مقدس قبروں کے مجاور

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

شہر میں قبریں کم تھیں، مجاور زیادہ۔
یہ عجب شہر تھا؛ یہاں لوگ مردوں کو دفن کرنے کے بعد ان سے جان نہیں چھڑاتے تھے، بلکہ اپنی باقی زندگی ان کی قبر کے گرد گزار دیتے تھے۔ کسی نے اپنی جوانی دفن کر رکھی تھی، کسی نے محبت، کسی نے سوال، کسی نے سچ؛ اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی عقل دفن کرکے اس قبر پر عقیدت کا مینار تعمیر کر لیا تھا۔
میں نے ایک دن شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں ایک شخص کو دیکھا۔ وہ ایک قبر پر بیٹھا تھا اور بڑی عقیدت سے مٹی صاف کر رہا تھا۔
میں نے پوچھا،
“کس کی قبر ہے؟”
اس نے کہا،
“میرے یقین کی۔”
“مر گیا تھا؟”
وہ بولا،
“نہیں، میں نے زندہ رہنے نہیں دیا۔”
میں اس جواب پر دیر تک خاموش رہا۔
پھر سمجھ آیا کہ بعض معاشروں میں انسان اپنے سوالوں کو اس لیے دفن نہیں کرتا کہ وہ مر گئے ہوتے ہیں؛ وہ انہیں اس لیے دفن کرتا ہے کہ کہیں وہ زندہ نہ ہو جائیں۔
ہم عجیب لوگ ہیں۔
ہمیں سچ چاہیے، مگر ایسا سچ جو ہماری رائے کے خلاف نہ ہو۔
ہمیں آزادی چاہیے، مگر صرف اپنے لیے۔
ہمیں انصاف چاہیے، مگر جب ترازو اپنے ہاتھ میں ہو۔
ہمیں تبدیلی پسند ہے، بشرطیکہ تبدیل ہونے کی باری دوسروں کی آئے۔
ہم نے اپنے مفادات کے گرد اتنے مقدس الفاظ کھڑے کر دیے ہیں کہ اب جھوٹ بھی تقدس کے لباس میں ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم اس کے جوتے سیدھے کرتے ہیں۔
شہر میں ایک بازار تھا جہاں پرانے نظریات فروخت ہوتے تھے۔
ہر نظریے کے ساتھ ایک تختی لگی تھی:
“اسے سوال نہ کریں؛ آپ کے بزرگ اسے مانتے آئے ہیں۔”
میں نے دکاندار سے پوچھا:
“اگر بزرگ غلط ہوں؟”
وہ مسکرایا:
“تو تمہیں ان سے زیادہ عقل مند ہونے کا غرور لاحق ہے۔”
میں نے پوچھا:
“اور اگر میں صحیح ہوں؟”
اس نے بے نیازی سے کہا:
“تو تم اکیلے رہ جاؤ گے۔”
تب مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ انسان ہمیشہ دلیل سے قائل نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی وہ صرف اس لیے غلط بات کو درست مانتا رہتا ہے کہ سچ بولنے کے بعد اسے تنہا ہو جانے کا خوف ہوتا ہے۔
اسی خوف نے نسلوں کو وراثت میں صرف جائیداد نہیں دی، غلطیاں بھی دیں۔
ہم نے اپنی اولاد کو سوال کرنا نہیں سکھایا؛ ہم نے اسے سوال کی حدود سکھائیں۔
ہم نے کہا:
یہ پوچھو۔
یہ نہ پوچھو۔
اس پر بحث کرو۔
اس پر سر جھکا دو۔
یوں ہم نے ذہن پیدا کیے، مگر ان کے لیے ممنوعہ خیالات کی سرحدیں بھی کھینچ دیں۔
ہم نے علم کے دروازے کھول دیے، مگر سوچنے کی کھڑکیاں بند رکھیں۔
آج انسان کے ہاتھ میں پوری دنیا کی معلومات ہے، مگر اپنے اندر اترنے کا نقشہ نہیں۔
وہ ہزاروں لوگوں کی زندگی جانتا ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ اس کی اپنی زندگی کس جھوٹ پر کھڑی ہے۔
وہ دوسروں کے چہروں پر منافقت پڑھ لیتا ہے، مگر آئینہ دیکھتے ہی اخلاقی اصطلاحات بھول جاتا ہے۔
ہم نے رائے کو شعور، تکرار کو دلیل، اکثریت کو حق اور شور کو سچ سمجھ لیا ہے۔
جو بات سب کہتے ہیں، ہمیں وہ سچی لگتی ہے؛
جو بات ہمیں اچھی لگتی ہے، ہمیں وہ درست لگتی ہے؛
اور جو بات ہمارے یقین کو زخمی کرے، ہم اسے جھوٹ کہہ کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔
ہم سچ تلاش نہیں کرتے؛ ہم اپنے یقین کی حفاظت کرتے ہیں۔
اسی شہر میں ایک بہت بڑا مزار بھی تھا۔
وہاں کسی بادشاہ، درویش یا بزرگ کی قبر نہیں تھی۔
وہاں مردہ سوال دفن تھے۔
لوگ دور دور سے آتے، چادریں چڑھاتے، دعائیں مانگتے اور واپس جا کر اپنے بچوں کو وہی سوال کرنے سے روکتے جنہیں خود آ کر دفن کر گئے تھے۔
میں نے وہاں ایک بوڑھے مجاور سے پوچھا:
“لوگ یہاں کیا مانگنے آتے ہیں؟”
وہ بولا:
“اپنے یقین کی حفاظت۔”
میں نے کہا:
“اور سچ؟”
اس نے میری طرف دیکھا، جیسے میں نے کوئی ناپاک لفظ بول دیا ہو۔
پھر آہستہ سے بولا:
“سچ مانگنے والا یہاں نہیں آتا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ سچ مانگنے سے پہلے آدمی کو یہ ماننا پڑتا ہے کہ ممکن ہے وہ خود غلط ہو۔”
میں خاموش ہو گیا۔
وہ بولا:
“اور زیادہ تر لوگ سچ سے نہیں ڈرتے، اپنے غلط ثابت ہونے سے ڈرتے ہیں۔”
یہ بات میرے اندر کسی پتھر کی طرح گری۔
ہماری اصل بدقسمتی یہ نہیں کہ جھوٹ بہت ہے۔
اصل بدقسمتی یہ ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کے جھوٹ کو مقدس سمجھتا ہے۔
ہم اپنے مفادات کو اصول کہتے ہیں، اپنی عادتوں کو روایت، اپنی کم علمی کو یقین اور اپنی ضد کو کردار۔
پھر حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ کیوں نہیں بدلتا۔
معاشرہ کیسے بدلے؟
جس ذہن نے اپنے بت کو پہچاننے سے انکار کر دیا ہو، وہ ہر نئے سچ کو بت شکن سمجھتا ہے۔
ہم نے اپنے اپنے بت تراش لیے ہیں۔
کسی کا بت خاندان ہے، کسی کا جماعت، کسی کا شہرت، کسی کا منصب، کسی کا ماضی اور کسی کا اپنا ہی ذہن۔
فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بت پتھر کے ہوتے تھے؛
اب وہ نظریات کے بنے ہیں، اور نظریاتی بت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، کیونکہ پتھر کا بت ٹوٹ جائے تو شور ہوتا ہے، ذہن کا بت ٹوٹے تو پوری شخصیت بکھرنے لگتی ہے۔
ایک دن میں اپنے گھر کی اس قبر کے پاس واپس آیا جسے برسوں سے مقدس سمجھتا رہا تھا۔
میں نے مٹی ہٹائی۔
اندر لاش نہیں تھی۔
صرف ایک لفظ دفن تھا:
“کیوں؟”
میں دیر تک اسے دیکھتا رہا۔
اچانک مجھے سمجھ آیا کہ میں برسوں سے قبر کی حفاظت نہیں کر رہا تھا؛ قبر میرے اندر موجود خوف کی حفاظت کر رہی تھی۔
میں نے وہ لفظ اٹھا لیا۔
قبر کھلی چھوڑ دی۔
نہ چراغ جلایا، نہ چادر چڑھائی، نہ دعا مانگی۔
صرف ایک سوال اپنے ساتھ لے آیا۔
تب مجھے معلوم ہوا:
زندگی اس دن شروع نہیں ہوتی جب انسان کو جواب مل جائے؛ زندگی اس دن شروع ہوتی ہے جب وہ ایسا سوال پوچھنے کی جرأت کر لے جس کا جواب اس کے اپنے یقین کو تباہ کر سکتا ہو۔
اور تہذیب کا زوال اس دن شروع ہوتا ہے جب سوال کو گستاخی، اختلاف کو دشمنی اور سوچ کو بغاوت قرار دے دیا جائے۔
اس رات شہر کے تمام مزار روشن تھے۔
لوگ اپنے اپنے یقینوں کی قبروں پر چراغ جلا رہے تھے۔
صرف ایک قبر تاریک تھی۔
وہ میری تھی۔
اور پہلی بار مجھے اندھیرے سے خوف نہیں آیا۔
کیونکہ میں سمجھ چکا تھا:
مردہ یقین کی قبر پر جلتا ہوا چراغ زندگی نہیں دیتا؛ وہ صرف اتنی روشنی دیتا ہے کہ مجاور اپنی زنجیروں کو زیور سمجھتا رہے۔
میں اس قبر سے اٹھ آیا۔
مگر جاتے جاتے ایک آخری بات سمجھ میں آئی:
دنیا میں سب سے خطرناک مردہ وہ نہیں جسے دفن کر دیا جائے؛ سب سے خطرناک مردہ وہ خیال ہے جسے زندہ سمجھ کر نسلوں کو اس کے سامنے جھکایا جاتا رہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top