھی۔
کسی نے دنیا فتح کر لی تھی، مگر اپنی خواہش سے شکست کھا چکا تھا۔
اس شخص نے سوچا:
پیاس پانی کی کمی نہیں، سمت کی خرابی بھی ہو سکتی ہے۔
وہ شہر کے بیچ ایک بازار میں پہنچا۔
وہاں ہر چیز ملتی تھی، سوائے اس چیز کے جس کی قیمت سب سے زیادہ تھی: قناعت۔
ایک دکان پر خوشی بکتی تھی۔
دوسری پر شہرت۔
تیسری پر اختیار۔
چوتھی پر محبت۔
پانچویں پر سکون۔
مگر ہر خریدار کے ہاتھ میں سامان تھا اور آنکھوں میں ایک نئی طلب۔
وہاں اسے پہلی بار سمجھ آیا:
خواہش کا پیٹ بھر جائے تو بھی خواہش کا منہ کھلا رہتا ہے۔
شام ہوئی تو وہ شہر سے باہر ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔
اس نے اپنے دل سے کہا:
“میں نے تجھے بھوکا رکھا، پھر بھی تو آزاد نہ ہوا؛ شاید زنجیر بھوک نہیں، بے سمتی تھی۔”
دل خاموش رہا۔
اس نے پوچھا:
“اگر خواہش بری ہے تو صبح کیوں آتی ہے؟”
خاموشی نے جواب دیا:
“صبح بھی خواہش ہے؛ مگر سورج اسے روشنی کہتا ہے۔”
وہ چونکا۔
اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ ہر آگ جلانے کے لیے نہیں ہوتی؛
کچھ آگیں راستہ دکھانے کے لیے بھی ہوتی ہیں۔
تب اس نے اپنی خواہشوں کو ایک ایک کرکے سامنے بٹھایا۔
دولت سے پوچھا:
“تو کیا چاہتی ہے؟”
اس نے کہا:
“میں وسیلہ بننا چاہتی ہوں، منزل نہیں۔”
محبت سے پوچھا:
“تو؟”
اس نے کہا:
“میں قبضہ نہیں، عطا بننا چاہتی ہوں۔”
علم سے پوچھا:
“اور تو؟”
علم نے سر جھکا کر کہا:
“میں غرور بن جاؤں تو جہالت سے بدتر ہوں۔”
پھر اس نے اپنی سب سے چھپی ہوئی خواہش کو بلایا۔
وہ خاموش تھی۔
اس نے پہچان لیا۔
وہ اپنے آپ کو پاک سمجھنے کی خواہش تھی۔
وہ مسکرایا۔
نفس کی آخری پناہ گاہ بھی کبھی کبھی نیکی کا لباس پہن لیتی ہے۔
اس دن اس نے خواہش کو مارنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
اس نے صرف اس کی باگ اپنے ہاتھ میں لے لی۔
اب وہ دولت رکھتا تھا، مگر دولت اسے نہیں رکھتی تھی۔
وہ محبت کرتا تھا، مگر محبت کو ملکیت نہیں بناتا تھا۔
وہ خواب دیکھتا تھا، مگر خوابوں کو اپنی قدر کا ترازو نہیں بناتا تھا۔
وہ ناکام ہوتا تو ٹوٹتا نہیں تھا، کامیاب ہوتا تو پھولتا نہیں تھا۔
اسے معلوم ہو گیا تھا:
جس خواہش کے پورا نہ ہونے سے انسان ٹوٹ جائے، وہ خواہش نہیں، بت ہے۔
سال گزر گئے۔
ایک دن کسی نے اس سے پوچھا:
“تمہیں آخر ملا کیا؟”
اس نے مٹھی کھولی۔
اس میں کچھ نہیں تھا۔
وہ بولا:
“پہلے میں ہر چیز حاصل کرنا چاہتا تھا؛ اب جو میرے پاس ہے، اسے ضائع نہیں کرنا چاہتا۔”
پوچھنے والے نے کہا:
“یہ تو بہت معمولی بات ہے۔”
وہ مسکرایا:
“انسان ہمیشہ بڑی چیزوں کے پیچھے دوڑتا ہے، پھر عمر کے آخر میں معمولی چیزوں کی قیمت پر رو رہا ہوتا ہے۔”
وہ اٹھا اور دریا کی طرف چل دیا۔
دریا وہیں تھا جہاں ہمیشہ سے تھا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ آج اسے پیاس سے دشمنی نہیں تھی۔
اس نے پانی پیا۔
پھر پانی کو بہنے دیا۔
تب اسے سمجھ آیا:
دریا کا کمال یہ نہیں کہ وہ پانی جمع کرتا ہے؛
دریا کا کمال یہ ہے کہ وہ پانی کو روک کر بھی دریا نہیں رہتا۔
انسان بھی ایسا ہی ہے۔
جو کچھ دل میں آئے، سب کو پکڑ لینا زندگی نہیں؛
اور جو کچھ دل میں آئے، سب کو مار دینا بھی زندگی نہیں۔
زندگی خواہش اور ترک کے بیچ کھینچی ہوئی وہ باریک لکیر ہے جہاں انسان انتخاب کرنا سیکھتا ہے۔
وہ شخص پھر شہر لوٹ آیا۔
اب وہ نہ دنیا سے بھاگتا تھا، نہ دنیا کے پیچھے بھاگتا تھا۔
وہ بازار میں بھی تھا اور اپنے اندر بھی۔
اس نے گھر بنایا، مگر گھر کو اپنی قبر نہیں بنایا۔
اس نے خواب دیکھے، مگر خوابوں کو اپنی زنجیر نہیں بنایا۔
اس نے لوگوں سے محبت کی، مگر اپنی روح ان کی مٹھی میں نہیں رکھی۔
لوگ اسے دیکھ کر کہتے:
“یہ شخص بدل گیا ہے۔”
وہ ہنستا اور کہتا:
“نہیں، میں پہلی بار اپنے اختیار میں آیا ہوں۔”
اور شاید انسان کی اصل آزادی یہی ہے:
خواہش کا خاتمہ نہیں، خواہش کی بادشاہت کا خاتمہ۔
کیونکہ پیاس سے فرار صحرا بناتا ہے،
اور ہر پیاس کے پیچھے بھاگنا سیلاب۔
راستہ وہ ہے جہاں پانی بھی ہو، کنارہ بھی؛
خواہش بھی ہو، اختیار بھی؛
دنیا بھی ہو، اور دل کا آسمان بھی۔
جو انسان اپنی خواہشوں کو سمت دے دے، اسے منزل ڈھونڈنے کے لیے دنیا بھر کے نقشے نہیں چاہییں۔
وہیں سے سفر شروع ہوتا ہے جہاں خواہش حکم دینا چھوڑ دیتی ہے اور شعور جواب دینا شروع کرتا ہے۔
اور شاید نجات یہ نہیں کہ انسان کے اندر کچھ باقی نہ رہے؛
نجات یہ ہے کہ اندر بہت کچھ ہو، مگر انسان کسی ایک چیز کا غلام نہ رہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top