ماں کے بعد کی دنیا

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

ماں کے ہاتھوں میں ممتا کا لمس نہیں، تقدیر کا وہ غیر مرئی قلم ہوتا ہے جو چپکے سے بچے کا مقدر سنوار رہا ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ جن کی ہتھیلیوں پر وقت کے غار کھد چکے ہوں، پوروں پر مشقت کی دراڑیں جم چکی ہوں اور رنگت محنت کی دھوپ سے گہری ہو چکی ہو، باہر کی دنیا کے لیے کھردرے ہو سکتے ہیں، مگر اولاد کے لیے وہی لمس کائنات کی سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتا ہے۔ وہ ہاتھ کبھی بخار سے تپتی پیشانی پر رکھے جاتے تو شفا کا الہام بن جاتے، کبھی الجھے بالوں میں پھرتے تو برسوں کا خوف اور تھکن پانی بن کر بہہ جاتی، اور جب روٹی کا نوالہ بنا کر منہ تک لاتے تو آدمی کو اپنی روح کا ہر بھولا ہوا موسم یاد آ جاتا۔ اور کبھی یہی ہاتھ خاموشی سے آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جائیں، تو یوں لگتا ہے جیسے زندگی کی کتاب سے کسی نے حاشیہ نہیں، پورا عنوان ہی مٹا دیا ہو۔
​انسان کی سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ وہ قد کے بڑھنے، داڑھی میں سفیدی اترنے اور دنیاوی فیصلے کرنے کو “بڑا ہونا” سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیٹا چاہے پچاس برس کا ہو کر دنیا کے سامنے چٹان بن جائے، ماں کا دل کبھی اس کے لیے عمر کی گنتی نہیں گنتا۔ اس کی بینائی میں وہ ہمیشہ وہی ننگے پاؤں بھاگتا بچہ رہتا ہے جس کی ہر سانس پر اس کا وجود دھڑکتا ہے۔
​مجھے یاد ہے، جب بھی میں سفر کے لیے گھر کی چوکھٹ پار کرتا، ماں پیچھے سے آ کر بس اتنا کہتیں: “دیکھ کر جانا۔” میں ہمیشہ اپنے زعم میں مسکرا کر کہتا: “ماں جی! اب میں بچہ نہیں رہا، اپنے راستے خود دیکھ سکتا ہوں۔” وہ ایک عجیب سی ممتا بھری افسردگی سے دیکھتیں اور کہتیں: “ماں دے لئی پتر کدے وڈا نئیں ہوندا۔” تب مجھے یہ جملہ محض ایک روایتی لاڈ لگتا تھا۔ آج جب قدم قدم پر دنیا کے فریب ٹھوکریں مارتے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ ماں کا دل عمر نہیں، اپنے بچے کا تحفظ مانگتا ہے۔
​ایک بار جب میں ایک طویل سفر پر نکلنے لگا، تو انہوں نے پرانے کپڑے کے ٹکڑے میں دو روٹیاں، تھوڑا سا اچار اور شکر کی ڈبیہ باندھ کر میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں نے جھنجھلا کر کہا: ’”ماں جی ! راستے کے ہر ہوٹل پر سب کچھ مل جائے گا، یہ بوجھ کیوں ساتھ دے رہی ہیں ؟”ماں نے نظریں جھکا کر کہا: “سب کچھ مل جائے گا پتر، مگر ان پر میرے ہاتھ کا لمس تو نہیں ملے گا نا۔” تب میں ہنس دیا تھا۔ آج اس جملے کی گہرائی یاد کرتا ہوں تو ہنسی حلق میں دم توڑ دیتی ہے اور آنکھوں کے گوشے بھیگ جاتے ہیں۔ ماں کی محبت کا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے کہ جب وہ میسر ہوتی ہے تو معمولی اور عام محسوس ہوتی ہے، اور جب رخصت ہو جاتی ہے تو کائنات کا سب سے نایاب سرمایہ بن جاتی ہے۔
​پھر ایک دن وہ خاموشی سے چلی گئیں۔
​کوئی سورج گرہن نہیں ہوا، کوئی آسمان نہیں پھٹا، شہر کی سڑکوں پر گڑگڑاتے ہوئے ٹریفک کا شور ویسے ہی رہا، بازار کھلے اور پرندے حسبِ معمول اپنے آشیانوں کو لوٹے۔ کائنات کا نظام ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں رکا، صرف میرے اندر سے ایک پوری کائنات پیوندِ خاک ہو گئی۔
​اگلی صبح، عادت کی شدید لاچاری میں، میں نے فون اٹھایا۔ اسکرین پر ماں کا نمبر چمک رہا تھا، مگر انگلی جیسے برف بن کر جم گئی۔ اس لمحے زندگی کا سب سے ہوش ربا سچ مجھ پر کھلا کہ موت صرف ایک انسان کی سانسیں بند نہیں کرتی، وہ اس کے ساتھ جڑی ہماری بیسیوں عادتوں کو بھی ایک ہی وار میں یتیم کر دیتی ہے۔
​اب کوئی فون کر کے یہ نہیں پوچھتا: ’’پہنچ گئے؟‘‘ اب کوئی رات کے آخری پہر جاگ کر دروازے کی چاپ پر یہ نہیں کہتا: ” تم آ گئے بیٹا ، اتنا لیٹ نہ ہوا کرو ۔” اب کوئی میرے لہجے کے ہلکے سے اتار چڑھاؤ سے میری اندرونی شکست کو نہیں پڑھتا۔ ماں کے بعد آدمی عمر کے اگلے درجے میں قدم نہیں رکھتا، بلکہ ایک ہی رات میں اچانک صدیوں پرانا بوڑھا ہو جاتا ہے۔
​آج جب بھی رات بہت ویران ہوتی ہے اور کمرے کی خاموشی سینے پر بوجھ بن کر بیٹھنے لگتی ہے، میں کھڑکی سے باہر چاند کو دیکھ کر دل ہی دل میں پکارتا ہوں:
“ماں جی ! میں اب بھی بالکل وہیں کھڑا ہوں جہاں آپ مجھے چھوڑ کر گئی تھیں… فرق صرف اتنا ہے کہ اب دنیا کی آندھیوں کے سامنے مجھے یہ کہنے والا کوئی نہیں رہا کہ: “ڈرنا نہیں، میں ہوں نا۔”
​اور شاید اسی ایک جملے کے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جانے کا نام… ماں کے بعد کی دنیا ہے۔
سنو! اگر تمہاری ماں ابھی زندہ ہے، تو میری اس یتیم حسرت کا ایک حرف اپنے دل پر لکھ لو۔
​آج ہی، اسی وقت، اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کے پاس جا بیٹھو۔ اس کے جھریوں بھرے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لو، اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دو، اور اس کی کسی فضول سی بات کو بھی ایسے سنو جیسے وہ کائنات کا سب سے اہم راز بتا رہی ہو۔ اسے فون کرو، چاہے تم ابھی دو منٹ پہلے ہی اس کے پاس سے اٹھے ہو۔ اس کی بار بار کی پوچھ گچھ پر کبھی نہ جھنجھلاؤ، کیونکہ یہ پوچھ گچھ سوال نہیں، تمہاری سانسوں کی حفاظت کی دعا ہوتی ہے۔
​خدا کے لیے، وقت کو اتنی مہلت نہ دو کہ وہ تمہیں ماں کی قدر سکھانے کے لیے اس کی تصویر یا اس کی قبر کے سامنے لا کر کھڑا کر دے۔
​ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمہارے پاس باتیں کرنے کے لیے ہزاروں الفاظ ہوں گے مگر سننے والی ماں نہیں ہوگی، تمہارے پاس وقت ہی وقت ہوگا مگر فون کی دوسری طرف وہ کانپتی ہوئی پیاری آواز نہیں ہوگی، اور تمہاری پیشانی پر بخار تو ہوگا مگر اسے شفا بنانے والا کھردرہ لمس نہیں ہوگا۔
​ماں کے ہوتے ہوئے زندگی پر بہار ہوتی ہے، اور ماں کے جاتے ہی پورا آسمان خالی ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ تمہاری عادتیں یتیم ہو جائیں، اپنی ماں کو سینے سے لگا لو… کیونکہ دنیا میں سب کچھ دوبارہ مل سکتا ہے، مگر ماں کے ہاتھ کا لمس دوبارہ کبھی نہیں ملتا!

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top