سوال سے آگے

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

رات بہت خاموش تھی۔ میں اپنے صوفی کے سامنے بیٹھا تھا اور کئی دنوں سے دل میں جمع ایک سوال آخر زبان پر آ ہی گیا۔
“حضور! سچ کیا ہے؟”
انہوں نے میری طرف دیکھا، جیسے سوال نہیں بلکہ سوال کے پیچھے چھپی ہوئی بے قراری دیکھ رہے ہوں۔
کچھ نہ کہا۔
میں نے پھر پوچھا:
“حقیقت کہاں ملتی ہے؟ کتابوں میں؟ عبادت میں؟ تنہائی میں؟ یا اپنے اندر؟”
وہ اٹھے اور صحن کے کونے میں پڑی ایک پرانی جھاڑو اٹھا لائے۔
“یہ پکڑو۔”
میں حیران ہوا۔
“اس کا کیا کرنا ہے؟”
“صحن صاف کرو۔”
میں نے جھاڑو ہاتھ میں لے لی۔ رات کی نمی سے مٹی بھاری تھی۔ میں خاموشی سے صحن صاف کرنے لگا۔
کچھ دیر بعد میں نے کہا:
“میں جواب پوچھنے آیا تھا اور آپ نے جھاڑو پکڑا دی۔”
وہ مسکرائے۔
“تم جواب سننے آئے ہو، سچ دیکھنے نہیں۔”
میں رک گیا۔
انہوں نے کہا:
“تمہیں لگتا ہے سچ کسی بلند مقام پر بیٹھا ہوا ہے جہاں پہنچ کر کوئی تمہیں بتا دے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ اس لیے تم سوال پر سوال کرتے ہو۔”
پھر انہوں نے زمین کی طرف اشارہ کیا۔
“دیکھو، تم صحن صاف کر رہے ہو مگر ہر جھونکے کے ساتھ گرد پھر آ رہی ہے۔”
میں نے کہا:
“پھر صفائی کیسے مکمل ہوگی؟”
وہ بولے:
“مکمل نہیں ہوگی۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تم جھاڑو چھوڑ دو۔”
میں خاموش ہو گیا۔
کافی دیر بعد صوفی نے پوچھا:
“اب بتاؤ، تمہیں کیا ملا؟”
میں نے کہا:
“کچھ بھی نہیں۔”
وہ ہنسے۔
“یہی تو پہلی چیز ہے جو تمہیں ملی ہے۔”
“کیا؟”
“تمہیں پہلی بار معلوم ہوا کہ ہر کام کسی حاصل کے لیے نہیں کیا جاتا۔”
میں ان کی طرف دیکھتا رہ گیا۔
انہوں نے کہا:
“سچ بھی ایسا ہی ہے۔ اسے حاصل کرنے کی ضد کرو گے تو اپنے ہی سوالوں میں الجھے رہو گے۔ خود کو درست کرتے جاؤ، نیت کو صاف کرتے جاؤ، دل سے بوجھ اتارتے جاؤ۔ ایک دن تمہیں معلوم ہوگا کہ جس حقیقت کو تم دور سمجھ کر ڈھونڈ رہے تھے، وہ تمہارے ہر خلوص بھرے عمل میں پہلے ہی موجود تھی۔”
وہ اندر چلے گئے۔
میں دیر تک اسی صحن میں بیٹھا رہا۔
رات ختم ہونے لگی تھی۔
اچانک مجھے خیال آیا کہ صحن پھر گرد سے بھر گیا ہے۔
میں اٹھا۔
جھاڑو اٹھائی۔
اور پہلی بار مجھے جواب کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
میں سمجھ گیا تھا کہ بعض سوالوں کا جواب ملتا نہیں، انسان خود جواب بن جاتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top