کہانی ابھی باقی ہے

افسانہ

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

وہ کہانیاں لکھتا تھا مگر اختتام نہیں لکھ پاتا تھا۔
ہر بار جب کہانی اپنے آخری موڑ پر پہنچتی اور کسی کردار کی زندگی کو ایک نقطے پر ختم کرنا ہوتا تو اس کا قلم کاغذ پر ٹھہر جاتا۔ اسے لگتا جیسے وہ سیاہی سے کوئی جملہ نہیں بلکہ کسی کی سانس روکنے جا رہا ہو۔
لوگ کہتے تھے کہ اسے اختتام لکھنے کا ہنر نہیں آتا۔
وہ سوچتا تھا شاید اسے اختتام پر یقین ہی نہیں۔
وہ حد سے زیادہ حساس تھا۔ کسی بھوکے آدمی کو دیکھتا تو اپنی بھوک بھول جاتا۔ کسی اسپتال کی راہداری سے گزرتے ہوئے کوئی کراہ سن لیتا تو وہ آواز گھر تک اس کے ساتھ آتی۔ بچوں کے آنسو اسے ہمیشہ اپنی شکست محسوس ہوتے۔
اسے سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی تھی کہ وہ دوسروں کا دکھ دیکھ سکتا تھا مگر اسے ختم نہیں کر سکتا تھا۔
ایک رات اس نے اپنی سب سے ادھوری کہانی سامنے رکھی۔
بہت دیر تک خالی آخری صفحے کو دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا:
“آج اسے ختم کر دوں گا۔”
ایک لمحے بعد اس نے خود ہی جملہ مکمل کیا:
“یا خود کو۔”
اسی وقت شہر ایک دھماکے سے لرز اٹھا۔
پھر دوسرا دھماکہ۔
پھر سائرن۔
پھر بھاگتے قدم۔
وہ باہر نکلا۔
سڑک پر لوگ زخمیوں کو اٹھا رہے تھے۔ کوئی اپنے کپڑے پھاڑ کر زخم باندھ رہا تھا۔ کوئی کسی اجنبی کے لیے پانی لے کر دوڑ رہا تھا۔ کوئی کسی اجنبی کی لاش کے پاس بیٹھا اس کا چہرہ صاف کر رہا تھا جیسے موت کے بعد بھی انسان کی عزت باقی رہتی ہو۔
وہ سب دیکھتا رہا۔
اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ شاید دنیا مکمل طور پر مر نہیں گئی۔
وہ واپس اپنے کمرے میں آیا۔
کاغذ پر لکھا:
“اس دنیا میں رہنے کا اب کوئی سبب نہیں تھا۔”
پھر قلم رک گیا۔
کھڑکی کے باہر سے بچے کے رونے کی آواز آئی۔
وہ نیچے اترا۔
سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا بچہ بیٹھا تھا۔ ہجوم چھٹ چکا تھا۔ وہ کسی کو ڈھونڈ نہیں رہا تھا۔ شاید اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ کس کو ڈھونڈنا ہے۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔
کچھ پوچھنے کے بجائے اپنا ہاتھ آگے کر دیا۔
بچے نے پہلے ہاتھ کو دیکھا، پھر اس کا چہرہ۔
اور خاموشی سے انگلی تھام لی۔
وہ اسے اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔
اس رات اس نے اپنی کہانی کا اختتام نہیں لکھا۔
صبح میز پر کاغذ ویسے ہی پڑا تھا۔
آخری سطر ادھوری تھی:
“اور پھر اسے معلوم ہوا کہ…”
اس کے نیچے ایک نئی سطر لکھی تھی۔
ٹیڑھی میڑھی، بے ترتیب، شاید بچے نے لکھی تھی:
“کہانی ابھی باقی ہے۔”
وہ دیر تک اس سطر کو دیکھتا رہا۔
پھر پہلی بار اسے سمجھ آیا کہ بعض کہانیاں اس لیے ادھوری نہیں رہتیں کہ مصنف انہیں مکمل نہیں کر پاتا۔
وہ اس لیے ادھوری رہتی ہیں کہ زندگی نے ابھی مصنف کا قلم نہیں روکا ہوتا، بلکہ اسے اگلی سطر جینے کے لیے تھما رکھا ہوتا ہے۔

اور اُس دن اُس نے قلم نہیں اٹھایا۔
اُس نے زندگی اٹھا لی۔۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top