​عکس اور آئینہ

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

​شام کا دھندلکا بستی پر اتر رہا تھا جب وہ اپنی حویلی کے آخری، تاریک کمرے میں داخل ہوا۔ اس کمرے میں صرف ایک چیز تھی: دادا جان کا چھوڑا ہوا وہ قدیم آئینہ، جس کے فریم پر سانپ کی شکل کے نقش و نگار بنے تھے۔
​بستی میں ان دنوں ایک پراسرار وبا پھیلی ہوئی تھی۔۔ایک ایسی وبا جس میں لوگوں کے چہرے مسخ ہو رہے تھے اور وہ اندھے ہو کر اپنے ہی پیاروں کو نوچ رہے تھے۔ طبیب عاجز تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ جسموں کی نہیں، روحوں کی وبا تھی؛ یہ اس جھوٹ اور اخلاقی زوال کا خراج تھا جو پوری بستی برسوں سے ادا کر رہی تھی۔ وہ خود بھی تو اسی بستی کا حصہ تھا، جس نے ہمیشہ سچ کا گلا گھونٹ کر منافقت کا لبادہ اوڑھے رکھا تھا۔ آج جب وبا حویلی کی دہلیز تک آ پہنچی، تو وہ خوف سے کانپتا ہوا اس آئینے کے عین سامنے کھڑا ہو گیا، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ انسان کو اس کا آخری انجام دکھاتا ہے۔
​”انسان اپنے سچ سے اتنی دور نکل چکا ہے کہ اب اسے اپنا ہی عکس ایک اجنبی تماشا لگتا ہے۔”
​اس نے آئینے میں دیکھا۔ عکس ابھرا۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، وہی سرد مہری۔ لیکن ایک سیکنڈ… آئینے کے اندر موجود اس کے عکس کا چہرہ بستی کے بیماروں کی طرح مسخ نہیں تھا، بلکہ اس پر ایک ایسی فاتحانہ اور پاکیزہ مسکراہٹ تھی جو اس کے اپنے خوفزدہ چہرے پر نہیں تھی۔ وہ کانپ اٹھا۔
​اس نے اپنے ہاتھ اٹھائے، لیکن آئینے کے اندر موجود عکس کے ہاتھ ساکت رہے۔ ہوا میں جیسے سنسناہٹ سی پھیل گئی۔
​”تم کون ہو؟” اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔
​آئینے کے اندر سے ایک مدہم، پراسرار آواز گونجی: “میں تمہارا وہ اصل اور بے داغ سچ ہوں جسے تم نے عمر بھر جھوٹ کے ملبے تلے دبائے رکھا۔ باہر کی وبا دراصل تمہارے جیسے لوگوں کے اندر کا گند ہے جو اب پھوٹ پڑا ہے۔”
​آئینے کا عکس آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا، گویا وہ شیشے کی قید سے باہر نکلنے والا ہو۔ اس نے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر اسے احساس ہوا کہ اس کے پیر فرش سے چپک چکے ہیں۔ وہ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔ باہر پھیلی اندھی وبا کی سڑاند اب اسے کمرے کے اندر محسوس ہو رہی تھی۔
​آئینے کے اندر موجود عکس نے اپنا ہاتھ شیشے سے باہر نکالا، اس کا گریبان پکڑا اور ایک زوردار جھٹکے سے اسے آئینے کے اندر کھینچ لیا۔
​کھٹاک!
​ایک لمحے کے لیے اندھیرا چھا گیا۔ جب اس کی آنکھیں کھلیں، تو وہ آئینے کے اندر کھڑا تھا، اور باہر کی دنیا کو دیکھ رہا تھا۔ باہر وہ عکس تھا، جو اب ایک زندہ، صحت مند اور کامل انسان بن چکا تھا، اپنے کپڑے جھاڑ رہا تھا اور کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا تاکہ بستی کو اس کے زوال سے نجات دلا سکے۔
​اس نے شیشے پر اپنے ہاتھ مارے، چیخنا چاہا، مگر کوئی آواز باہر نہ جا سکی۔ تب اس نے شیشے میں دیکھا، آئینے کے اندر آتے ہی اس کا اپنا چہرہ اسی پراسرار وبا کے آخری اسٹیج کی طرح تڑپنے اور مسخ ہونے لگا تھا۔
​جاتے جاتے، اس کے اپنے ہی جسم نے مڑ کر آئینے کی طرف دیکھا اور مسکرایا:
​”ہر قیدی یہ سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے، جب تک کہ اسے معلوم نہ ہو جائے کہ وہ خود اپنی ہی ذات کے زندان میں بند ہے۔”
​وہ باہر نکل گیا، اور اندر رہ جانے والا اب خود کو پگھلانے کی تڑپ میں، بستی کے مشترکہ گناہ کا بوجھ بنے، پارے کی طرح سرد ہو کر جم چکا تھا۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top