ہم اور ہمارے بچے

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

بیوی نے ایک دن شوہر سے کہا:
“آپ کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری اپنی بھی ایک زندگی ہے۔ ہم اور ہمارے بچے ہی آپ کی پہلی ترجیح ہیں۔”
وہ خاموش رہا۔
بات درست تھی۔
مگر شاید اس نے اسے اتنی شدت سے دل میں اتارا کہ اس کے دل میں ایک اور جملے کے لیے جگہ ہی نہ رہی:
“اور میرے ماں باپ بھی ہیں۔”
پہلے وہ ہر ہفتے ماں باپ سے ملنے جاتا تھا۔
پھر بیوی نے کہا:
“ہر اتوار وہاں جانے کے بجائے کبھی ہمیں بھی وقت دیا کریں۔”
اس نے اگلے اتوار جانے کا ارادہ چھوڑ دیا۔
باپ فون کرتا:
“بیٹا! ذرا آ جاؤ۔ تمہیں دیکھنے کو دل چاہ رہا ہے۔”
وہ کہتا:
“ابو! اس ہفتے بچوں کے ساتھ پروگرام ہے۔ اگلے ہفتے ضرور آؤں گا۔”
اگلا ہفتہ آیا تو کوئی اور مصروفیت نکل آئی۔
ماں پوچھتی:
“بیٹا! بہت دن ہوگئے تمہیں دیکھا نہیں۔”
وہ ہنس کر کہتا:
“امی! میں کہیں گیا تھوڑی ہوں۔ فون تو کرتا ہوں۔”
آہستہ آہستہ فون بھی کم ہوگئے۔
ماں باپ نے شکایت کرنا چھوڑ دی۔
شاید انہیں ڈر تھا کہ شکایت کریں گے تو بیٹا بھی دور ہوجائے گا۔
ایک دن بیوی نے کہا:
“ہم اور ہمارے بچے کب تک آپ کے ماں باپ کے گرد گھومتے رہیں گے؟”
اس نے پہلی بار ذرا سخت لہجے میں کہا:
“ٹھیک ہے۔ اب میں صرف اپنے گھر کو دیکھوں گا۔”
اور وہ واقعی صرف اپنے گھر کو دیکھنے لگا۔
اپنے بچوں کے اسکول۔
ان کی فیس۔
ان کی سالگرہیں۔
ان کی خواہشیں۔
ان کے مستقبل کے خواب۔
مگر اس خواب کے باہر ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں دو بوڑھے لوگ ہر شام دروازے کی طرف دیکھتے تھے۔
ایک سرد رات باپ نے بیٹے کو فون کیا۔
“بیٹا، طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔”
اس نے گھڑی دیکھی۔
بچے سو رہے تھے۔
بیوی نے پوچھا:
“کون تھا؟”
“ابو۔”
“اب کیا ہوا؟”
“کہہ رہے تھے طبیعت خراب ہے۔”
“صبح چلے جائیے گا۔ ابھی بچوں کو جگائیں گے کیا؟”
اس نے فون میز پر رکھ دیا۔
اور سو گیا۔
صبح فون آیا۔
اس بار پڑوسی تھا۔
“بھائی صاحب! جلدی آئیں۔ آپ کے ابو نہیں رہے۔”
وہ بھاگا۔
گھر کے دروازے پر ماں بیٹھی تھی۔
وہ اسے دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر اٹھ نہ سکی۔
بس اتنا کہا:
“تمہارے ابو رات بھر تمہیں یاد کرتے رہے۔”
وہ باپ کے پاس بیٹھ گیا۔
باپ کے چہرے پر عجیب سا سکون تھا۔
تکیے کے نیچے ایک پرچی ملی۔
اس پر لکھا تھا:
“بیٹا مصروف ہے۔ اسے پریشان نہ کرنا۔ وہ اپنے بچوں کا باپ ہے۔”
وہ پرچی سینے سے لگا کر رونے لگا۔
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
وہی ہاتھ جس نے بچپن میں اس کا بخار ناپا تھا۔
وہی باپ جس نے اس کی پہلی سائیکل خریدنے کے لیے کئی راتیں اضافی کام کیا تھا۔
وہ دونوں جنہوں نے اپنی خواہشیں کاٹ کر اس کے خواب سینچے تھے۔
اور وہ؟
وہ اپنے بچوں کا مستقبل بناتے بناتے ان دونوں کا ماضی بن گیا تھا۔
ماں نے دھیرے سے کہا:
“بیٹا! اپنے بچوں کو کبھی یہ مت کہنا کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا۔”
وہ خاموش رہا۔
ماں نے اس کی طرف دیکھا:
“ہم نے تمہارے لیے کبھی وقت نہیں مانگا تھا۔ ہم نے تو اپنی پوری زندگی دی تھی۔”
وہ ٹوٹ گیا۔
اس دن اسے سمجھ آیا کہ بیوی نے جب کہا تھا:
“ہم اور ہمارے بچے بس”
تو اسے اس جملے کے خلاف نہیں ہونا تھا۔
اسے صرف اس میں ایک لفظ اور شامل کرنا تھا:
“ہم، ہمارے بچے اور میرے ماں باپ۔”
کیونکہ شادی کے بعد انسان کسی ایک رشتے کا نہیں ہوجاتا۔
وہ کئی رشتوں کا امین بن جاتا ہے۔
اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ انسان اپنے بچوں کو ہر خوشی دینے کے لیے اپنے ماں باپ کی آخری خوشی چھین لے:
اپنے بیٹے کا وقت۔
ایک دن بچے بڑے ہوجائیں گے۔
اپنے گھر بنا لیں گے۔
اپنی دنیا آباد کرلیں گے۔
اور تب شاید ہمیں سمجھ آئے گا کہ بوڑھے ماں باپ ہم سے دولت نہیں مانگتے تھے۔
وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ
جس بچے کے لیے انہوں نے اپنی پوری زندگی روک دی تھی، وہ کبھی چند لمحوں کے لیے اپنی زندگی روک کر ان کے پاس بھی بیٹھ جائے۔
کیونکہ ماں باپ کی سب سے بڑی بھوک روٹی نہیں ہوتی۔
اپنے بچے کی آواز ہوتی ہے۔
اور جب وہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجاتی ہے تو گھر میں رہ جانے والا سب سے بڑا شور یہی ہوتا ہے:
“کاش! میں اس دن مصروف نہ ہوتا۔”

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top