(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)
یکطرفگی محض کسی تعلق کی ادھوری سمت نہیں، یہ وجود کی وہ خاموش ریاضت ہے جس میں انسان کسی دوسرے کی شرکت کے بغیر بھی اپنے احساس کو زندہ رکھتا ہے۔ یہاں محبت کو جواب کی ضرورت نہیں ہوتی، انتظار کو وعدے کی اور درد کو گواہ کی۔ انسان کسی کو چاہتا ہے اور اس چاہت کو اپنے اندر یوں محفوظ کر لیتا ہے جیسے کوئی مسافر آخری چراغ بھی ہوا سے چھپا کر رکھ لے، صرف اس لیے کہ اسے معلوم ہے روشنی کا مقدر ہمیشہ راستہ دکھانا نہیں ہوتا، کبھی کبھی صرف جلتے رہنا بھی ہوتا ہے۔
یکطرفگی کی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس میں انسان کسی دوسرے سے وابستہ ہو کر بھی اپنے اندر تنہا رہتا ہے۔ وہ نام نہیں لیتا مگر ہر خیال اسی نام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ وہ کچھ کہتا نہیں مگر اس کی خاموشی کے اندر ایک مکمل مکالمہ جاری رہتا ہے۔ وہ کسی دروازے پر دستک نہیں دیتا مگر اس کے دل میں ہر آہٹ اسی دروازے سے منسوب ہو جاتی ہے۔ یوں ایک شخص غیر حاضر رہ کر بھی کسی کے باطن میں اپنی موجودگی کا سب سے گہرا نشان چھوڑ سکتا ہے۔
مگر یکطرفگی کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ سامنے والا نہیں چاہتا؛ اصل آزمائش یہ ہے کہ انسان اپنی چاہت کو سامنے والے کے حقِ انتخاب سے بلند نہ ہونے دے۔ محبت اگر آزادی چھیننے لگے تو وہ محبت نہیں رہتی، اپنی خواہش کی حکومت بن جاتی ہے۔ یکطرفگی کا وقار اسی میں ہے کہ دل کسی کو چاہے مگر اس کی خاموشی کو اپنی ملکیت نہ سمجھے، اس کی دوری کو اپنی توہین نہ بنائے اور اپنی محبت کو دوسرے پر کوئی اخلاقی قرض نہ بنائے۔
کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی محبت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے احساس کا بوجھ دوسرے کے دروازے پر نہیں رکھتا۔ وہ چاہتا ہے مگر مطالبہ نہیں کرتا، یاد کرتا ہے مگر تعاقب نہیں کرتا، دعا کرتا ہے مگر فیصلہ اپنے ہاتھ میں نہیں لیتا۔ کچھ محبتیں ملنے کے لیے نہیں ہوتیں؛ وہ انسان کو اپنے اندر کی گہرائی کا پتہ دینے آتی ہیں۔
اور پھر ایک عجیب مرحلہ آتا ہے۔ جس راز کو انسان نے برسوں اپنی روح میں دفن رکھا ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی معمولی سی جنبش سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ آنکھ ذرا زیادہ ٹھہر جاتی ہے، آواز کا ایک حرف بدل جاتا ہے، کسی نام کے ذکر پر خاموشی معمول سے ذرا گہری ہو جاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے دل کو چھپا لیا ہے، حالانکہ دل کی اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ اکثر وہاں بول اٹھتا ہے جہاں زبان کو خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یکطرفگی کا سب سے بڑا فریب ٹوٹتا ہے: ہم کسی کو اپنی محبت سے بے خبر رکھ سکتے ہیں مگر اپنی محبت کو اپنے وجود سے بے خبر نہیں رکھ سکتے۔ وہ ہمارے لہجے میں آ جاتی ہے، ہماری دعاؤں میں اتر جاتی ہے، ہماری خاموشیوں کا مزاج بدل دیتی ہے۔ کبھی سامنے والا اسے پڑھ لیتا ہے اور کبھی نہیں پڑھتا۔ مگر اظہار کا نہ ہونا، احساس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔
پھر بھی ہر یکطرفہ جذبے کو دوسرے دل تک پہنچنا ضروری نہیں۔ بعض دروازے عمر بھر بند رہتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے سامنے کھڑا انتظار انسان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔ بعض چاہتیں وصال نہیں بنتیں مگر کردار بن جاتی ہیں۔ بعض نام زندگی میں شامل نہیں ہوتے مگر دعا میں شامل رہتے ہیں۔ اور بعض لوگ ہمارے نہیں ہوتے مگر ان کے لیے ہمارے دل میں جو خیر باقی رہ جاتی ہے، وہ ہمیں ہمارے اپنے ہونے کا ثبوت دے دیتی ہے۔
شاید یکطرفگی کی سب سے پاکیزہ صورت یہی ہے کہ انسان آخرکار یہ سمجھ لے کہ کسی کو چاہنا اور کسی پر حق جتانا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ چاہت اگر دوسرے کی آزادی کا احترام کرنا سیکھ جائے تو وہ محرومی کے باوجود پاک رہ سکتی ہے۔
اور تب یکطرفگی ادھورا تعلق نہیں رہتی؛ وہ انسان اور اس کے اپنے دل کے درمیان ایک ایسا راز بن جاتی ہے جسے دنیا سمجھنے کی کوشش کرتی رہتی ہے مگر جس کی آخری تعبیر صرف وہ شخص جانتا ہے جس نے اسے جیا ہو۔
کیونکہ بعض محبتیں دو دلوں کے درمیان نہیں ہوتیں؛ وہ ایک دل کے اندر پوری کائنات بن کر رہتی ہیں۔
اور شاید یکطرفگی کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ جس شخص تک محبت نہیں پہنچتی، کبھی کبھی وہی محبت انسان کو اپنے آپ تک پہنچا دیتی ہے۔
