اللہ خوبصورت ہے

(نعیم اللہ باجوہ آسٹریلیا)

کائنات کی پہلی صدا شاید حسن کی صدا تھی۔
جب کچھ بھی نہ تھا، تب اُس ذات نے تخلیق کا آغاز کیا۔ اندھیروں سے روشنی نکالی، خاموشی سے نغمے پیدا کیے، مٹی سے زندگی تراشی، بے جان ذروں میں حرکت رکھی، اور پھر انسان کو صرف وجود نہیں دیا بلکہ شعور بھی عطا کیا؛ تاکہ وہ دیکھ سکے، محسوس کر سکے اور پہچان سکے کہ اس وسیع کائنات کے پیچھے ایک ایسا جمال ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔
اللہ خوبصورت ہے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ کائنات کو دیکھنے کا زاویہ ہے۔ یہ اعلان ہے کہ اصل حسن کسی چہرے، کسی منظر یا کسی چیز میں محدود نہیں، بلکہ ہر خوبصورتی اسی ازلی حسن کا ایک عکس ہے۔
پھول کی پنکھڑی میں جو نزاکت ہے، پرندے کی آواز میں جو مٹھاس ہے، ماں کی محبت میں جو پاکیزگی ہے، کسی آنکھ کے آنسو میں جو سچائی ہے، کسی دل کی معافی میں جو عظمت ہے۔۔یہ سب اسی جمالِ مطلق کی چھوٹی چھوٹی جھلکیاں ہیں۔
انسان اکثر حسن کو صرف آنکھ سے تلاش کرتا ہے، حالانکہ حسن کا اصل مقام دل ہے۔
خوبصورت چہرے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں، مگر خوبصورت کردار وقت کو بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ ایک نرم لہجہ، ایک سچا وعدہ، ایک بے لوث خدمت، ایک خاموش قربانی، ایک معاف کر دینے والا دل۔۔یہ وہ حسن ہے جس پر وقت کی گرد نہیں بیٹھتی۔
اسی لیے نیکی خوبصورت ہے اور بدی بدصورت۔
جھوٹ صرف زبان کی خرابی نہیں، روح کی بدصورتی ہے۔ تکبر صرف رویے کی سختی نہیں، باطن کی ویرانی ہے۔ ظلم صرف کسی پر زیادتی نہیں، انسان کے اندر موجود حسن کا قتل ہے۔ اس کے برعکس رحم، عدل، عاجزی، محبت اور احسان وہ پھول ہیں جو انسان کے کردار میں کھلتے ہیں۔
جس دل میں اللہ کی پہچان اترتی ہے، اس دل میں حسن کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔
پھر انسان صرف خوبصورت چیزیں نہیں دیکھتا، خوبصورت بننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے الفاظ کو پاکیزہ کرتا ہے، اپنے رویوں کو نرم کرتا ہے، اپنے غصے کو قابو کرتا ہے، اپنے دل سے کینہ نکالتا ہے۔ کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ اللہ نے اسے صرف دنیا میں رہنے کے لیے نہیں، بلکہ دنیا کو اپنے وجود سے بہتر بنانے کے لیے بھیجا ہے۔
حسن کا سب سے بڑا دشمن غرور ہے۔
غرور انسان کو اپنے وجود کے خول میں قید کر دیتا ہے، جبکہ عاجزی انسان کو کائنات سے جوڑ دیتی ہے۔ درخت جب پھل سے بھر جاتا ہے تو جھک جاتا ہے، اور انسان جب معرفت سے بھرنے لگتا ہے تو اُس کے اندر انکسار پیدا ہونے لگتا ہے۔
شاید اللہ کا ایک بڑا کرم یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو ایک دن اپنی خامیاں دکھا دیتا ہے۔ کیونکہ جب تک انسان خود کو مکمل سمجھتا ہے، وہ سنورنے کا سفر شروع نہیں کرتا۔ اپنی کمزوریوں کا ادراک بھی حسن کی طرف پہلا قدم ہے۔
حقیقی حسن یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ ٹوٹے؛ حقیقی حسن یہ ہے کہ ٹوٹ کر بھی دل میں روشنی باقی رکھے۔ یہ نہیں کہ انسان کبھی غلطی نہ کرے؛ بلکہ یہ کہ غلطی کے بعد لوٹ آنے کی صلاحیت رکھے۔
کائنات میں سب سے خوبصورت منظر شاید وہ نہیں جو آنکھ دیکھتی ہے، بلکہ وہ ہے جو روح محسوس کرتی ہے۔
ایک ماں کی دعا، ایک باپ کی خاموش قربانی، ایک غریب کا صبر، ایک مظلوم کی معافی، ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے آسانی بن جانا۔۔یہ وہ جمال ہے جسے صرف وہی آنکھ دیکھ سکتی ہے جس پر محبت کی روشنی ہو۔
آج انسان نے حسن کو بازار کی چیز بنا دیا ہے۔ چہروں کی نمائش بڑھ گئی، مگر کردار کی خوبصورتی کم ہو گئی۔ عمارتیں بلند ہو گئیں، مگر دل چھوٹے ہو گئے۔ آوازیں بلند ہو گئیں، مگر الفاظ سے مٹھاس رخصت ہونے لگی۔
ایسے وقت میں ہمیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ حسن صرف دکھانے کی چیز نہیں، اختیار کرنے کی چیز ہے۔
اگر اللہ خوبصورت ہے تو اُس کی مخلوق میں حسن کا احترام بھی عبادت کا ایک راستہ ہے۔ کسی دل کو نہ توڑنا، کسی انسان کو حقیر نہ سمجھنا، کسی کمزور پر رحم کرنا، کسی غم زدہ کے لیے سایہ بن جانا۔۔یہ سب حسن کے سفر کے مرحلے ہیں۔
انسان جب حسن کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے لگتا ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔
پھر وہ کانٹوں میں بھی پھول کا امکان تلاش کرتا ہے، اندھیروں میں بھی روشنی کا راستہ دیکھتا ہے، اور انسانوں میں خامیاں نہیں بلکہ اللہ کی کاریگری کے آثار تلاش کرتا ہے۔
کیونکہ جس دل میں جمالِ الٰہی کی پہچان پیدا ہو جائے، وہاں نفرت زیادہ دیر قیام نہیں کر سکتی۔
آخرکار، انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ دنیا اسے خوبصورت کہے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عطا کردہ خوبصورتی کو اپنے کردار، اپنے عمل اور اپنے تعلقات میں ظاہر کر دے۔
کیونکہ حسن کا سب سے بلند مقام چہرے پر نہیں، روح پر ہوتا ہے۔
اور جب روح خوبصورت ہو جائے تو انسان جہاں بھی جاتا ہے، وہاں تھوڑی سی روشنی، تھوڑی سی محبت اور تھوڑا سا حسن چھوڑ جاتا ہے۔
اللہ خوبصورت ہے، اور وہ خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔

اپنی رائے سے آگاہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top