(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
شہر شام کے غبار میں ڈوبا ہوا تھا۔ شور کہیں رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ٹریفک کے ہارن، لوگ جو اپنی باتوں میں وقت ضائع کر رہے تھے، چھابڑی والے اپنی چیخوں میں اپنی بقا تلاش کر رہے تھے سب کچھ ایک ہی تال میں دھڑک رہا تھا۔ لوگ چل رہے تھے، رکتے تھے، ہنس رہے تھے، یا خاموش تھے، اور سب کچھ ایک دوسرے کے اندر کھو رہا تھا۔
وہ کیفے کے دروازے سے داخل ہوا۔ کرسی بچی تھی، وہ بیٹھ گیا۔ چائے کا کپ سامنے رکھا گیا، بھاپ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہو رہی تھی، اور وہ دیکھ رہا تھا۔ لوگ اپنی دنیا میں مگن تھے۔ ایک لڑکی سر رکھ کر سو گئی تھی، اس کے سامنے بیٹھا لڑکا اس کے ہاتھوں سے کھیل رہا تھا۔ ایک اور جوڑا کانوں میں راز کہہ رہا تھا، ہنسی کے چھوٹے چھوٹے دھماکے ہو رہے تھے، مگر سب کچھ معمولی، سب کچھ عام۔ اس کی نظریں اچانک ایک کلائی پر ٹھہریں ۔۔۔سرخ چوڑی۔ یہ کوئی شاہکار نہیں تھی، نہ کسی محل کا زیور، نہ کسی فنکار کی محنت کا نتیجہ۔ بس ایک سرخ چوڑی، جس نے خاموشی سے اس کے دل میں سوال پیدا کر دیا۔ چوڑی کی چھنچھناہٹ کانوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے محسوس ہو رہی تھی۔ اور وہ دل، جو اکثر دنیا کی تلخیوں سے بند رہتا تھا، اس آواز کے ساتھ ہم آہنگ ہو گیا۔ اس نے لمحہ بھر کے لیے سوچا، یہ آواز صرف چوڑی کی نہیں، اس کی اپنی ٹوٹی ہوئی امیدوں اور اندر چھپی ہوئی خواہشات کی آواز تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ معمولی نہیں، یہ اس کے دل کے کسی چھپے ہوئے حصے تک جا پہنچا ہے، جہاں انسانی خواہش اور حقیقت کی تلخی مل کر درد پیدا کر رہی ہیں۔ وہ اپنے کرسی سے اٹھا، قدم آگے بڑھے، اور ہاتھ لڑکی کی کلائی کی طرف بڑھا ۔چوڑی کو چھوتے ہی ایک تیز، بے رحم چبھن ہوئی، جیسے وقت نے اس کے دل پر چاقو مار دیا ہو۔
آنکھیں کھلیں تو وہ خود اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ کیفے، شور، لوگ، سب کچھ غائب۔
اس کے ہاتھ میں سرخ چوڑی کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا تھا، جو ہتھیلی میں گڑھا ہوا تھا۔
اس کے ہونٹوں پر ہنسی لرز آئی، اک تلخ ہنسی۔
چوڑی نہیں ٹوٹی تھی، وہ خود ٹوٹا تھا۔
انسان کی خواہشیں، توقعات، غرور سب ٹوٹ چکے تھے۔
چوڑی نے اس کے دل میں ایک سرخ دائرہ بنا دیا تھا، جو اسے ہر وقت یاد دلاتا رہا: زندگی کبھی بھی انسانی خواہشات کے مطابق نہیں چلتی۔ انسان ہمیشہ کچھ چاہتا ہے، چاہے وہ کسی اور کی چیز ہو، لمحہ ہو، محبت ہو، یا خوشی۔ اور یہ خواہشیں ہمیشہ دھوکہ دیتی ہیں۔
وہ دن گزرتا رہا، لوگ اپنی جگہوں پر موجود تھے، کچھ ہنس رہے تھے، کچھ خاموش تھے۔ کسی نے کسی کی نہیں سنی۔
چوڑی نے اس کے ذہن میں ایک مستقل نشان چھوڑ دیا، اور وہ جانتا تھا کہ یہ نشان ہمیشہ رہے گا۔
رات کے اندھیرے میں، وہ چوڑی کے ٹوٹے ٹکڑے کو دیکھتا رہا۔ سوچ رہا تھا کہ یہ صرف سرخ رنگ نہیں، یہ اس کی اپنی ٹوٹ پھوٹ، اپنی انجان خواہشات، اور انسانی زندگی کی بے رحم حقیقت کی علامت ہے۔
کچھ دن بعد، وہ دوبارہ اسی کیفے میں گیا۔ شور وہی تھا، لوگ وہی تھے، مگر اس کی نظر ایک بار پھر کسی کلائی پر ٹھہر گئی۔
چوڑی نہیں تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ وہ جو چیز وہاں محسوس کر رہا ہے، وہ حقیقت نہیں، بلکہ اس کے اپنے دل کی یاد ہے، اس کا اپنا فریب۔
وہ جانتا تھا کہ انسان ہمیشہ چاہتا ہے، چاہے کچھ بھی ہو، اور ہر خواہش کے پیچھے تلخ انجام چھپا ہوتا ہے۔ چوڑی، جو ایک لمحے کے لیے دل کو خوش کر گئی، اس کی یاد میں اس کا دل ہمیشہ کے لیے ٹوٹا رہا۔
ایک رات، وہ کیفے کے ایک کونے میں بیٹھا، دھیما سا شور، لوگوں کی ہنسی، اور باہر ٹریفک کا بوجھ محسوس کر رہا تھا۔ اس نے اپنی نظریں ایک کلائی پر ڈالیں، جو اس کی سمجھ سے باہر تھی۔
کلائی میں ایک نئی سرخ چوڑی بندھی ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کے لیے کوئی اتفاق نہیں، کوئی جادو نہیں، بلکہ زندگی کی تلخی اور انسانی خواہشات کی بے رخی ہے جو ہر روز اس پر بھاری پڑتی ہے۔
اس نے چوڑی کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا ہاتھ میں لیا، اور اسے کوڑے دان میں پھینک دیا۔
مگر سرخ دائرہ اب بھی اس کے دماغ میں قائم تھا۔
زندگی، خواہش، انسانی فریب سب کچھ سرخ رنگ میں گھرا ہوا، اور وہ جانتا تھا کہ اسے کبھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
وہ شام گزرتی رہی، لوگ اپنی جگہ موجود تھے، کچھ ہنس رہے تھے، کچھ خاموش تھے۔
وہ خود بھی خاموش رہا، لیکن اس کی خاموشی میں، اس کے دل کے اندر سرخ رنگ کی چھنچھناہٹ مسلسل گونج رہی تھی انسان کی خواہش اور حقیقت کے درمیان، ایک دائمی جھڑپ کی آواز۔
آخر کار، اس نے اپنے آپ سے کہا:
“چوڑی کبھی واپس نہیں آئے گی، لوگ کبھی نہیں بدلیں گے، اور میں… میں ہمیشہ اس سرخ دائرے کے اندر جکڑا رہوں گا۔”
اور اس تلخ یقین کے ساتھ، وہ شام کے شور میں غائب ہو گیا، ایک انسان کی طرح جو اپنی خواہشوں کے شکنجے میں ہمیشہ قید رہا، اور جسے کبھی حقیقی آزادی نصیب نہیں ہوئی۔
